وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے "مثالی گاؤں پروگرام" پر مؤثر عملدرآمد کے لیے ضلعی سطح پر انتظامی ذمہ داریاں تفویض کر دی گئی ہیں۔
ڈسٹرکٹ آفیسر انفراسٹرکچر اینڈ سروسز (ڈی او آئی اینڈ ایس) کو ہر ضلع میں پروگرام کا ضلعی کوآرڈینیٹر مقرر کر دیا گیا ہے۔یہ فیصلہ صوبائی وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت ویڈیو لنک کے ذریعے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا، جس میں سیکرٹری بلدیات شکیل احمد، سپیشل سیکرٹری ارشد بیگ، شاہد زمان لک اور تمام ڈسٹرکٹ آفیسرز انفراسٹرکچر اینڈ سروسز نے شرکت کی۔اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ذیشان رفیق نے کہا کہ ضلعی سطح پر مؤثر نگرانی کے نظام سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت اور معیاری تکمیل کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ انہوں نے بتایا کہ متعلقہ تحصیل میں سب انجینئرز کو بھی کوآرڈینیٹر کا اضافی چارج دیا جا رہا ہے تاکہ منصوبے کی نگرانی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔صوبائی وزیر نے سیکرٹری لوکل گورنمنٹ بورڈ کو ہدایت کی کہ ڈی او آئی اینڈ ایس کے ساتھ باقاعدگی سے فالو اپ اجلاس منعقد کیے جائیں اور کنٹریکٹرز کی کارکردگی کی مسلسل نگرانی کو یقینی بنایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ترقیاتی منصوبوں میں معیار اور رفتار پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ذیشان رفیق کے مطابق پنجاب کی 10 ڈویژنز کے 485 دیہات کو ماسٹر پلاننگ کے تحت مثالی دیہات میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ جہاں ممکن ہو پہلے سے تعمیر شدہ گلیوں کو توڑنے سے گریز کیا جائے اور تمام منصوبے مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں۔