وزراء کی وزیراعلیٰ سندھ کو بجٹ میں کفایت شعاری اور غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کی تجویز

وزراء کی وزیراعلیٰ سندھ کو بجٹ میں کفایت شعاری اور غیر ترقیاتی اخراجات کم کرنے کی تجویز

کراچی: وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت صوبائی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی تجاویز پر غور کیا گیا۔

 اجلاس میں وزراء، مشیران، چیف سیکریٹری آصف حیدر شاہ، اور متعلقہ سیکریٹریز نے شرکت کی۔وزیراعلیٰ مراد علی شاہ نے اجلاس کے دوران کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر صوبے کے تمام اضلاع سے بجٹ تجاویز طلب کی گئی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ نئے بجٹ میں پانی کی فراہمی، نکاسی آب، سولر انرجی، تعلیم، صحت، زراعت اور صنعتی ترقی کو ترجیح دی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ مالی سال میں کوئی نئی اسکیم شامل نہیں کی گئی، تاہم حکومت نے جاری اسکیموں کی تکمیل پر زور دیا۔ نئے مالی سال میں بلاول بھٹو زرداری کی ہدایت پر نئی ترقیاتی اسکیمیں شامل کی جائیں گی جن کے لیے محکموں، ذیلی اداروں اور اضلاع سے تجاویز موصول ہو چکی ہیں۔مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت نئے منصوبے شروع کیے جائیں گے جبکہ غربت کے خاتمے اور سماجی تحفظ کے لیے خصوصی فنڈز مختص کیے جائیں گے۔

 اسپتالوں کے آلات کی بہتری اور دیکھ بھال کے لیے بھی بجٹ میں اضافہ کیا جائے گا، اور کراچی کے چند ٹرانسپورٹ منصوبے نئے سال میں مکمل ہوں گے۔اجلاس میں وزراء نے وزیراعلیٰ کو متعدد تجاویز دیں، جن میں غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی، بلدیاتی اداروں کو خود کفیل بنانے، لوکل گورنمنٹ کو مضبوط کرنے، اور ڈیجیٹل کیش ٹرانسفر کو متحرک کرنے پر زور دیا گیا۔صوبائی کابینہ نے سالڈ ویسٹ مینجمنٹ سسٹم کو مزید اضلاع میں وسعت دینے، بجلی کی ضروریات کے لیے سولر سسٹم کو وسعت دینے، اور مختلف اضلاع میں جدید بس اسٹینڈز کی تعمیر کی تجاویز بھی پیش کیں۔اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے اعلان کیا کہ عید کے بعد بجٹ تجاویز کو حتمی شکل دینے کے لیے مزید اجلاس منعقد کیے جائیں گے۔