برطانیہ کی عدالت نے پاکستانی نژاد ٹک ٹاکر اور انفلوئنسر مہک بخاری کی دوہری قتل کے کیس میں سزا میں تقریباً پانچ سال کمی کر دی ہے۔
عدالت نے مہک بخاری کی سزا 31 سال 8 ماہ سے کم کر کے 26 سال 285 دن کر دی ہے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ مجرم کی کم عمری اور ناپختگی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ ریلیف دیا گیا ہے۔ اس کیس میں مہک بخاری کی والدہ انسرین بخاری کی سزا برقرار رکھی گئی ہے، جب کہ دیگر مجرمان ناتاشا اختر، امیر جمال اور ثناف گل مستفیٰ کی سزائیں بھی کم کی گئی ہیں۔مہک بخاری اور ان کی والدہ کو 2023 سے جیل میں قید ہیں، اور ان پر الزام تھا کہ انہوں نے روڈ حادثے میں دو پاکستانی جوانوں، ثاقب حسین اور ہاشم اعجاز الدین، کو جان بوجھ کر ہلاک کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب مہک بخاری کی والدہ کا نوجوان ثاقب حسین کے ساتھ معاشقہ تھا، اور بعد میں تعلقات ختم کرنا چاہتی تھیں، جس کے بعد مہک بخاری نے نوجوان کو قتل کرنے کا منصوبہ بنایا۔