خاک و خون سے ابھرتی ہوئی نئی دنیا

سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ایران کااندازِگفتگو اورمطالبات اس بات کی نشاندہی کرتے تھے کہ وہ سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل سمجھتاہے،نہ کہ اس کااختتام ۔ یہی وہ اندازہے جہاں الفاظ محض اظہارنہیں بلکہ حکمت کاوسیلہ ہوتے ہیں۔یہی وہ دانشمندانہ اسلوب کی جھلک بھی ہے جہاں اصولی مؤقف کووقتی دباؤپرترجیح دی جاتی ہے۔ایران نے واضح کیاکہ وہ مذاکرات کرے گا،مگراپنی شرائط پر۔اس نے واضح کیاکہ سفارت کاری اس کیلئے جنگ کاتسلسل ہے،نہ کہ اس کا متبادل۔یہ طرزِ فکر اس بات کاغمازہے کہ ایران نے نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی میدان میں بھی اپنی جگہ مضبوط کی۔اگرچہ مذاکرات کا پہلا دور بے نتیجہ رہا، مگر اس نے ایک نئی راہ ضرور ہموار کی۔یہاں ہمیں ایرانی خارجہ پالیسی کی وہ جھلک دکھائی دیتی ہے جہاں وہ تاریخ کومحض واقعات کاتسلسل نہیں بلکہ ارادوں کی کشمکش قراردیتے ہیں۔ایران نے اسی اصول پرعمل کرتے ہوئے سفارت کاری کوجنگ کاتسلسل بنایاایک ایسا تسلسل جس میں ہتھیاروں کی جگہ الفاظ نے لے لی،مگر مقصد وہی رہا:، خودمختاری کا تحفظ۔
امریکانے ایک طرف جنگ بندی کااعلان کیا،مگردوسری طرف ایران پردبابڑھانے کیلئے بحری ناکہ بندی نافذکردی اورایک ایرانی جہازکوقبضے میں لے لیا۔یہ طرزِعمل اس تضادکی عکاسی کرتاہے جوامریکی پالیسی میں اکثردکھائی دیتاہے ا۔یک ہاتھ میں امن کا پرچم اوردوسرے میں دباؤکاہتھیار۔ایران نے اس صورتحال کواپنے حق میں استعمال کیا۔اس نے نہ صرف جنگ بندی کوقبول کیابلکہ اسے ایک وقفہ سمجھتے ہوئے اپنی سفارتی پوزیشن کومضبوط کیا۔
ایران نے مذاکرات میں ایک دس نکاتی منصوبہ پیش کیاجس میں جنگ بندی،پابندیوں میں نرمی،اورسلامتی کی ضمانتیں شامل تھیں۔یہ مطالبات ایک ایسے ملک کی ترجمانی کرتے
ہیں جواپنے حقوق کیلئے کھڑاہے اورکسی دباؤمیں آنے کوتیارنہیں،گویایہ اس کی مزاحمت کاسفارتی اظہارتھا۔یہ وہ سفارتی اندازکی یاد دلاتاہے جہاں وہ اصولی مؤقف کووقتی مصلحتوں پرترجیح دیتے ہیں۔ایران نے بھی یہی کیا،اس نے وقتی نقصان کے باوجوداپنے اصولی مؤقف کوبرقراررکھا۔یہ مطالبات اس بات کااظہارتھے کہ ایران کسی بھی قیمت پر اپنی خود مختاری اورتزویراتی اثاثوں پرسمجھوتہ کرنے کوتیارنہیں۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔ہزاروں افرادشہید،لاکھوں لوگ بے گھرہوئے،اربوں ڈالرکا معاشی نقصان،اوراہم انفراسٹرکچر کی تباہ ، تیل وگیس کی تنصیبات،صنعتی کارخانے،تعلیمی ادارے،اوربنیادی ڈھانچہ شدیدمتاثرہوا۔یہ سب اس قیمت کاحصہ ہیں جوایران نے اداکی مگرسوال یہ ہے کہ کیایہ نقصان اس کی کمزوری کی علامت ہے یااس کی استقامت کا ثبوت؟اقوام کی تاریخ میں ایسے لمحات بھی آتے ہیں جب نقصان محض نقصان نہیں رہتابلکہ ایک اجتماعی شعورکوجنم دیتاہے۔ 
