وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات، توانائی کی بچت اور کفایت شعاری کے اقدامات کے نفاذ کے حوالے سے اہم جائزہ اجلاس ہوا۔
اجلاس میں خطے میں موجودہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر معاشی استحکام کے لیے کفایت شعاری کے فیصلوں پر عمل درآمد پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔اجلاس کو پنجاب، خیبر پختونخوا، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور اسلام آباد میں آج سے نافذ العمل بازار اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کے انتظامات پر بھی بریفنگ دی گئی۔وزیراعظم نے کہا کہ علاقائی صورتحال کی سنگینی کے پیش نظر پوری قوم کو مل کر پیٹرول کی بچت اور کفایت شعاری کی مہم میں اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی ناقابل معافی ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ ملک میں بجلی کی پیداوار کا ایک حصہ پیٹرولیم مصنوعات پر منحصر ہے، اس لیے مارکیٹس اور شاپنگ مالز رات 8 بجے بند کرنے کے اقدامات کا مقصد زر مبادلہ بچانا اور بجلی کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنانا ہے۔ سندھ حکومت کے ساتھ اس ضمن میں مشاورت جاری ہے۔
صوبائی حکومتوں سے تیل پر سبسڈی کے حامل افراد کے کوائف موصول ہونا شروع ہو گئے ہیں اور تصدیق کے بعد ایک شفاف ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سبسڈی کی ادائیگی کی جا رہی ہے۔ وزارت آئی ٹی اور سٹیٹ بینک آف پاکستان کے اشتراک سے 4 اپریل سے مال بردار گاڑیاں، بسیں اور ٹرک سبسڈی کے تحت تسلسل کے ساتھ ایندھن حاصل کر رہے ہیں۔اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزرا، چاروں صوبوں، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹریز، آئی جی پولیس اور دیگر اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی۔