سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
آج چین اسی راستے پرگامزن ہے۔اوریہی عمل جاری ہے۔عالمی طاقتیں اس ابھرتے ہوئے عظیم انجن کی توانائی کی کمزوریوں کی نشاندہی کررہی ہیں۔چین کی ابھرتی ہوئی معیشت اوراس کاعالمی تیل کے بازارمیں حصہ اسی تاریخی قانون کاجدید عکس ہے۔عالمی طاقتیں اپنی برتری برقراررکھنے کیلئیچین کی توانائی کی سپلائی اورتجارتی راستوں پراثرانداز ہو رہی ہیں۔گویافکری اندازمیں یہ کہنا درست ہوگا کہ طاقت کاارتقامحض مادی نہیں ہوتا،بلکہ اس کے ساتھ ایک تہذیبی اورفکری کشمکش بھی جڑی ہوتی ہے۔یہی کشمکش آج عالمی نظام کوایک نئے موڑپرلے آئی ہے۔
چین کوایک عظیم الشان انجن تصورکیجییایساانجن جودنیا کی ایک بڑی معیشت کوحرکت دے رہاہے۔مگرہرانجن کی طرح اس کی بھی ایک کمزوری ہے، ایندھن۔چین دنیاکا28فیصد تیل پیداکرتاہے،لیکن اپنی صنعتی بھوک مٹانے کیلئیزیادہ ترتیل درآمدکرتاہے۔اس کے ایندھن کی چاراہم پائپ لائنیں ہیں وینزویلا،ایران،روس اورسعودی عرب۔جبکہ ان میں سے دو کاٹ دی گئیں،ایک محدودہوگئی،اورچوتھی غیریقینی کاشکارہوگئی،تویہ انجن اپنی پوری رفتار برقرار رکھنے سے قاصرہونے لگاہے۔
دوماہ میں چین کی20فیصد تیل کی سپلائی منقطع ہوئی،اورعالمی توجہ ایران پرمرکوزہونے کے سبب اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔یہ محض اقتصادی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک خاموش جنگ ہے،جس میں گولیاں نہیں بلکہ پابندیاں اورسیاسی فیصلے استعمال ہوتے ہیں۔ اس طرح ایک ظاہری رخ کے پیچھے اصل حکمت عملی پوشیدہ رہی۔
چین کابیلٹ اینڈروڈمنصوبہ محض تجارت کاراستہ نہیں بلکہ عالمی اقتدارکی ایک نئی تعبیرہے۔بیجنگ سے یورپ تک پھیلاہوایہ جال اس بات کی علامت ہے کہ جوتجارت کوکنٹرول کرے گا،وہ دنیاکی نبض پرہاتھ رکھے گا۔چین نے اپنے اقتصادی نیٹ ورک کوجدیدسلک روڈ کے ذریعے یورپ تک پھیلارکھاہے،جس میں ریلوے،بندرگاہیں،اورپائپ لائنیں شامل ہیں۔اس کامقصدواضح ہے۔یورپ کے تجارتی راستوں پرتسلط حاصل کرنا،تاکہ عالمی معیشت کے کنٹرول کامرکز اپنے ہاتھ میں ہو۔
جرمنی،فرانس، اوراٹلی جیسے ممالک کے جھکاسے ظاہرہوتاہے کہ یورپ آہستہ آہستہ امریکاسے دورہوکرچین کی جانب بڑھ رہاہے۔ یورپ کاچین کی طرف جھکاامریکا کیلئے ایک گھنٹی ہے ،ایسی گھنٹی جس کی آوازخطرے کی خبردیتی ہے۔جرمنی،فرانس اوراٹلی جیسے ممالک کابدلتاہوارخ عالمی طاقت کے توازن کومتاثرکررہاہے۔
اگرتوانائی اس جنگ کاایندھن ہے توٹیکنالوجی اس کی تلوارہے،اورتائیوان اس تلوارکادستہ۔جدیدچپس کی پیداوارکامرکزہونے کے باعث تائیوان اکیسویں صدی کی معیشت کادل بن چکاہے۔جواسے قابو میں رکھتاہے،وہ اکیسویں صدی کی ٹیکنالوجی کے پہیے کامالک ہوتاہے۔ امریکااورچین دونوں اس دل کی دھڑکن کواپنے اختیارمیں لیناچاہتے ہیں۔ امریکا کامؤقف واضح ہے،اورچین کی حاکمیت کے دعوے تصادم کوناگزیربناتے ہیں۔کیونکہ یہاں مفاہمت کی گنجائش کم اورمفادات کاٹکراشدیدہے۔یہاں تصادم کاامکان سب سے زیادہ ہے،اوریہی نقطہ آخرکارعالمی طاقتوں کے تصادم کامرکزی میدان ہے۔
