وزیر بلدیات ذیشان رفیق کی زیر صدارت مثالی گاؤں پروگرام کا اہم جائزہ اجلاس منعقد ہوا، جس میں پروگرام کی پیشرفت اور آئندہ کے لائحہ عمل پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں سپیشل سیکرٹری آسیہ گل، ایڈیشنل سیکرٹری احمر کیفی اور سی ای او پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی خرم پرویز نے شرکت کی۔اجلاس میں بتایا گیا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز کے "سوہنا پنجاب" پروگرام کے تحت مثالی گاؤں منصوبہ ایک اہم اقدام ہے۔ وزیر بلدیات کے مطابق پہلے مرحلے میں 485 دیہات کو مثالی بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے اور اس کے لیے 60 ارب روپے کی منظوری بھی دی جا چکی ہے۔ذیشان رفیق نے کہا کہ پنجاب رورل میونسپل سروسز کمپنی (PRMSC) نے 357 دیہات میں ترقیاتی سکیموں کے ورک ایوارڈ جاری کر دیے ہیں، جبکہ مزید 107 دیہات میں میونسپل سروسز کی سکیموں پر کام جاری ہے۔
مختلف ڈویژنز میں شامل دیہات کی تفصیل کچھ یوں ہے:
سرگودھا 41، ساہیوال 44، گوجرانوالہ 55، گجرات 51، ملتان 63، ڈی جی خان 39، لاہور 50،راولپنڈی 58، بہاولپور 48، فیصل آباد 36 دیہات۔
وزیر بلدیات نے واضح کیا کہ ان دیہات میں سیوریج، واٹر سپلائی، گلیوں کی تعمیر، پارکس اور سٹریٹ لائٹس جیسی بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں گی اور پہلے سے بنی گلیوں یا نالیوں کو ہرگز نہیں توڑا جائے گا۔انہوں نے روایتی چھپڑوں کی بحالی اور ان میں جمع ہونے والے پانی کی ٹریٹمنٹ کو بھی اس پروگرام کا اہم حصہ قرار دیا اور پی آر ایم ایس سی کو فوری طور پر کام شروع کرنے کی ہدایت کی۔وزیراعلیٰ کی ہدایت کے مطابق منصوبے کا پہلا مرحلہ 31 دسمبر تک مکمل کیا جائے گا، اور وزیر بلدیات نے کہا کہ موسم برسات سے قبل تمام کھدائی کے کام مکمل کیے جائیں۔