ایران میں بھی یہی ہوا،تباہی نے ایک نئے قومی بیانیے کوجنم دیا۔ایک ایسابیانیہ جومزاحمت کوجوازفراہم کرتاہے۔ایران کے اندرایک مضبوط بیانیہ ابھراکہ بیرونی جارحیت کامقابلہ کرناایمان کاحصہ ہے۔عوام نے اپنے عمل سے اس بیانیے کوتقویت دی،وہ پلوں، تنصیبات اور قومی علامات کے ساتھ کھڑے ہوگئے،گویاوہ خودایک زندہ ڈھال بن گئے ہوں۔یہ منظرہمیں اس تمثیلی زبان کی یاددلاتاہے جہاں قوم اوراس کی شناخت ایک دوسرے میں ضم ہوجاتی ہیں۔مگرتاریخ میں ایسی مثالیں کم نہیں جہاں نقصان نے قوموں کوکمزور کرنے کی بجائے مضبوط کیاہو۔قومیں اپنے الفاظ اوراپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
جنگ کے ابتدائی دنوں میں ایران کی اعلی قیادت کونشانہ بنایاگیا،جس کے نتیجے میں ایک بڑاخلاپیداہوا۔آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد مجتبی خامنہ ای کانیارہبراعلی انتخاب ایک نئے سیاسی دورکاآغازثابت ہوا۔یہ تبدیلی بظاہرایک کمزوری سمجھی جارہی تھی،مگرعملی طورپراس نے نظام کومزیدسخت گیر اورمنظم بنادیا۔پاسدارانِ انقلاب کاکردارمضبوط اوراثرورسوخ بڑھ گیاہے،اورداخلی اختلافات وقتی طور پردب کرپس منظرمیں چلے گئے۔یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ ایران نے اس جنگ میں بھاری نقصان اٹھایا۔یہ سب اس کی قیمت کاحصہ ہیں۔ایران نے اس نقصان کوایک قومی بیانیے میں ڈھال دیا۔مزاحمت کو ایمان کادرجہ دیاگیا،اورعوام نے اس بیانیے کواپنے عمل سے تقویت دی۔یہی وہ مقام ہے جہاں تمثیلی زبان میں قومیں اپنے الفاظ اور اپنے بیانیے سے زندہ رہتی ہیں۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے توازن پربھی گہرے اثرات مرتب کیے۔جہاں پہلے دنیاکوامریکا،روس اورچین کے تین مراکزِ قوت میں تقسیم کیاجارہاتھا،وہیں اب ایران جیسے ممالک بھی اس نظام کوچیلنج کرتے نظرآرہے ہیں۔یہ ایک نئی عالمی ترتیب کاآغازہوسکتاہے ایک ایسی ترتیب جس میں طاقت کامعیارصرف معاشی یاعسکری قوت نہیں بلکہ تزویراتی مقام اورمزاحمتی صلاحیت بھی ہو۔
اس جنگ نے عالمی طاقت کے تصورکوبھی چیلنج کیاہے۔جہاں پہلے طاقت کوصرف معاشی اورعسکری پیمانوں سے ناپاجاتاتھا،وہیں اب تزویراتی مقام،علاقائی اثرورسوخ،اورمزاحمتی صلاحیت بھی اہم عوامل بن کرسامنے آئے ہیں۔یہ جنگ عالمی طاقت کے تصورکو بدل رہی ہے۔اب طاقت صرف معیشت یافوجی قوت کانام نہیں رہی بلکہ تزویراتی مقام،بیانیہ سازی،اورمزاحمتی صلاحیت بھی اس کا حصہ بن چکی ہیں۔ایران جیسے ممالک اب عالمی نظام کوچیلنج کررہے ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ ایک نسبتاکمزورملک بھی اگردرست حکمت عملی اختیارکرے تووہ بڑی طاقتوں کے مقابلے عالمی نظام میں اپنامقام اورجگہ بناسکتاہے۔
ٹرمپ کواس جنگ کے باعث داخلی اورخارجی دباؤکاسامناہے۔کانگریس کی منظوری،مالی اخراجات،اورآئندہ انتخابات،یہ سب عوامل امریکاکی پالیسی کومحدود کررہے ہیں۔ عالمی سطح پرامریکاکی ساکھ متاثرہوئی ہے،اس جنگ کے نتیجے میں ایران کی عالمی شبیہ میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جبکہ ایران کوگلوبل ساتھ میں پذیرائی ملی ہے۔گلوبل ساؤتھ کے ممالک میں اسے ایک مزاحمتی قوت کے طورپر دیکھاجارہاہے،جبکہ امریکا کے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔ایران نے اس صورتحال کوبخوبی سمجھتے ہوئے وقت کواپنے حق میں استعمال کیاہے اورخودکوکسی جلدی میں نہ دکھایا۔یہ ایک دلچسپ تضادہے کہ جس جنگ کامقصد ایران کوکمزورکرناتھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں اورایک مضبوط فریق بنادیا جبکہ امریکاکے خلاف جذبات میں اضافہ ہواہے۔