یہ صرف چین کوکمزورکرنے کامعاملہ نہیں،بلکہ امریکی صنعتی ودفاعی منافع بھی اس میں مضمرہے۔ہرجنگ اپنے ساتھ صرف تباہی نہیں لاتی،بلکہ کچھ قوتوں کیلئے منافع بھی لاتی ہے۔ مشرق وسطی میں ہردھماکہ اوربحران،خلیجی ریاستوں کے ہتھیاروں کی خریداری میں تبدیلی اوراضافہ اس حقیقت کاواضح ثبوت ہے۔نتیجہ اربوں ڈالرکی اقتصادی گردش اورعالمی حکمت عملی کی تکمیل امریکی صنعتی پہئے کوچلانے میں ممدمعاون ثابت ہورہی ہے۔جب دنیامادہ پرستی کے اصولوں پرچلتی ہیتوانسانیت پس منظرمیں چلی جاتی ہے،اور مفادپرستی میدان میں غالب آجاتی ہے۔
ان تمام واقعات کویکجا کرکے دیکھیں توامریکاکاایک واضح خاکہ اورچھ فوائدکی حکمت عملی سامنے آتی ہے:
٭چین کی توانائی کی سپلائی کومحدودکرنا
٭اس کے تجارتی راستوں کومتاثراوراس میں خلل ڈالنا
٭خطے پراثرورسوخ قائم کرنا
٭یورپ کواپنے اثرمیں رکھناتاکہ چین سے تجارت محدودکردی جائے
٭جنگی معیشت کوفروغ دینا،ہتھیاروں سے اقتصادی فائدہ اٹھانا
٭تائیوان کے معرکے سے پہلے چین کوکمزورکرنا
یہ ایک ایسی حکمت عملی ہے جوبظاہرمنتشرنظرآتی ہیمگردرحقیقت ایک مرکزکے گردگھوم رہی ہے۔
دنیاکینقشے پربکھرے ہوئے یہ تمام واقعات دراصل ایک ہی داستان کیمختلف ابواب ہیں۔وینزویلا،ایران،روس،یورپ اورتائیوان مختلف محاذ ہیں ، لیکن اصل جنگ ایک ہے،چین کی اقتصادی وجغرافیائی بالادستی اورعروج کومحدودکرنا۔یہ جنگ بندوقوں سے زیادہ ذہنوں میں لڑی جارہی ہے،اوراس کاہدف صرف زمین نہیں بلکہ معیشت،ٹیکنالوجی اورعالمی اقتدارہے۔یہ عالمی سیاست کی پیچیدہ کڑیاں ہیں،جو عموماپردے میں چھپی رہتی ہیں۔جیسے ایک باکسراپنے مخالف کاپانی اورخوراک کاٹ کراس کی طاقت کوکمزورکرتاہے،عالمی طاقتیں بھی اسی اصول کے تحت عالمی پچ پرحرکت کررہی ہیں۔یہ تجزیہ ہمیں یہ درس دیتاہے کہ عالمی سیاست میں جوواقعات بظاہرالگ دکھائی دیتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تحت جڑے ہوئے ہیں،اورجوعالمی منظرنامے میں نمایاں ہوتاہے،وہ اکثراصل رخ کاصرف آئینہ ہوتاہے۔
جب تاریخ اپنے فیصلے سناتی ہے تووہ کسی کی رعایت نہیں کرتی۔وہ نہ طاقتورکومعاف کرتی ہے،نہ کمزورکوبخشتی ہے۔وہ صرف یہ دیکھتی ہے کہ کس نے حق کو پہچانا اورکس نے اسے نظر اندازکیا۔آج دنیاایک ایسے ہی فیصلہ کن موڑپرکھڑی ہے،جہاں خاموشی بھی ایک جرم ہے اورلاعلمی بھی ایک نقصان۔ہم ایک ایسی دنیا میں سانس لے رہے ہیں جہاں وسائل پر قبضہ صرف اقتصادی معاملہ نہیں رہا،بلکہ اقتدارکا بنیادی ستون بن چکاہے۔ توانائی،تجارت، ٹیکنالوجییہ سب اب محض ترقی کے ذرائع نہیں،بلکہ کنٹرول کے ہتھیاربن چکے ہیں اور ان ہتھیاروں کواستعمال کرنے والے ہاتھ کسی ایک خطے تک محدود نہیں،بلکہ پوری دنیاپراپنی گرفت مضبوط کرناچاہتے ہیں۔
