پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی: بھارت نے فرانسیسی آڈیٹرز کو طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا

پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی: بھارت نے فرانسیسی آڈیٹرز کو طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا

 بھارت نے معرکۂ حق "آپریشن بنیان مرصوص" کے دوران پاکستان کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی تباہی کے بعد فرانسیسی ماہرین کو ان طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا ہے۔

 امریکی جریدے دی نیشنل انٹرسٹ نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ رافیل بنانے والی کمپنی ڈاسو (Dassault Aviation) کے فرانسیسی آڈیٹرز ان طیاروں میں ممکنہ فنی خرابی کا جائزہ لینے کے لیے بھارت کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔رپورٹ کے مطابق بھارت کو اندیشہ تھا کہ فرانسیسی ماہرین رافیل طیاروں کی ناقص کارکردگی کا ذمہ دار بھارتی فضائیہ کو ٹھہرا سکتے ہیں۔ اسی خدشے کے پیش نظر بھارتی حکام نے فرانسیسی ٹیم کو ان طیاروں تک رسائی دینے سے انکار کر دیا۔فرانسیسی فوج کے ترجمان نے پریس بریفنگ میں اس واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ لڑائی میں کئی طیاروں نے حصہ لیا، اس لیے مختلف پہلوؤں کی ابھی تصدیق ہونا باقی ہے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ اگر واقعی رافیل طیارے تباہ ہوئے ہیں تو یہ دو دہائیوں سے جاری اس طیارے کی آپریشنل سروس کا پہلا بڑا نقصان ہوگا۔

فرانسیسی فوج کا کہنا تھا کہ وہ اس واقعے سے زیادہ سے زیادہ سیکھنے کے خواہش مند ہیں اور حقائق کے حصول کے لیے بھارت سے براہِ راست معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔واضح رہے کہ آپریشن بنیان مرصوص کے دوران پاکستانی فضائیہ نے بھارت کی جارحیت کے جواب میں 6 بھارتی جنگی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے 3 رافیل طیارے شامل تھے۔ اس کارروائی میں دشمن کے متعدد ہتھیاروں اور ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ بھارتی حملے میں ایک مسجد کی شہادت اور کئی معصوم شہریوں کی جانیں ضائع ہوئی تھیں۔یاد رہے کہ بھارت نے فرانس سے 36 جدید رافیل طیارے خریدے تھے، جن کی کارکردگی پر یہ پہلا بڑا سوالیہ نشان ہے، اور یہی وجہ ہے کہ بھارت ان کی ناکامی کو چھپانے کے لیے بین الاقوامی ماہرین کی جانچ سے کترا رہا ہے۔