عاصم رضا حیا لوی
بچپن کی شامیں، صحن میں بچھی چٹائیاں، آسمان پر چمکتے ستارے، اور بزرگوں کی زبان سے نکلی کہانیاں—یہ سب کچھ آج بھی کسی خواب کی مانند یاد آتا ہے۔ وہ لمحے جب ہم سونے سے پہلے اپنے تایاؤں، داداؤں یا نانیوں سے دیو، جن، پریوں اور عجیب الخلقت مخلوقوں کی کہانیاں سنتے تھے۔ ان قصوں میں ایک کردار ہمیشہ ہمیں بے حد ڈراتا تھا—"آدم خور"۔
یہ مخلوق بظاہر انسان، مگر دراصل درندہ ہوتی۔ وہ پہاڑوں، غاروں یا گھنے جنگلوں میں رہتی، انسانوں کا شکار کرتی، ان کا گوشت کھاتی اور بستیوں میں خوف پھیلاتی۔ ہم سمجھتے تھے کہ یہ سب کہانیاں ہیں، محض تفریح اور ڈر کی خاطر۔ مگر وقت کے ساتھ جب شعور نے آنکھ کھولی، تو احساس ہوا کہ شاید وہ "آدم خور" صرف قصوں کی مخلوق نہیں تھی، بلکہ ہمارے معاشروں، ہماری دنیا، اور ہماری سیاست میں حقیقت کے روپ میں موجود ہے۔
آج وہ "آدم خور" جنگلوں میں نہیں، ایوانوں میں بستے ہیں۔ وہ انسانوں کی شکل میں ہیں، لباس مہذب ہے، زبان شائستہ، ہاتھ میں امن کا پرچم، مگر دل میں وحشت، حرص اور خودغرضی کی آگ۔ وہ وہی چہرے ہیں جو اقوامِ متحدہ کے فورمز پر انسانی حقوق کے دعوے کرتے ہیں، عالمی امن کی قراردادیں منظور کرتے ہیں، اور مظلوموں کے لیے ہمدردی کے بیانات جاری کرتے ہیں۔ لیکن یہی چہرے درپردہ جنگوں کو فروغ دیتے ہیں، اسلحے کی تجارت سے اپنی معیشت چلاتے ہیں، اور خون بہا کر طاقت کا توازن اپنی مرضی سے بناتے ہیں۔
یہی "آدم خور" تھے جو اس وقت سرگرم ہو گئے جب امریکہ میں ایک متنازع الیکشن کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار میں آیا۔ اس نے "امریکہ فرسٹ" کا نعرہ لگا کر باقی دنیا کو دشمن بنا دیا۔ غیر ملکیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانیہ، پناہ گزینوں پر پابندیاں، اور عالمی تعلقات میں خودغرضی کی نئی لہر—یہ سب کچھ اسی درندگی کا نیا روپ تھا۔
برصغیر میں بھی اس کا اثر پہنچا۔ پاکستان اور بھارت، جو دہائیوں سے لفظوں کی جنگ میں الجھے تھے، ایک نازک توازن پر قائم تھے۔ لیکن عالمی "آدم خوروں" نے اس توازن کو ہلا دیا۔ دفاعی نظاموں کی دوڑ شروع ہوئی۔ بھارت نے روس کا S-400 سسٹم نصب کیا، فرانس سے رافیل طیارے حاصل کیے۔ پاکستان نے اپنی دفاعی صلاحیتوں کو پرکھنے کا موقع دیکھا۔ پسِ پردہ، یہ سب ایک گہری چال کا حصہ تھا—ایک تجربہ گاہ، جہاں دو ملکوں کی دشمنی کو اسلحہ کی کارکردگی جانچنے کا ذریعہ بنایا گیا۔
نتیجہ؟ امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کی مارکیٹ ویلیو آسمان پر۔ عالمی سطح پر عرب ممالک سمیت کئی ریاستوں نے امریکہ سے اربوں ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے۔ یہ معاہدے انسانوں کی بھلائی کے لیے نہیں، ان کے قتل کے لیے تھے۔ وہ وسائل جو تعلیم، صحت، اور خوشحالی پر خرچ ہونے تھے، وہ خون خریدنے میں جھونک دیے گئے۔
سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب محض عالمی سیاست ہے؟ یا درحقیقت درندہ صفت ذہنوں کا وہی پرانا کھیل جو نسلوں سے انسانی لاشوں پر دولت کے محل تعمیر کرتا آ رہا ہے؟
خطرہ اس بات کا نہیں کہ وہ کیا کر رہے ہیں، بلکہ اس بات کا ہے کہ ہم کیا نہیں کر رہے۔ ہم ان کی چکنی چپڑی باتوں پر یقین کر بیٹھے ہیں۔ ہم ان کے "امن" کے نعرے سن کر سچ بولنا چھوڑ چکے ہیں۔ ہم نے ان کے وعدوں کو تقدس دے دیا، اور خود اپنی آزادیِ فکر کو دفن کر دیا۔
یہ خاموشی سب سے بڑا جرم ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے اب بھی نہ جاگا، تو یہ آدم خور نہ صرف ہمارے جسم کھائیں گے، بلکہ ہماری آئندہ نسلوں کا شعور، ان کی زبان، ان کا ثقافتی ورثہ، ان کا ضمیر اور ان کی پہچان بھی نگل جائیں گے۔
وقت آ چکا ہے کہ ہم چہروں کے پیچھے چھپی درندگی کو پہچانیں۔ ہم ان اداروں سے سوال کریں جو انسانیت کے نام پر بیحسی کا کاروبار کر رہے ہیں۔ ہم ایسے معاہدے نہ کریں جو موت بانٹیں، بلکہ ایسے فیصلے کریں جو زندگی دیں، علم دیں، محبت دیں، اور انسانیت کو پھر سے انسان بنا دیں۔
تب ہی وہ دن آئے گا جب "آدم خور" صرف ایک پرانی کہانی کا کردار رہ جائے گا۔
اور حقیقت صرف روشنی، شعور، اور انسانیت کی ہوگی