سراب کے پیچھے چھپی ہوئی دنیا

سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
یہ دنیا،جوکبھی تہذیبوں کی آماجگاہ تھی،آج مفادات کے جنگل میں بدلتی جارہی ہے۔کبھی یہاں قافلے امن کے ترانے گاتے گزرتے تھے، اورعلم وحکمت کے چراغ ہرسمت روشن تھے،مگراب فضاں میں بارودکی بوہے اورافق پراٹھتے ہوئیدھوئیں کے بادل انسانیت کے چہرے کودھندلارہے ہیں۔بظاہرسب کچھ معمول کے مطابق ہیخبریں،بیانات،سفارتی لب ولہجیمگراس ظاہری سکون کے نیچے ایک ایسی ہلچل برپاہے جوتاریخ کے کسی بڑے طوفان کاپیش خیمہ معلوم ہوتی ہے۔ 
یہ عہدمحض جنگوں کانہیں،بلکہ بیانیوں کاعہد ہے۔وہ بیانیے جوحقیقت کوپرد اخفامیں رکھتے ہیں اورانسان کواس کی اپنی بصیرت سے محروم کردیتے ہیں۔ہمیں بتایاجاتاہے کہ جنگیں امن کیلئے ہیں،مداخلتیں استحکام کیلئے ہیں،اورتباہی دراصل تعمیرکاپیش خیمہ ہیمگر سوال یہ ہے کہ اگریہ سب کچھ امن کیلئیہے،توپھر دنیا کے کونے کونے میں بے چینی کیوں ہے؟اگریہ سب استحکام کیلئے ہے،توپھر انسان کی بنیادیں کیوں ہل رہی ہیں؟
یہاں سے وہ کہانی شروع ہوتی ہے جوبظاہرمختلف واقعات کامجموعہ لگتی ہے،مگردرحقیقت ایک ہی نقشے کے مختلف رنگ ہیں۔ایک ایسانقشہ جس میں طاقت کاایک مرکزپوری دنیاکو اپنے گردگھماناچاہتاہیایک ایساتصورجسے بعض حلقیون ورلڈآرڈرکے نام سے تعبیرکرتے ہیں۔یہ تصورمحض ایک سیاسی اصطلاح نہیں،بلکہ ایک ایساخواب ہے جس میں ایک ہی قوت دنیاکے وسائل،معیشت،اورحتی کہ فکروشعورپراپنی گرفت مضبوط کرناچاہتی ہے۔یہی وہ مقام ہے جہاں دل لرزتاہے اورروح سوال کرتی ہے:کیاانسان واقعی اتنابے بس ہو چکاہے کہ چندطاقتورہاتھ اس کے مقدرکافیصلہ کریں؟کیادنیاایک ایسے موڑپر کھڑی ہیجہاں انصاف کی جگہ مفاد،اوراخلاق کی جگہ طاقت نے لے لی ہے؟
اگرہم تاریخ کے اوراق پلٹیں تویہ کوئی نئی داستان نہیں۔ہردورمیں کچھ طاقتیں ایسی ابھریں جنہوں نے اپنے اقتدارکو دوام دینے کیلئیدنیا کواپنی مرضی کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کی۔مگرآج کامنظراس لیے مختلف ہے کہ اب یہ عمل زیادہ منظم،زیادہ خاموش،اور زیادہ ہمہ گیرہوچکاہے۔اب جنگیں صرف میدانوں میں نہیں ہوتیں،بلکہ معیشت،توانائی ، اطلاعات اورٹیکنالوجی کے میدانوں میں بھی لڑی جاتی ہیں۔
یہی وہ پس منظرہے جس میں ہمیں حالیہ عالمی واقعات کودیکھناہوگا۔یہ محض حادثات نہیں،بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہیں۔ایک ایسی حکمتِ عملی کاحصہ،جس کامقصد دنیاکے وسائل پر بتدریج کنٹرول حاصل کرناہیچاہے اس کیلئے کتنی ہی قربانیاں کیوں نہ دینی پڑیں،چاہے کتنے ہی خطے خاکسترکیوں نہ ہوجائیں۔صوفیا کہتے ہیں کہ دنیاایک سراب ہے جودکھائی دیتا ہے وہ حقیقت نہیں،اورجوحقیقت ہے وہ اکثر نظروں سے اوجھل رہتی ہے۔آج کی سیاست بھی اسی سراب کاعکس معلوم ہوتی ہے۔ہمیں جودکھایاجارہاہے،وہ شایداصل نہیں۔ اورجواصل ہے،وہ ہماری نگاہوں سے چھپادیا گیاہے۔
