کوئٹہ: وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ بلوچستان میں پائیدار امن کا قیام حکومت کی اولین ترجیح ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے لیے ریاست پوری قوت کے ساتھ کارروائیاں جاری رکھے گی۔
کوئٹہ میں اینٹی ٹیررسٹ فورس (اے ٹی ایف) اسکول میں اے ٹی ایف کے 20ویں بنیادی تربیتی کورس کی پاسنگ آؤٹ پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ بندوق کے زور پر کسی بھی نظریے کو عوام پر مسلط کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور ریاستی ادارے دہشت گردی کے سامنے کبھی سرنڈر نہیں کریں گے۔انہوں نے کہا کہ گمراہ عناصر کے لیے ریاست کے دروازے آج بھی کھلے ہیں۔ جو لوگ تشدد کا راستہ ترک کرکے قومی دھارے میں شامل ہونا چاہتے ہیں، ان کی بحالی، تعلیم، صحت اور روزگار کے لیے حکومت نے جامع منصوبہ ترتیب دے رکھا ہے تاکہ وہ ایک پُرامن زندگی کی طرف واپس آ سکیں۔میر سرفراز بگٹی نے کہا کہ ملک دشمن عناصر ایک منظم سازش کے تحت نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، تاہم ایسے حالات میں سیاسی تقسیم نہیں بلکہ قومی اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نوجوانوں کو ریاست سے بدظن کرنے کے بجائے انہیں قومی ترقی کے عمل میں شریک کیا جانا چاہیے۔وزیراعلیٰ بلوچستان نے زور دیا کہ سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن دہشت گردی جیسے حساس معاملے کو سیاست کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ ریاستی اداروں اور سکیورٹی فورسز کے خلاف نفرت انگیز بیانیے سے گریز کیا جائے کیونکہ بلوچستان کے عوام پاکستان کے ساتھ کھڑے ہیں اور امن و استحکام کے خواہاں ہیں۔تقریب کے دوران اینٹی ٹیررسٹ فورس کے 20ویں بنیادی تربیتی کورس کے 280 اہلکاروں نے کامیابی سے تربیت مکمل کرکے پاس آؤٹ کیا، جن میں 3 لیڈی کانسٹیبلز بھی شامل تھیں۔پاسنگ آؤٹ تقریب میں انسپکٹر جنرل بلوچستان پولیس محمد طاہر، پولیس کے سینئر افسران، تربیتی عملے اور دیگر معزز شخصیات نے بھی شرکت کی۔ وزیراعلیٰ نے تربیت مکمل کرنے والے جوانوں کو مبارکباد دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ پیشہ ورانہ مہارت، نظم و ضبط اور قومی جذبے کے ساتھ صوبے میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنی ذمہ داریاں انجام دیں گے۔