روبینہ شاہین
پچھلے 50 سالوں میں ٹیکنالوجی نے بہت تیزی سے ترقی کی ہے ہر سال کلنڈر کی طرح ٹیکنالوجی بھی تبدیل ہو رہی ہے اواز کی دنیا سے تصویر کی دنیا اور پھر ویڈیوز بولتے انسان ویڈیو کالز انٹرنیٹ یوٹیوب جس. میں دنیا کی ساری تاریخ ریکارڈ ہے کون سا بٹن دباؤ گے تو اس کی ویڈیوز اور معلومات حاضر ہو جائیں گی فلم اور ڈرامہ ماضی بن گئے ہیں اب تو ہر جگہ ہر وقت کیمرے نصب ہیں کوئی بھی حرکت کرو کیمرے کی انکھ دیکھ رہی ہے تیر کمان تلوار خط سپ پیچھے چھوڑ ائے تو گولا بارود بم ڈسپوزیبل بم اب کسی کی اہمیت نہیں اب ہر بدلتا دن مہینہ اور سال نئی ایجاد کے ساتھ نمودار ہوتا ہے سب کی جگہ ایٹم بم نے لے لی جنگ نہ مہینوں نہ سالوں بلکہ چند دن یا شاید چند گھنٹوں کی کہانی بن گئی ہے اپنی تباہی کے اسباب انسان خود ہی اپنے ہاتھوں تیار کر رہا ہے نائٹروجن بم ہائیڈروجن بم ہر ذرہ حیات کو ہوا میں تحلیل کرنے کے لیے تیار ہے جانے کون سا وقت کون سی گھڑی کون سا ہاتھ اس بٹن کو دبا دے اور پھر یہ زمین اور اس پر اباد حیات کے اثرات ختم کر دیں کرہ ارض پر حکومت کرنے والوں کا خواب بھی ان کے ساتھ ہی تباہی میں شامل ہو جائے گا کیونکہ حکومتیں اور راج زندہ انسانوں اور حیاتیات پر کیا جاتا ہے برباد اور تباہ شدہ زمین پر نہیں جہاں انسانوں کی موت لکھ دی جائے قبرستانوں پر کبھی محل اباد نہیں ہوتے.بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی جہاں زندگی میں اسانیاں پیدا کرتی ہے تو وہاں حیات انسانی پر خطرات بھی بڑھتے جاتے ہیں مصنوعی ا عضا اور ان کا استعمال ایک جدید ٹیکنالوجی ہے جو انسانی زندگی کو اسانیوں کی طرف لے جاتی ہے مگر مصنوعی انسان بنانا اور ٹیکنالوجی کی استعمال سے ان کو کنٹرول کرنا جہاں نسل انسانی کے لیے سہولت اور مدد گار ہے وہاں ایک خطرناک حد بھی شروع ہوتی ہے نسل انسانی پر حکومت اور کنٹرول حاصل کرنے کے لیے استعمال ہو سکتی ہے موبائل فون جس کے بغیر اج ہر انسان ادھورا ہے اور جو ہر انسان کے رابطے کا ذریعہ بن چکا ہے ہاں اس یہ ہر حرکات سکنات بھی دوسروں تک پہنچاتا ہے بچوں میں اس کا استعمال ہر درجے خطرناک ہے اج پیدا ہوتے ہی بچہ ان لہروں سے اشنا ہو جاتا ہے. ماں باپ کے ہاتھوں میں یہ موبائل اپنی شعاو ں کے ذریعے بچے کو متوجہ کرتا ہے وقت کے ساتھ ساتھ بچہ اس کا عادی ہونے لگتا ہے ذرا غور کریں بچے کھانا نہیں کھاتے تو موبائل آ ن ہوتے ہی وہ پوری توجہ سے کھانا کھانے لگتی ہیں یہ شعا ییں بچوں کے دماغ پر اثر انداز ہوتی ہے بچے سارا دن موبائل فون میں مگن رہتے ہیں اور جسمانی ورزش اور کھیل کود سے دور ہوتے جا رہے ہیں جس کی وجہ سے مختلف جسمانی بیماریوں کا شکار ہو رہے ہیں انکھوں پر ان خطرناک شعاؤں کے اثرات بھی مرتب ہو رہے ہیں چھوٹی عمر میں ہی عینک انکھوں پر سجائی جاتی ہے مختلف گیموں کے ذریعے جذبات میں ہیجان اور غصہ فطرت میں شامل ہونے لگتا ہے.