یہ ایک دلچسپ تضا دہے کہ جس جنگ کامقصدایران کوکمزورکرناتھا،اسی نے اسے عالمی سطح پرزیادہ نمایاں کردیا۔ایران کے اندر ایک مضبوط قومی بیانیہ ابھراہے جس میں مزاحمت کو قومی فریضہ قراردیاگیاہے۔عوام نے نہ صرف حکومت کاساتھ دیابلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کیاکہ بیرونی خطرات کے سامنے داخلی اختلافات ثانوی حیثیت اختیارکرلیتے ہیں۔یہ منظرہمیں اس تمثیل کی یاددلاتاہے جہاں زبان اورقوم ایک دوسرے کاسہارابنتے ہیںیہاں بھی قوم اوربیانیہ ایک دوسرے کے محافظ بن گئے۔
اگراس پوری جنگ کاحاصل دیکھاجائے تودوسوالات کے جواب واضح ہوتے ہیں۔
اول:جانی،مالی،معیشت،انفراسٹرکچراورعسکری لحاظ سے ایران نیایک بھاری قیمت اداکی ہے۔
  دوم:اس کے باوجود،ایران آج بین الاقوامی سطح پرایک مضبوط اورمثر فریق کے طورپرابھراہے۔
یہ ایک ایساتضادہے جوتاریخ میں اکثردیکھنے کوملتاہیجہاں شکست کے سائے میں بھی کامیابی کے چراغ جلتے ہیں۔
یہ جنگ محض ہتھیاروں کی جنگ نہیں تھی بلکہ بیانیوں کی جنگ تھیارادوں کی جنگ تھی۔ایران نے اس جنگ میں یہ ثابت کیا کہ مزاحمت اگرحکمت کے ساتھ ہوتووہ محض دفاع نہیں بلکہ ایک نئی تاریخ کی بنیادبھی بن سکتی ہے۔کمزورسمجھاجانے والا فریق بھی اگرحکمت،صبراوراستقامت سے کام لے،اورمزاحمت اگرشعوراورصبرکے ساتھ ہوتووہ نہ صرف تاریخ کا دھاراموڑسکتی ہے بلکہ وہ عالمی طاقتوں کے مقابلے میں اپنامقام منواسکتاہے۔آج دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے جہاں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجہاں کمزورسمجھے جانے
 والے بھی اپنی تقدیرخود لکھنے لگے ہیں۔تاریخ کے اس موڑپرکھڑے ہوکریہ کہنابے جانہ ہوگاکہ یہ جنگ ایک نئے عالمی بیانیے کی تمہیدہے ۔ایک ایسابیانیہ جس میں طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اورجس میں مزاحمت ایک نئی لغت لکھ رہی ہے۔
 طاقت کی تعریف بدل رہی ہے۔اب صرف اسلحہ کافی نہیں،بیانیہ،استقامت،اورحکمت بھی ضروری ہیں۔ایران نے ثابت کیاکہ کمزورسمجھا جانے والا بھی اگرڈٹ جائے،تو تاریخ کارخ موڑسکتاہے۔اگراس پوری داستان کوایک جملے میں سمیٹاجائے توکہاجاسکتاہے کہ ایران نے اس جنگ میں نقصان اٹھایا،مگراپنی حیثیت حاصل کرلی۔یہی تاریخ کاوہ سبق ہے جوبارہادہرایا جاتاہے کہ طاقت صرف وسائل سے نہیں بلکہ ارادے سے پیداہوتی ہے۔آج دنیاایک نئے موڑپرکھڑی ہے۔طاقت کی تعریف بدل رہی ہے،اوروہ اقوام جوکل کمزورسمجھی جاتی تھیں،آج اپنے لیے نئی جگہ بنارہی ہیں۔ایران کی یہ داستان اسی تبدیلی کی ایک ایسی نمایاں مثال ہے ،جوآنے والے برسوں میں عالمی سیاست کے رخ کومتعین کرسکتی ہے۔