یہ تحریراسی سراب کوچاک کرنے کی ایک کوشش ہیکہ ہم واقعات کوان کے ظاہری خول سے نکال کردیکھیں،اوراس حقیقت کو پہچانیں جوان کے پس پردہ کارفرماہے۔کیونکہ جب تک ہم حقیقت کونہیں سمجھیں گے،ہم نہ اپنی رائے قائم کرسکیں گے،نہ اپنے مستقبل کادرست تعین کرسکیں گے۔یہ ایک دھند میں لپٹی ہوئی دنیاکانوحہ ہے جوعدل وانصاف کی تلاش میں دربدرٹھوکریں کھارہاہے۔
ہردورِتاریخ میں جب ایک نئی طاقت کی آمدہوتی ہے،توپرانی طاقتیں بے ساختہ ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔دنیاکے افق پرجب بھی سیاست کے بادل گہرے ہوتے ہیں تونگاہیں ہمیشہ بجلی کی چمک پرمرکوزرہتی ہیں،بادلوں کے اندراٹھنے والی حرارت پرنہیں۔بلکہ دنیاکے سیاسی افق پرآج ایک نیاطوفان ابھرتادکھائی دے رہاہے،جوبظاہرایران یااسرائیل کے مسائل کی صورت میں نظرآتاہے،لیکن حقیقت کی پرتیں کہیں اورچھپی ہیں۔ہردورکی طرح،جب ایک ابھرتی ہوئی طاقت اپنی رفتارسے موجودہ عالمی نظام کے کناروں تک پہنچتی ہے،تو پرانی طاقتیں ناخودآگاہ ردعمل کامظاہرہ کرتی ہیں۔ 
آج بھی یہی حال ہے۔کہیں ایران کاذکرہے،کہیں اسرائیل کاشور،مگرحقیقت کاقافلہ ان گلیوں سے گزرکرکسی اورسمت جارہاہے۔موجودہ عالمی منظرنامہ اس اصول کاعملی عکس ہے۔ آج کل،بین الاقوامی مباحث کامحور ایران یااسرائیل دکھائی دیتاہے،لیکن حقیقت کی تہہ کچھ اورہی منظرپیش کرتی ہے۔ہرچراغ جس کی روشنی عوام کی نگاہوں میں پڑتی ہے،کبھی کبھار اصل راہوں کوچھپائے رکھتاہے۔تاریخ کا تجربہ یہ بتاتاہے کہ عالمی سیاست شطرنج کی وہ بساط ہے جس پرمہرے سامنے چلتے ہیں مگراصل ارادہ پسِ پردہ چھپارہتاہے۔
میں یہاں دوواقعات کے آئینے میں عالمی حکمت عملی کی اس حقیقت کوآشکارکرنے کاقصدرکھتاہوں۔ہم واقعات کونہیں،ان کے درمیان موجودربط کودیکھیں ؛ شورکونہیں،اس کے پیچھے چھپی خاموش حکمتِ عملی کوسنیں۔ اس رپورٹ کی صداقت کیلئے میں ان جغرافیائی، اقتصادی اورسیاسی پیچیدگی کے پردے کوہٹانے کی کوشش کروں گاجس کی روشنی میں عالمی طاقتوں کی حکمت عملی،چین کی اقتصادی بالادستی اورتوانائی کی عالمی سپلائی کے تعلقات واضح ہوسکیں اورہم صحیح نتائج اخذکرسکیں۔
امریکانے وینزویلامیں ایک متنازعہ آپریشن انجام دیا،جس کے نتیجے میں صدرمادوروگرفتارہوئے۔وینزویلاکاواقعہ بظاہرایک سیاسی تبدیلی تھامگردرحقیقت یہ اقتصادی شریان پر لگنے والی ایک کاری ضرب تھی۔جب صدرمادوروکواقتدارسے ہٹایاگیاتودنیانیاسے جمہوریت کی فتح قراردیا۔کسی نے تالیاں بجائیں،کسی نے قانونی موشگافیاں کیں،مگراس سوال کی طرف کم ہی توجہ گئی کہ اس تبدیلی کااصل اثرکہاں پڑا۔عوامی منظرنامے میں یہآمرکازوالکہاگیا،کچھ نے خوشی کے طورپرتالیاں بجائیں،اورکچھ نے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پراعتراض کیا۔
