وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی رفتار کو دوگنا کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تمام محکموں کو ہدایت دی ہے کہ وہ جون تک اپنے پی سی ون مکمل کریں۔
اس حوالے سے لاہور ڈویلپمنٹ پلان کے لیے 40 ارب روپے جاری کیے گئے ہیں، اور وزیراعلیٰ نے مکمل بجٹ جاری کرنے کی ہدایت بھی کی ہے۔پنجاب کے سینئر وزیر مریم اورنگزیب کی زیرصدارت ہونے والے ترقیاتی منصوبوں کے جائزہ اجلاس میں منصوبوں کے معیار کو یقینی بنانے کے لیے تھرڈ پارٹی ویری فیکیشن کے عمل کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں منصوبوں کی رفتار، ابتک کی پیشرفت، فنڈز کے استعمال، شفافیت اور معیار کو تفصیلاً جانچا گیا۔اجلاس میں یہ بتایا گیا کہ 1250 بنیادی اور دیہی مراکز صحت کی اپ گریڈیشن مکمل کر لی گئی ہے، جب کہ 1200 ڈسپنسریوں کے قیام کے محکمہ صحت کے 432 منصوبے بھی مکمل ہوگئے ہیں اور دوسرے مرحلے کا آغاز ہو چکا ہے۔ وزیراعلیٰ کی "اپنی چھت اپنا گھر" سکیم کے تحت چار ماہ میں 80 گھروں کی تکمیل ہوئی، اور اس سکیم کے تحت ریکارڈ قرض دیے گئے ہیں۔کسانوں کے لیے مختلف سکیموں پر بھی کام جاری ہے، جیسے کسان کارڈ کے ذریعے 50 ارب روپے کا استعمال ہوا اور کسانوں نے ٹریکٹر خریدے۔
اسی طرح، کسانوں کے لیے ٹیوب ویل سکیم کے تحت ساڑھے 9 ارب روپے میں سے 2.5 ارب روپے خرچ ہوئے ہیں۔مریم اورنگزیب نے یہ بھی بتایا کہ محکمہ آثار قدیمہ کی 5 اسکیمیں مارچ میں مکمل ہو جائیں گی۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ 882 ارب روپے کا بجٹ رکھا گیا تھا، جس میں اضافے کے ساتھ 1048 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ اب تک 693 ارب روپے جاری ہو چکے ہیں اور 401 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک سال کے دوران بے مثال کام کرنے کی تعریف کی اور کہا کہ محکموں کو غیر معمولی رفتار سے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے سوئے ہوئے محکموں کو جگایا اور ہر شعبے میں تاریخی فنڈنگ کی گئی۔ اجلاس میں پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے چیئرمین نبیل احمد اعوان اور تمام صوبائی سیکرٹریز نے شرکت کی۔