اضافی چینی برآمد کی اجازت دی جائے:شوگر ملز ایسوسی ایشن

 کرشنگ سیزن کے اختتام تک ٹوٹل سٹاک 80لاکھ، 71ہزار ٹن موجود ہو گا 
ساڑھے10لاکھ ٹن اضافی چینی ہو گی:چیئرمین ذکا اشرف ودیگر ،پریس کانفرنس
 لاہور (خصوصی رپورٹ)پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اضافی چینی کے ذخائر اور بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کے پیش نظر فوری طور پر چینی کی برآمد کی اجازت دی جائے تاکہ ملکی معیشت کو سہارا مل سکے اور قیمتی زرِمبادلہ حاصل کیا جا سکے،کرشنگ سیزن کے اختتام تک چینی کا ٹوٹل سٹاک 80لاکھ، 71ہزار ٹن موجود ہو گا جبکہ 13ماہ کی کھپت تقریباً 70لاکھ، 20ہزار ٹن ہے، لہٰذا اس دفعہ تقریباً10لاکھ 50ہزار ٹن اضافی چینی موجود ہو گی۔اس امر کا اظہار چیئرمین پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن چودھری محمد ذکاء￿  اشرف نے دیگر عہدیداروں کیساتھ مقامی ہوٹل میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ شوگر انڈسٹری وفاقی، صوبائی اور مقامی حکومتوں کو تقریباً 300ارب روپے کے براہِ راست اور بالواسطہ ٹیکس ادا کرتی ہے۔ حکومت پاکستان کی جانب سے بارہا یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ شوگر سیکٹر کو ڈی ریگولیٹ کیا جائے گا مگر ابھی تک اس پر عملدرآمد نہیں ہوا۔ شوگر انڈسٹری بگاس کے استعمال کے ذریعے اپنی مقامی توانائی استعمال کرتی ہے۔ پاکستان میں ایتھانول بلینڈنگ پالیسی دوبارہ بحال کرنے کی ضرورت ہے۔ پیڑول میں ایتھانول بلینڈنگ اپنانے کے فوری پالیسی اقدام کے ذریعے ہم موجودہ بلند قیمتوں پر درآمدات میں اربوں ڈالر کی بچت کر سکتے ہیں، وسطی ایشیائی ریاستیں، افغانستان اور چین پاکستانی سفید چینی کے لئے بڑی منڈیاں ہیں، جن سے بھارت ہماری ان علاقوں سے قربت اور کم ٹرانسپورٹ لاگت کے باوجودفائدہ اٹھا رہا ہے۔ اس کرشنگ سیزن کے آغاز میں 2 لاکھ 71ہزار ٹن چینی کا ذخیرہ موجود تھا۔ 25مارچ2026ء￿  کے اعداد وشمار کے مطابق اب تک تقریباً 75لاکھ ٹن چینی پیدا ہوئی ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ چینی کی پیداوار 77لاکھ ٹن تک پہنچ جائے گی جبکہ ایک لاکھ ٹن چینی چقندر سے بھی حاصل ہوگی۔ شوگر انڈسٹری اس وقت پیداواری لاگت میں اضافے اور چینی کے اضافی ذخائر برقرار رکھنے کے باعث شدید نقصانات کا سامنا کر رہی ہے، لہٰذا چینی برآمد کی اجازت دی جائے۔