لیکن اس سوال پرکسی نے غورنہیں کیاکہ وینزویلاکے تیل کاسب سے بڑاصارف کون تھا؟جواب روشن ہے چین۔وینزویلاروزانہ80ہزار بیرل تیل براہِ راست چین کوفروخت کررہاتھاجس سے چین کاعظیم اقتصادی انجن چل رہاتھا۔مادوروکے ہٹانے کے ساتھ،چین کی پائپ لائن کاٹ دی گئی اورتوانائی کے اس بہاکویکدم روک دیاگیا۔وینزویلاکاتیل صرف ایک وسیلہ نہیں تھا،بلکہ چین کے صنعتی بدن میں دوڑنے والاوہ خون تھاجواس کی معیشت کوزندگی بخشتاتھا۔ روزانہ8لاکھ بیرل تیل کابہااچانک رک جاناایساتھا جیسے کسی دریاکا منبع خشک کردیاجائے۔ 
یوں سمجھ لیں کہ تاریخ کبھی شورمچاکر نہیں بدلتی،بلکہ خاموشی سے اپنی سمت بدلتی ہیاورجب انسان کوخبر ہوتی ہے تونقشہ بدل چکاہوتاہے۔یہ محض سیاسی کارروائی نہیں،بلکہ ایک حکمت عملی کی ابتداتھی جس میں عالمی طاقتیں چین کے ابھرتے ہوئے اقتصادی کردارکومحدودکرنے کی کوشش کررہی تھیں۔یہ واقعہ  ایک استعارہ کے طورپر بیان کرتاہے کہ طاقت کی جنگ ہمیشہ محض سیاسی چالوں تک محدودنہیں رہتی،بلکہ اقتصادی قوت کے نشیب وفراز سے بھی منسلک ہے۔
ایران کاواقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔امریکا اوراسرائیل نے ایران پرحملہ کیااورخامنہ ای کے ساتھ ساری اعلی قیادت کو ہدف بناکرساری دنیامیں سفاکی اورتشویش  کی لہر دوڑادی۔دنیاکے ایک حصے نے اسے جوہری خطرے کے خاتمے کے طورپردیکھا، دوسروں نے بین الاقوامی قوانین کی پامالی پراحتجاج کیا مگرسوال پھروہی تھااس بحران سے کس کی شہ رگ متاثرہوئی؟کسی نے یہ نہیں پوچھاکہ ایران کاسب سے بڑاتیل کاخریدارکون تھا؟وہ بھی چین۔ایران یومیہ 1.5ملین بیرل تیل براہِ راست چین کوفراہم کررہاتھا۔اس پائپ لائن کی بندش نے نہ صرف توانائی کی سپلائی متاثرکی بلکہ چین کی تجارتی اوراقتصادی حرکت کوبھی محدودکیا۔چین اچانک ایک غیریقینی کیفیت میں داخل ہوگیا۔یوں سمجھ لیجیے کہ چین کے اقتصادی قافلے کے دوبڑے چشمے یکایک خشک کردیے گئے ۔ یہاں ایک تمثیل یادآتی ہے کہ اگرکسی درخت کی جڑوں میں پانی بندکردیا جائے توشاخوں کی ہریالی دیرپا نہیں رہتی۔چین کی معیشت بھی اسی آزمائش سے گزررہی ہے۔یہ دوواقعات،بظاہرالگ الگ،اصل میں ایک حکمت عملی کے جال میں جڑے ہوئے ہیں۔عالمی طاقتیں چین کی بڑھتی ہوئی اقتصادی سیاسی اور جغرافیائی بالادستی کومحدوداورقابو میں لانے کی کوششیں کررہی ہیں۔
رائے ڈالیوکانظریہ محض ایک تجزیہ نہیں بلکہ تاریخ کے سینے سے نکلاہوا ایک اصول ہے،جب ایک نئی طاقت پرانی طاقت کے برابر آ کھڑی ہوتوتصادم ناگزیر ہو جاتا ہے۔جرمنی اوربرطانیہ کی کشمکش کے بطن سے پہلی جنگ عظیم کاسانحہ ہوا،جاپان کابحرالکاہل میں امریکاسے ٹکرادوسری عالمی جنگ کاشاخسانہ بن گیا جہاں پہلی مرتبہ امریکانے جاپان کے دوبڑے شہروں ہیروشیمااورناگاساکی پرایٹم بم گراکرہرجاندارکوخاکسترکردیااورآج تک اس بہیمانہ ظلم اورسفاکی کے اثرات نمایاں ہیں،اورسردجنگ کے طویل سائے یعنی سوویت یونین کی امریکاکے مقابلے میں ابھرتی طاقت،جس نے دنیاکانقشہ ہی تبدیل کردیااورسوویت یونین کے بطن سے چھ اورریاستیں دنیاکے نقشے پرمعرضِ وجودمیں آگئیںیہ سب اسی قانون کے مظاہرہیں۔روس ایک مرتبہ پھر آنکھیں دکھانے کے قابل ہورہاتھا کہ یوکرین کا پھندااس کے گلے میں ڈال دیاگیاہے۔ (جاری ہے)