لاہور میں فضائی آلودگی کا خطرناک اضافہ، دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل

لاہور میں فضائی آلودگی کا خطرناک اضافہ، دنیا کے سب سے آلودہ شہروں میں شامل

لاہور شدید فضائی آلودگی کے باعث دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو گیا ہے۔

شہر میں ایئر کوالٹی انڈیکس کی مجموعی سطح 483 ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ بہت خطرناک سطح ہے۔ مختلف علاقوں میں فضائی آلودگی کی شرح 750 سے بھی تجاوز کر چکی ہے، جس سے شہر کے مختلف حصوں میں حد نگاہ محدود ہو گئی ہے۔سی ای آر پی آفس کے اطراف آلودگی کی شرح 764، اقبال ٹاؤن میں 692، پاور زون ہیڈ آفس میں 626، ماڈل ٹاؤن میں 607، شادمان میں 597 اور سول سیکرٹریٹ میں 596 ریکارڈ کی گئی ہے۔ ماہرین نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ غیر ضروری طور پر گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں تاکہ صحت پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔موسمی تبدیلی اور بڑھتی ہوئی فضائی آلودگی کے باعث سانس اور جلد کے امراض میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ معروف ماہرِ طب پروفیسر ڈاکٹر جاوید اکرم کا کہنا ہے کہ لاہور اب دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہو چکا ہے، جس کے باعث شہریوں کی صحت بری طرح متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بزرگ افراد اور بچے سب سے زیادہ آلودگی سے متاثر ہوتے ہیں، اور پہلے سے بیماری میں مبتلا افراد کے لیے یہ صورتحال انتہائی مہلک ثابت ہو سکتی ہے۔پروفیسر جاوید اکرم نے شہریوں کو مشورہ دیا کہ وہ کھلی فضا میں نکلتے وقت لازمی طور پر ماسک استعمال کریں، پانی کا زیادہ استعمال کریں تاکہ آلودگی کے منفی اثرات سے بچا جا سکے۔ انہوں نے یہ بھی تجویز دی کہ بزرگ اور بیمار افراد کو نمونیا سے بچاؤ کی ویکسین ضرور لگوانی چاہیے تاکہ موسمی بیماریوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔حکومتی اورماحولیاتی اداروں نے فضائی معیار بہتر بنانے کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے، تاکہ شہری صحت کو لاحق خطرات کم کیے جا سکیں۔