پیرس :پاکستان اور بھارت کے درمیان 6 اور 7 مئی کی درمیانی شب ہونے والی فضائی جھڑپ جسے جدید تاریخ کی خطرناک ترین "ڈوگ فائٹ" قرار دیا جا رہا ہے، عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔
اس لڑائی میں پاکستان ایئر فورس کے ہاتھوں بھارتی فضائیہ کے چھ لڑاکا طیاروں کی تباہی، جن میں تین فرانسیسی ساختہ رافیل جیٹس شامل تھے، اب ایک بین الاقوامی سطح کا سکیورٹی اور دفاعی تجزیاتی موضوع بن چکی ہے۔
فرانس کی فوج کا بیان:
فرانسیسی فوج کے ترجمان نے گزشتہ روز پیرس میں ایک پریس بریفنگ کے دوران اس لڑائی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:"یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے، جس کی تفصیلات ابھی تک مکمل طور پر تصدیق شدہ نہیں۔ ہم اس کا گہرا مطالعہ کر رہے ہیں اور اپنے پارٹنر بھارت کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں ہیں۔"ترجمان نے مزید کہا کہ اگر رافیل طیاروں کے مار گرائے جانے کی اطلاعات درست نکلیں، تو یہ رافیل فائٹر جیٹ کی تقریباً دو دہائیوں کی آپریشنل ہسٹری میں پہلا بڑا نقصان ہوگا۔ انہوں نے اس بات کی بھی تصدیق کی کہ فرانس اس لڑائی کے ہر پہلو سے سیکھنے کا خواہاں ہے۔
پاکستان ایئر فورس کی فوری اور مؤثر کارروائی:
ذرائع کے مطابق، بھارت کی جانب سے پاکستان کی مساجد پر حملے کے دو منٹ بعد ہی پاکستان ایئر فورس نے کاؤنٹر آفینسیو آپریشن کا آغاز کیا، جو 59 منٹ تک جاری رہا۔ اس مختصر دورانیے میں بھارت اپنے چھ قیمتی طیاروں سے محروم ہو گیا، جن میں جدید ترین رافیل کے علاوہ SU-30MKI اور دیگر جہاز شامل تھے۔
بھارتی خاموشی اور محتاط موقف:
9 مئی کو بھارتی فضائیہ کے ایئر مارشل اے کے بھارتی نے ایک صحافی کے سوال کے جواب میں صرف اتنا کہا:"نقصانات جنگ کا حصہ ہوتے ہیں، میں مزید تفصیل نہیں دے سکتا کیونکہ اس سے مخالف کو فائدہ ہوگا۔"بھارتی حکومت اور میڈیا نے اس معاملے پر انتہائی محتاط رویہ اختیار کیا ہے اور باضابطہ طور پر نہ نقصانات تسلیم کیے ہیں اور نہ ہی ردعمل دیا ہے۔
پس منظر: رافیل معاہدہ اور سیاسی پسپائی:
یاد رہے کہ بھارت نے 2019 میں بالاکوٹ واقعے کے بعد فرانس سے 36 رافیل طیارے خریدے تھے تاکہ پاکستان پر برتری حاصل کی جا سکے۔ لیکن حالیہ جھڑپ میں انہی طیاروں کی تباہی نے نہ صرف بھارتی عسکری صلاحیت پر سوالات اٹھائے ہیں بلکہ نریندر مودی حکومت کی اسٹریٹیجک سوچ کو بھی تنقید کی زد میں لایا ہے۔
پاکستانی دفاعی ماہرین کا تبصرہ:
پاکستانی عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ:"ہم نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ یہ جنگی ساز و سامان جس پر بھارت انحصار کر رہا ہے، میدان جنگ میں کارگر ثابت نہیں ہوگا۔ مودی حکومت چاہے جتنا بھی چھپائے، تباہ شدہ جہاز بنانے والی کمپنیاں خود اصل صورتحال جاننے کے لیے سامنے آئیں گی۔"