یہ کہناشاید تلخ ہو،مگرحقیقت یہی ہے کہ طاقت کی اس دوڑمیں انسانیت اکثرکچلی جاتی ہے۔وہ بستیاں جوکبھی زندگی سے بھرپورتھیں، اب ملبے کاڈھیربن چکی ہیں۔وہ خواب جوکبھی آنکھوں میں سجتے تھے،اب دھوئیں میں تحلیل ہوچکے ہیں۔اوراس سب کے درمیان،ایک خاموش سوال فضامیں معلق ہے:کیایہی وہ دنیاتھی جس کاخواب انسان نے دیکھاتھا؟
جمہوریت،جوکبھی عوام کی آوازسمجھی جاتی تھی،آج کئی مقامات پرمحض ایک نقاب بن چکی ہے۔اس نقاب کے پیچھے وہ پالیسیاں پروان چڑھتی ہیں جوبظاہرعوامی مفادکے نام پرہوتی
ہیں،مگردرحقیقت چندطاقتورحلقوں کے مفادات کوتقویت دیتی ہیں۔یہ وہ تضادہے جو دل کوبے چین کرتاہیکہ جس نظام کوانسان کی آزادی کاضامن ہوناچاہیے تھا،وہی بعض اوقات اس کی غلامی کاذریعہ بن جاتاہے۔
صوفیاکی زبان میں کہاجائے تویہ دنیاایک امتحان گاہ ہے،جہاں ہرانسان کواپنی بصیرت کاثبوت دیناہے۔جوصرف ظاہرکودیکھتاہے،وہ دھوکہ کھاجاتاہے۔ اور جو باطن کوپہچان لیتا ہے،وہ حقیقت کے قریب پہنچ جاتاہے۔آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس باطنی بصیرت کو بیدارکریںہم سوال کریں،ہم سوچیں ،اورہم اپنے گردوپیش کومحض خبروں کی حد تک نہ دیکھیں بلکہ اس کے اندر چھپی ہوئی معنویت کوسمجھیں۔یہ بھی حقیقت ہے کہ ہراندھیری رات کے بعدصبح ہوتی ہے۔مگرصبح خودبخود نہیں آتی،اس کیلئے چراغ جلانے پڑتے ہیں،شعوربیدار کرناپڑتاہے،اورسچ کوپہچاننے کی ہمت پیداکرنی پڑتی ہے۔اگر انسان صرف تماشائی بن کررہ جائے توتاریخ اسے بھی اسی خاموشی کے ساتھ رونددیتی ہے جس طرح وہ باقی سب کوروندتی ہے۔
یہ تحریرکسی حتمی فیصلے کااعلان نہیں،بلکہ ایک دعوتِ فکرہے۔ ایک پکارہے کہ ہم اپنے گرد و پیش کونئے زاویے سے دیکھیں۔ہم یہ سمجھنے کی کوشش کریں کہ دنیامیں جوکچھ ہورہاہے،وہ محض اتفاق نہیں بلکہ ایک تسلسل کاحصہ ہے۔اوراگریہ تسلسل اسی طرح جاری رہا،تووہ دن دورنہیں جب دنیاکے وسائل،معیشت، اورحتی کہ سوچنے کااندازبھی چندہاتھوں میں سمٹ کررہ جائے گا۔
تاریخ اپنےآپ کودہراتی نہیں،بلکہ نئے قالب میں سامنےآتی ہے۔اورجوقومیں اس کیاشاروں کونہیں سمجھتیں،وہ اس کے دھارے میں بہہ جاتی ہیں۔یہ تحریراسی شعورکوبیدارکرنے کی ایک ادنی سی کوشش ہیکہ ہم واقعات کونہیں،ان کے پیچھیکارفرما قوتوں کوسمجھیں؛ اورشورمیں نہیں،خاموشی میں چھپی حقیقت کوپہچانیں۔یہ مطالعہ ہمیں یہ سبق دیتاہے کہ عالمی سیاست میں سچائی اکثرپردے میں چھپی رہتی ہے،اورجوواقعات عام نگاہ میں الگ نظرآتے ہیں،وہ ایک ہم آہنگ حکمت عملی کے تار میں بندھے ہوتے ہیں۔
آخرمیں،یہی کہاجاسکتاہیکہ انسان کیپاس اب بھی انتخاب باقی ہے۔وہ چاہیتواس سراب میں کھوجائے،یاحقیقت کی تلاش میں نکل کھڑا ہو۔وہ چاہے توخاموش تماشائی بن جائے،یابیدارہوکراپنی رائے قائم کرے۔کیونکہ تاریخ صرف طاقتوروں کی نہیں ہوتی،بلکہ ان لوگوں کی بھی ہوتی ہے جوسچ کوپہچان کرخاکستر ہوتے خواب اوربیداری کی صداکے ساتھ کھڑے ہوتے ہیں۔
اورشاید یہی وہ لمحہ ہے جب ہمیں فیصلہ کرناہے کہ ہم کس صف میں کھڑے ہیں۔