وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "مثالی گاؤں پروگرام" کے تحت صوبے کے 302 دیہات میں ترقیاتی کاموں کا باقاعدہ آغاز کر دیا گیا ہے۔
اس حوالے سے ذیشان رفیق کو پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی کی جانب سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں سپیشل سیکرٹری آسیہ گل اور پی آر ایم ایس سی کے سی ای او خرم پرویز نے شرکت کی۔ وزیراعلیٰ آفس کے سیکرٹری کوآرڈینیشن نے اجلاس میں ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ کی جانب سے ابتدائی طور پر 485 دیہات میں ترقیاتی اسکیموں کی منظوری دی گئی تھی، جن میں سے 464 دیہات کے منصوبوں کی منظوری ڈسٹرکٹ ڈویلپمنٹ کمیٹیوں سے حاصل ہو چکی ہے۔مزید برآں، 357 دیہات کے لیے ورک ایوارڈ جاری کیے جا چکے ہیں، جبکہ 302 دیہات میں کنٹریکٹرز نے عملی طور پر کام شروع کر دیا ہے۔
وزیر بلدیات نے پروگرام کی مؤثر نگرانی کے لیے ڈیش بورڈ بنانے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ صوبے کے تقریباً 22,986 دیہات میں 41 ہزار سے زائد چھپڑ موجود ہیں، جن کی بحالی کے ساتھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بھی نصب کیے جائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ گلیوں، ڈرینج سسٹم اور پارکس کی بہتری کے ساتھ 200 دیہات میں واٹر سپلائی اسکیمیں بھی فراہم کی جائیں گی۔ اجلاس میں چھپڑوں کی زمین پر قائم تجاوزات کے خاتمے کے لیے خصوصی مہم چلانے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ذیشان رفیق نے متعلقہ ڈپٹی کمشنرز کو تجاوزات ہٹانے کا ٹاسک سونپنے کی ہدایت کی اور اب تک کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منصوبوں میں شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا۔