پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے اخراجات میں کمی، ایندھن کی بچت اور توانائی کے مؤثر استعمال کے لیے نئے کفایت شعاری اقدامات نافذ کر دیے ہیں، جن کے تحت سرکاری ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں 50 فیصد کمی سمیت متعدد اقدامات کیے گئے ہیں۔
جاری ہدایات کے مطابق پنجاب اسمبلی میں سکیورٹی گاڑیوں کی تعداد بھی محدود کرتے ہوئے ایک ایسکارٹ گاڑی تک کر دی گئی ہے۔ غیر ضروری لائٹس اور برقی آلات بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ توانائی کی کھپت میں 70 فیصد کمی کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔کفایت شعاری کے تحت اسمبلی اجلاسوں کو توانائی بچانے کے لیے غروبِ آفتاب سے قبل شیڈول کیا جا سکے گا۔ اسی طرح سٹینڈنگ کمیٹیوں کے اجلاسوں کی تعداد کم سے کم رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے جبکہ ناگزیر اجلاس آن لائن منعقد کیے جائیں گے۔پنجاب اسمبلی میں ہر قسم کی نئی گاڑیوں کی خریداری پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم پابندی سے قبل شروع کیے گئے پروکیورمنٹ کے عمل کو اس سے مستثنیٰ قرار دیا گیا ہے۔دوسری جانب پنجاب اسمبلی کے ارکان اور افسران کے غیر ملکی دوروں پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔ بین الاقوامی ترقیاتی اداروں کی اسکالرشپس کے تحت ہونے والے دورے اس پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے، تاہم ایسے دوروں کے دوران ارکان اور افسران اکانومی کلاس میں سفر کریں گے۔
ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ضروری روزمرہ اشیا کے علاوہ دیگر تمام خریداری کو کم سے کم سطح پر رکھا جائے۔ پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں پیپر لیس ورکنگ ماحول اپنانے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کاغذ کے استعمال اور متعلقہ اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔کفایت شعاری کے اقدامات کے تحت غیر ملکی وفود کے علاوہ سرکاری عشائیوں پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اسمبلی اجلاس کے دوران ضرورت کے مطابق ان اقدامات میں مناسب تبدیلی کی اجازت ہوگی۔کفایت شعاری کے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ کمیٹی بھی قائم کر دی گئی ہے، جس کی سربراہی سیکرٹری جنرل کریں گے۔ کمیٹی کی ذمہ داری اقدامات کی نگرانی اور ان پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانا ہوگی۔پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ نے کفایت شعاری، توانائی اور ایندھن کی بچت سے متعلق تمام اقدامات پر عملدرآمد کے لیے باقاعدہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