خامنہ ای کی نماز جنازہ‘شہبازشریف آج ایران جائینگے
سندھ طاس معاہدے کے خاتمے یا پیچھے ہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی‘ پانی کو سیاسی دبائو یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا
حکومت پاک بھارت وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط کے معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی، یہ اقدام ذاتی حیثیت میں کیا گیا ہے
افغانستان میں دہشت گردوں کو انتہائی احتیاط سے نشانہ بنایا:ترجمان دفترخارجہ
اسلام آباد( آئی این پی )ترجمان دفتر خارجہ طاہر حسین اندرابی نے بھارت کو دوٹوک الفاظ میں خبردار کیا ہے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس سے پیچھیہٹنے کی کوئی بھی کوشش غیر قانونی، یکطرفہ اور عالمی قانون کے سراسر خلاف ہوگی، پانی کو سیاسی دبائو یا کسی کو مجبور کرنے کے ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا،پاکستان پانی کی تقسیم سے متعلق کسی بھی جامع مذاکراتی عمل میں چین کی شمولیت کی حمایت کرتا ہے،وزیراعظم محمد شہباز شریف آج ایران اور ترکیہ کے دورے پر روانہ ہوں گے، وہ ایران کے شہید رہبرِ اعلی آیت اللہ علی خامنہ ای کی نماز جنازہ میں شرکت کریں گے،افغانستان میں دہشت گردوں کو انتہائی احتیاط سے نشانہ بنایا،پاکستانی شہریوں کا تحفظ اولین ترجیح ہے، کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا،دوحہ مذاکرات میںفریقین نے مختلف امور پر بات چیت جاری رکھنے اور جلد آئندہ اجلاس منعقد کرنے پر اتفاق کیا ہے،پاکستان کے ذریعے 70 سے زائد ایرانی شہری وطن واپس پہنچ گئے ہیں،پاکستان قطری شراکت داروں کے ساتھ امریکہ ،ایران کے درمیان سہولت کار، ثالث کے کردار کو جاری رکھے گا ۔ان خیالات کااظہار دفتر خارجہ کے ترجمان نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کیا ۔۔ترجمان نے کہا کہ بھارت پاکستان کے انتظامی نوعیت کے معاملات پر اعتراضات اٹھانے کے بجائے اپنے ملک میں مذہبی اقلیتوں کے تحفظ کے لئے موثر اقدامات کرے۔ بھارت ہو یا کوئی اور ملک پاکستان کو بنجر نہیں بنا سکتا۔پاک بھارت وزرائے اعظم کو لکھے گئے خط سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ حکومت اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کرے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ خط لکھنے والی شخصیات نے یہ اقدام اپنی ذاتی حیثیت میں کیا ہے۔دریں اثناء زیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے۔وزیراعظم شہباز شریف سے وفاقی وزیر برائے امورِ کشمیر و گلگت بلتستان امیر مقام نے ملاقات کی، جس میں ملک کی مجموعی سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔اس موقع پر وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوامی خدمت کے ایجنڈے کو مزید تیزی سے آگے بڑھایا جائے اور عوامی مسائل کے حل کو اولین ترجیح دی جائے، جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کی ترقی، خوشحالی اور عوامی فلاح کیلئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے