حکومت کا سمارٹ لاک ڈائون نہ لگانے کا فیصلہ

صوبوں نے لاک ڈائون کی مخالفت کردی کفایت شعاری اقدامات سخت 
اسلام آباد(بیورو رپورٹ)صدر آصف علی زرداری کی زیر صدارت قومی قیادت کے مشاورتی اجلاس میں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ کی مخالفت کے پیش نظر ملک بھر میںسمارٹ لاک ڈائون نہ لگانے کا فیصلہ کر لیا گیا ، اجلاس میں مہنگائی کے دبائو کو کنٹرول کرنے پر بریفنگ دی گئی اور ایندھن کی وافر مقدار موجود ہونے کی یقین دہانی کراتے ہوئے کفایت شعاری اقدامات سخت کرنے کا عزم کیاگیا۔ایوان صدر میں ہونے والے اجلاس میں وزیراعظم شہباز شریف ، نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزرا اورچیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو کے علاوہ مشیر قومی سلامتی لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک ، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ ،وزیراعظم آزادکشمیر، نگران وزیراعلیٰ گلگت بلتستان نے شرکت کی۔حکومتی ذرائع کے مطابق ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈائون کے نفاذ کی تجویز پر غور کیا گیا، صوبائی حکومتوں نے ملک بھر میں سمارٹ لاک ڈائون کی مخالفت کرتے ہوئے وفاق سے لاک ڈائون نہ لگانے کی سفارش کر دی۔ اجلاس میں توانائی اور ایندھن کی بچت کیلئے اقدامات پر مکمل عملدرآمد یقینی بنانے اور صوبوں پر بھی 254 ارب کے ریلیف پیکیج میں حصہ ڈالنے پر زور دیا گیا۔صدر مملکت نے ہدایت کی کہ بڑھتی قیمتوں کا بوجھ کم کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں، انہوں نے عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کیلئے مربوط قومی حکمت عملی اپنانے پر زور دیا، اجلاس میں توانائی بحران کے علاوہ عالمی صورتحال اور علاقائی سکیورٹی امور کا بھی جائزہ لیا گیا۔آصف زرداری نے کہا کہ معیشت، توانائی، خوراک اور سکیورٹی معاملات میں مربوط فیصلے کیے جائیں، مشکل وقت میں کمزور طبقات کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، ایندھن کے استعمال میں کمی ، پبلک ٹرانسپورٹ کے فروغ کیلئے عوامی آگاہی مہم چلائی جائے۔حکومتی ارکان کا کہنا ہے کہ عالمی بحران کے باوجود ملک میں ایندھن کی سپلائی میں کوئی خلل نہیں، ملک میں تیل و گیس کے وافر ذخائر موجود ، مستقبل کیلئے بھی انتظامات جاری ہے۔وزیراعظم شہبازشریف نے کہا کہ تیل کی قیمتیں بڑھانے کی تجاویز مسترد کی گئیں، سرکاری اخراجات میں کمی، 60 فیصد سرکاری گاڑیاں فوری طور پر بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بچت سے حاصل فنڈز عوامی ریلیف کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔دوسری جانب نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے ترکیہ ، سعودی عرب اور مصر کی قیادت سے رابطوں اور ملاقاتوں سے متعلق بریف کیا اور آئندہ دورہ بیجنگ سے متعلق بھی اجلاس کو آگاہ کیا گیا۔ قبل ازیں صدر زرداری سے وزیر اعظم شہباز شریف کی ملاقات ہوئی جس میں نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار، بلاول بھٹو ، وزیرِ داخلہ محسن نقوی ،قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل عاصم ملک بھی شریک تھے۔اس موقع پر قومی سلامتی کی مجموعی صورتحال پر تفصیلی تبادلہٓ خیال کیا گیا اور خطے کی بدلتی صورتحال اور اس کے پاکستان پر اثرات کا جائزہ لیا گیا اس کے علائوہ معاشی، توانائی اور سکیورٹی چیلنجز پر مشاورت ہوئی ،قومی سطح پر مربوط حکمتِ عملی اور ادارہ جاتی ہم آہنگی پر زور دیا۔وزیراعظم شہباز شریف نے اپنی زیر صدارت جائزہ اجلاس میں کہا موجودہ حالات میں قربانی کا سلسلہ حکومتی اخراجات میں کٹوتی سے شروع کیا تاہم تیل کی قیمتوں میں اضافے کی تجاویز کو بارہا مسترد کرکے، بچت کے اقدمات سے حاصل شدہ رقم عوامی ریلیف کیلئے بروئے کار لائی گئی، کمزور اور متوسط طبقے کے لوگوں کو مزید ریلیف فراہم کرنے کیلئے کوشاں ہیں،مشکل کی اس گھڑی میں معاشی طور پر کمزور طبقے کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔بروقت فیصلوں کی بدولت ایندھن کی فراہمی میں کسی قسم کا تعطل نہیں آنے دیا گیا،پاکستان خطے میں امن کے حوالے سے سفارتی محاذ پر بھرپور کوششیں کر رہا ہے۔علاوہ ازیں وزیراعظم کو یورپی کونسل کے صدرانتونیو کوسٹا کی جانب سے ٹیلیفون کال موصول ہوئی۔دونوں رہنمائوں نے مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے ساتھ ساتھ پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔دونوں رہنمائوں نے ایران اور خلیجی ممالک میں جاری کشیدگی اور اس کے عالمی معیشت پر اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور اس بحران کے حل کیلئے مذاکرات اور سفارتکاری کی ضرورت پر زور دیا۔وزیراعظم نے یورپی کونسل کے صدر کو مشرق وسطیٰ کے بحران میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی ثالثی کوششوں سے متعلق تازہ پیش رفت سے بھی آگاہ کیا۔ یورپی کونسل کے صدر نے پاکستان کی امن کوششوں کی تائید کرتے ہوئے اس بات کا اعادہ کیا کہ یورپی یونین خطے میں امن و استحکام کی بحالی کیلئے تمام سفارتی اقدامات کی حمایت کرتی ہے۔پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ان تعلقات کو بہت اہمیت دیتا ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ گزشتہ ماہ برسلز کا ان کا طے شدہ دورہ مئوخر ہو گیا تھا۔ یورپی کونسل کے صدر نے کہا کہ وہ باہمی طور پر طے شدہ تاریخوں پر وزیراعظم کا برسلز میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔جی ایس پی پلس کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ وہ 28-29 اپریل 2026 کو اسلام آباد میں منعقد ہونے والے پہلے پاکستان-یورپی یونین بزنس فورم کا افتتاح کرنے کے منتظر ہیں۔وزیراعظم نے یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لیئین کے لیے اپنی نیک خواہشات کا بھی اظہار کیا۔انتونیو کوسٹا نے بعد ازاں سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں لکھا، ’’میری وزیر اعظم شہباز شریف کے ساتھ ایک کال پر اچھی بات ہوئی ہے، جس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ ایران جنگ ختم کرانے کی کوششوں کے حوالے سے ان کی رائے کیا ہے۔ اس کال کے دوران اس بارے میں بھی تبادلہ خیال کیا گیا کہ اسلام آباد میں ہونے والی پاکستان، سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کی حالیہ ملاقات میں مشاورت کے نتائج کیا رہے۔یورپی یونین کو طول پکڑتی جا رہی ایران جنگ پر گہری تشویش ہے اور اس جنگ کی وجہ سے عالمی سطح پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر بھی۔