محبت کی بجائے صرف خاموشی اور منفی خیالات ترویج پانے لگتے ہیں بڑے بچوں کا مشاہدہ کریں تو یہ اپنی عمر سے نسبت اگے نکل چکے ہیں جو باتیں زندگی کے ایک خاص عمر میں جا کر علم کا حصہ بنتی ہیں وہ بچپن ہی سے شعور اور اگہی بنتی جا رہی ہے اپنی عمر سے پہلے جوان ہونا اور ہر نفسانی خواہش کی طرف مرغوب ہونا تعلیم اور تعمیراتی کاموں سے دور کیا جا رہا ہے یہ وہ ٹریننگ ہے جس میں ایک نسل کو ذہنی طور پر کیچ کیا جا رہا ہے اور ان کے خیالات کو کنٹرول کیا جا رہا ہے اب انے والے وقتوں میں یہ نسل کیا کام کرے گی یہ جو انٹرنیٹ کے ذریعے لئے ہوئے اس نظام نے ہی طے کرنا ہے
. اے ائی ایک جدید ٹیکنالوجی جو ہر بات کا جواب دیتی ہے اور معلومات فراہم کرتی ہے ایک جدید اور خطرناک ہتھیار ہے جو نئی نسل کے ذہنوں کو اپنے کنٹرول میں لے رہا ہے اج کل کے بچے بڑے بزرگوں کو غیر اہم اور ان کے علم کو نامکمل سمجھ کر گوگل اور اے ائی سے معلومات لے رہے ہیں بے شک یہ وہی معلومات ہیں جو پہلے نسلوں سے منتقل ہو کر اگلی نسلوں تک پہنچتے تھے اور لوگ کہتے تھے کہ ہمارے بزرگوں نے کہا بڑے کہتے ہیں اس لیے ان کی تقلید قابل فخر سمجھی جاتی تھی مگر اب وہی ساری معلومات گوگل اور اے ائی جب پہنچاتی ہے تو قابل یقین سمجھی جاتی ہے اور اگر ماں باپ یا دادا دادی بولے تو بیک ورڈ کہہ دیا جاتا ہے کیا. یہ جدید ٹیکنالوجی ایک رحمت بھی ہے اور ایک ہتھیار بھی جو انے والے وقت میں ایک ایسا زہر بنے گا جو اہستہ اہستہ رگوں میں اترتا جائے گا اور نسل انسانی کو اپنے کنٹرول میں کرے گا اے ائی کی ٹیکنالوجی بنانے والا خود اس سے دستبردار ہو چکا ہے کیونکہ وہ خود انے والے وقت سے خوفزدہ ہے کیونکہ اس کے نزدیک مصنوعی ربورٹ یا انسان بنانا اور ان کے دماغ کمپیوٹر کے ذریعے کنٹرول کرنا کسی وقت بھی تباہی کا باعث بن سکتا ہے جدید سے جدید کا سفر ہمیں کس طرف لے کے جا رہا ہے اج کے دور میں رشتوں کی اہمیت ختم ہو چکی ہے ہر انسان میں اور میری کی طرف گامزن ہے اج اکیلا چھوڑ. رہا ہے تو کل وہ کس کے ساتھ جڑ پائے گا زندگی بے یارو مددگار ہوتی جا رہی ہے شاید دنیا اپنے اخری سفر کی طرف گامزن ہے زمین راز اگل رہی ہے ہر راز انسان کے اگے کھلتا جا رہا ہے کائنات افشاں ہوتی جا رہی ہے انسان منزل بے نشاں کی طرف رواں دواں ہے اپنے انجام سے بے خبر اس ٹیکنالوجی کا حصہ بنتا جا رہا ہے لیکن اگر وہ نہ بنے تو بھی دنیا میں گزارا مشکل ہے وقت اپنی رفتار سے اٹھتا جا رہا ہے شاید کہ کائنات کی سا عتین مکمل کے قریب ہیں پھر بھی یہ ہمارا فرض ہے کہ انے والی نسلوں کو اگہی دیتے رہے شاید ہمارا کوئی لفظ کوئی تحریر کسی دل کو چھولے اور وہ اگے منتقل ہو جائے خدا ہم سب کو اپنی حفظ و امان میں رکھے امین