ساڑھے 12 لاکھ ٹن چینی سرپلس ہے جس میں سے 10 لاکھ ٹن چینی کو فوری برآمد کیا جائے
کرشنگ سیزن شروع ہونے والا ہے‘فیصلے میں تاخیر صنعت اور کسانوں کو تباہ کر دے گی:ترجمان
لاہور(خصوصی رپورٹر)پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کی جنرل باڈی نے حکومت کی جانب سے 2 لاکھ ٹن چینی برآمد کرنے کے فیصلے کہا ہے اب وقت آ چکا ہے شوگر سیکٹر کو مکمل طور پر ڈی ریگولیٹ کر دیا جائے جس کا ملکی کاشتکار تنظیمیں بھی پرزور مطالبہ کر رہی ہیں۔ترجمان کے مطابق شوگر انڈسٹری فروری 2026 سے مسلسل یہ استدعاکرتی رہی ہے کرشنگ سیزن 26-2025 کے اختتام پر اضافی چینی پیدا ہوئی جس کو فوری طور پر برآمد کیا جانا چاہیے۔ متعدد حکومتی اجلاسوں میں، خطوط اور میڈیا کے ذریعے حکومت کے سامنے گزارشات پیش کی گئیں کہ ملک میں ساڑھے 12 لاکھ ٹن چینی سرپلس ہے جس میں سے 10 لاکھ ٹن چینی کو فوری برآمد کیا جائے۔ آئندہ کرشنگ سیزن کی شروعات عنقریب ہیں اور اْس میں تاخیر صنعت اور کسانوں کو تباہ کر دے گی۔شوگر انڈسٹری امید کرتی ہے باقی 8 لاکھ ٹن چینی بھی جلد برا?مد کرنے کے اقدامات کیے جائیں گے۔ شوگر ملوں کو سرپلس اسٹاک رکھنے کیلئے اضافی اخراجات برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔ جس میں بینکوں کے قرضہ جات پر مارک-اپ بھی شامل ہیں۔ گنے کی قیمتوں، ٹیکسز، اْجرت اور درآمد شدہ کیمیکلز کی قیمتوں میں مسلسل اضافے کی وجہ سے شوگر ملوں کی پیداواری لاگت میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے جبکہ چینی کی قیمتیں پیداواری لاگت سے بہت کم ہیں جو کہ ملوں کے مالی حالات کو گھمبیر بنا رہے ہیں جس کی وجہ سے شوگر ملوں کو کسانوں کو گنے کی بہتر قیمت دینے اور بروقت نیا کرشنگ سیزن شروع کرنے میں مشکلات پیش آئیں گی۔