محمد تسنیم رضا
چند دن پہلے وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایران اور اسرائیل کے درمیان حالیہ کشیدگی کے تناظر میں کہا: ’’سیزفائر کے پیچھے جو ہاتھ ہے، وہ وردی میں ہے۔‘‘ بظاہر ایک مختصر جملہ، مگر اس کے اندر کئی دہائیوں کا ایک تاریخی، سیاسی اور ادارہ جاتی بیانیہ پنہاں ہے۔ یہ جملہ صرف سفارتی کامیابی کی طرف اشارہ نہیں کرتا، بلکہ اس ریاستی کردار کو بھی عیاں کرتا ہے جو اکثر پردے کے پیچھے رہ کر ملکی فیصلوں پر اثرانداز ہوتا رہا ہے۔
پاکستان کی سیاست اور عسکری اداروں کے باہمی تعلق پر بات کرنا ہمیشہ نازک مگر ناگزیر رہا ہے۔ ایک طرف وہ خدمات ہیں جن پر فخر کیا جا سکتا ہے، اور دوسری طرف وہ مداخلتیں ہیں جنہوں نے آئینی ارتقاء اور جمہوری عمل کو بارہا روک دیا۔ اس تحریر کا مقصد نہ مدح سرائی ہے، نہ الزام تراشی—بلکہ ایک غیر جانبدار، دیانت دار اور فکری مکالمہ ہے، تاکہ ہم خود سے پوچھ سکیں: ’’کیا واقعی اس کے پیچھے وردی ہے؟‘‘ اور اگر ہے تو ’’یہ وردی صرف تحفظ کی علامت ہے یا اقتدار کا مستقل دروازہ؟‘‘
فوج کا بنیادی کام ملک کا دفاع ہے، سرحدوں کی حفاظت اور داخلی سلامتی کا قیام۔ ان مقاصد کے لیے عسکری اداروں نے ہمیشہ اعلیٰ قربانیاں دی ہیں۔ 1948، 1965، 1971، 1999 کی جنگیں ہوں یا دہشت گردی کے خلاف جاری معرکہ—فوجی جوانوں نے اپنی جانیں قربان کر کے ملک کو محفوظ بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ سوات، وزیرستان اور کراچی کے آپریشنز میں عسکری اداروں نے جس پیشہ ورانہ مہارت اور جانثاری کا مظاہرہ کیا، وہ ناقابلِ فراموش ہے۔ سیلاب، زلزلہ، اور دیگر قدرتی آفات میں بھی فوج کا کردار اکثر سول اداروں کی ناکامی کو ڈھانپنے والا ثابت ہوا۔لیکن مسئلہ وہاں سے شروع ہوتا ہے جہاں یہ کردار سیاسی مداخلت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ فوج نے صرف دفاعی مورچوں پر نہیں، بلکہ اقتدار کے ایوانوں میں بھی قدم رکھے ہیں۔ 1958 میں جنرل ایوب خان نے مارشل لا نافذ کیا، 1969 میں یحییٰ خان آئے، 1977 میں ضیاء الحق نے جمہوریت پر شب خون مارا، اور 1999 میں پرویز مشرف نے آئین کو معطل کر کے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کیا۔ ہر مارشل لا نے قوم کو ’’ترقی، استحکام اور احتساب‘‘ کے وعدے دیے، مگر نتیجے میں سیاسی انحطاط، ادارہ جاتی انتشار، اور عوامی محرومی نے جنم لیا۔ایوب خان کے دور میں ’بنیادی جمہوریت‘ کا تصور آیا جو عوامی اختیار کو محدود کرنے کی ایک شکل تھی۔ ضیاء الحق نے اسلامائزیشن کے نام پر معاشرتی دھارے کو شدید متاثر کیا اور مذہبی انتہاپسندی کو فروغ دیا۔ پرویز مشرف نے اعتدال کا نعرہ لگا کر میڈیا کو آزادی دی، مگر وہی میڈیا بعد ازاں سنسرشپ، پریشر گروپس اور خفیہ دباؤ کا شکار ہوا۔ عدلیہ، جو آئین کی محافظ سمجھی جاتی ہے، کئی بار پی سی او کے تحت حلف اٹھانے پر مجبور ہوئی۔ ان تمام ادوار میں آئینی تسلسل منقطع ہوا، عوامی نمائندگی کی حیثیت کم ہوئی، اور سیاست ایک مشکوک کھیل بن گئی۔جب ’’وردی‘‘ کا دفاعی کردار ایک سیاسی طاقت میں بدلتا ہے، جب سیاسی عمل میں ادارے کسی کو لاتے ہیں، کسی کو نکالتے ہیں، یا ’نیوٹرل‘ ہونے کا دعویٰ کر کے پس پردہ فیصلے کرتے ہیں، تو پھر عوام کا اعتماد نہ صرف سیاستدانوں سے اٹھتا ہے بلکہ ریاستی اداروں پر بھی سوالیہ نشان لگ جاتا ہے۔اسی تناظر میں ہمیں ان سیاستدانوں کو بھی نہیں بھولنا چاہیے جنہوں نے خود کو انہی طاقتوں کے سپرد کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو ایوب خان کی چھتری تلے سیاست میں آئے، نواز شریف ضیاء الحق کی نظرِ انتخاب تھے، عمران خان کو ایک منظم منصوبہ بندی کے تحت آگے لایا گیا، اور موجودہ حکومت کی تشکیل میں جو ہاتھ ہے وہ بھی سب پر عیاں ہے۔ جب تک سیاست دانوں کا اداروں کے ساتھ مفاد اور تعلق قائم رہتا ہے، سب کچھ ٹھیک چلتا ہے۔ لیکن جب اقتدار کی راہ میں مفادات ایک دوسرے سے ٹکراتے ہیں، تو بیانیے بھی بدل جاتے ہیں۔ نواز شریف صاحب نے نکالے جانے پر بیانیہ بنایا ’’مجھے کیوں نکالا؟‘‘ اور عمران خان صاحب جو ’نیوٹرلز‘ سے ہم آہنگی کے قصیدے پڑھتے تھے، آج انہیں سب سے بڑا مسئلہ قرار دیتے ہیں۔یہ طرزِ سیاست درحقیقت ایک اندرونی کمزوری کی علامت ہے۔ ایک باشعور، بااصول اور خودمختار سیاستدان کو کسی سہارے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ مگر ہمارے سیاست دان، بلا تخصیص، وہ چور دروازے تلاش کرتے ہیں جن سے داخل ہو کر اقتدار تک پہنچا جا سکے۔ جب سیاستدانوں کی پوری حکمتِ عملی ہی اس بنیاد پر بنے کہ کس طاقتور دروازے سے گزرنا ہے، تو پھر وہ دروازہ ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کون آئے گا، اور اس چہرے کے پیچھے فرمان جاری کرنے والا ہاتھ کس کا ہو گا۔ ایسی صورت میں شکایت کی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور بدقسمتی سے پاکستان میں سیاستدان جمہوریت کا نعرہ بھی صرف اس وقت لگاتے ہیں جب وہ اقتدار سے باہر ہوتے ہیں۔عوام کے لیے اصل المیہ یہ ہے کہ نہ وہ مکمل فوج پر تنقید کر سکتے ہیں، نہ سیاستدانوں پر مکمل اعتماد۔ فوجی ادارے کسی حد تک خود احتسابی کے عمل میں داخل ہوئے ہیں—کئی بار اعلیٰ افسران کو برطرف یا تنزلی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ مگر جب بات اْن لمحات کی ہو جہاں آئین معطل ہوا، منتخب حکومتیں ہٹائی گئیں، اور مارشل لا نافذ کیے گئے، تو یہ سوال بنتا ہے کہ ان اقدامات کے ذمہ داران کبھی کسی عدالتی یا ادارہ جاتی مواخذے کی گرفت میں کیوں نہ آئے؟ ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک، آئین شکنی ایک ریاستی عمل کے طور پر ہوئی، مگر اس پر کوئی پائیدار عدالتی یا اخلاقی نتیجہ مرتب نہ ہو سکا۔آئینی بالادستی وہ بنیاد ہے جس پر ریاست کی ساکھ کھڑی ہوتی ہے۔ جو ادارہ دفاعِ وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کرتا ہے، وہی اگر آئین کی حفاظت کو بھی اتنی ہی مقدس ذمہ داری سمجھے، تو تاریخ اسے صرف محافظ نہیں بلکہ معمار بھی مانے گی۔اسی طرح سیاستدانوں کا احتساب ہمیشہ سیاسی انتقام کہلا کر مٹا دیا جاتا ہے۔ الیکشن کمیشن سے لے کر نیب تک، ہر ادارہ سیاست کی آلودگی کا شکار ہے۔ کرپشن، اقربا پروری، اثاثے چھپانے، اور اختیارات کے ناجائز استعمال پر کبھی کوئی سزا مستقل یا مثالی نہیں بن سکی۔پاکستان کا مسئلہ صرف یہ نہیں کہ فوج سیاست میں کیوں آتی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ سیاست فوج سے باہر کیوں نہیں نکلتی۔ یہ سوال ہم سب کو خود سے پوچھنا ہو گا کہ کیا ہم ایسی سیاست چاہتے ہیں جو بار بار کسی نہ کسی طاقتور کی بیساکھی پر چلے، یا ایسی سیاست جو اپنی دیانت، کارکردگی، اور عوامی حمایت سے کھڑی ہو؟ کیا ہم ایسی جمہوریت چاہتے ہیں جس میں ادارے ایک دوسرے کے مدمقابل ہوں، یا ایسی ریاست جہاں ادارے اپنے اپنے دائرے میں مکمل آئینی خودمختاری کے ساتھ کام کریں؟
ہمیں یہ بھی ماننا ہو گا کہ ملک کے تمام ادارے، خواہ وہ عسکری ہوں یا سیاسی، ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ مددگار ہو سکتے ہیں—اگر حدود کا تعین ہو، نیت خالص ہو، اور ترجیح صرف پاکستان ہو۔
ہمیں یہ سوال خود سے اور ایک دوسرے سے پوچھنا چاہیے کہ:کیا ہم واقعی ایسی سیاست چاہتے ہیں جو ہر بار کسی اور کے سہارے اقتدار میں آئے؟یا ایسی جمہوریت جو کارکردگی، دیانت اور آئین کی بنیاد پر اپنے قدموں پر کھڑی ہو؟