پاکستان میں عوامی خدمت پر مبنی سول سروس نظام کی ضرورت ہے احسن اقبال

تعلیمی اداروں کو تحقیق کے ذریعے پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرنی چاہیے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے،
مقامی حقائق کو سمجھے بغیر علاقائی ترقی کے پائیدار اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے:پنجاب یونیورسٹی میں عالمی کانفرنس سے خطاب
لاہور(آئی این پی)وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال نے کہا ہے  مقامی حقائق کو سمجھے بغیر علاقائی ترقی کے پائیدار اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے، تعلیمی اداروں کو تحقیق کے ذریعے پالیسی سازی میں رہنمائی فراہم کرنی چاہیے تاکہ ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے،پاکستان کو21 ویں صدی کے چیلنجز سے ہم آہنگ، جدید، شفاف اور عوام سے جڑا ہوا سول سروس نظام درکار ہے،حکومت ایک جامع اصلاحاتی فریم ورک کے تحت بیوروکریسی کو نئی روح،مقصد اور توانائی کے ساتھ متحرک کر رہی ہے۔وہ پنجاب یونیورسٹی میںمقامی حقائق اور علاقائی مستقبل کے موضوع پر منعقدہ عالمی کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے‘ احسن اقبال نے کہا کہ دنیا تیزی سے بدل رہی ہے، ٹیکنالوجی، موسمیاتی بحران، آبادی کے دبائو اور جغرافیائی تبدیلیوں نے حکمرانی کے روایتی ڈھانچے کو چیلنج کر دیا ہے،ایسے میں وہی ممالک آگے بڑھیں گے جو اپنی سول سروس کو علم، مہارت، شفافیت اور عوامی خدمت کے اصولوں پر استوار کریں گے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا موجودہ سول سروس ڈھانچہ برطانوی نوآبادیاتی دور کی باقیات ہے،جو اس وقت بنایا گیا جب مقصد قانون و نظم اور ٹیکس وصولی تھا،ترقی و تبدیلی نہیں۔آج کے دور میں ہمیں ایسے نظام کی ضرورت ہے جو استحکام کی بجائے جدت، مراتب کے بجائے اشتراک اور طریقہ کار کی بجائے نتائج کو ترجیح دے۔احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے سول سروس اصلاحات کیلئے ایک جامع فریم ورک تیار کیا ہے جس کی بنیاد سمارٹ اصولوں پر رکھی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت سی ایس ایس امتحان میں بنیادی اصلاحات کر رہی ہے تاکہ اس کا محور انگریزی دانی کی بجائے تنقیدی سوچ،تجزیاتی صلاحیت اور پالیسی فہم ہو۔انہوں نے کہا کہ ہم نے انگریزی کو ترقی کی نہیں بلکہ اشرافیہ کے قبضے کا ذریعہ بنا دیا ہے،اس سوچ کو بدلنے کا وقت آ گیا ہے