آپریشن سندور میں پاکستانی فضائیہ کے ہاتھوں رافیل طیاروں کی کارکردگی پر سوالات اٹھنے کے باوجود مودی حکومت کی جانب سے فرانس کے ساتھ مزید طیاروں کے معاہدے کی کوشش جاری ہے۔
بھارتی میڈیا، خصوصاً ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، آپریشن سندور کے بعد اسکواڈرن کی کمی پورا کرنے کے لیے بھارت نے مزید رافیل طیارے خریدنے کا عمل تیز کر دیا ہے۔ بھارتی فضائیہ نے اس حکومتی اقدام کی بھرپور حمایت کی ہے اور دفاعی منصوبے MRFA کے تحت رافیل طیارے غیر ملکی تعاون سے بھارت میں تیار کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔دفاعی ذرائع کا کہنا ہے کہ بھارتی فضائیہ آئندہ دو ماہ میں دفاعی حصولیاتی کونسل سے ابتدائی منظوری حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس وقت اسکواڈرن کی تعداد 29 تک کم ہو چکی ہے، جس کے پیش نظر فضائیہ فوری کارروائی چاہتی ہے۔ناقدین کا مؤقف ہے کہ پیشہ ورانہ صلاحیت اور تربیت کی کمی کے باوجود مہنگے طیاروں پر سرمایہ لگانا بھارت کے لیے مہنگی خود فریبی ثابت ہوگا۔
آپریشن سندور میں پاک فضائیہ کے جے-10C نے رافیل اور SU-30MKI کے مقابلے میں واضح برتری دکھائی، جس نے بھارتی فضائیہ کی پیشہ ورانہ کمزوری، سیاسی اثر و رسوخ اور کرپشن کو بے نقاب کیا۔تجزیہ کاروں کے مطابق، فضائی لڑائیاں صرف جدید ہتھیاروں سے نہیں بلکہ پائلٹس کی مہارت اور تربیت سے جیتی جاتی ہیں، جبکہ بھارتی عسکری قیادت کا جھکاؤ سیاسی بیانیوں، ہندو توا نعرے اور اندرونی بدعنوانی کی طرف ہے، جس کا نتیجہ ہر بار بھارت کے لیے شرمناک شکست کی صورت میں نکلتا ہے۔