وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے پہلے کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز پروگرام کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد بیماریوں کی بروقت تشخیص، احتیاطی صحت کی سہولیات اور علاج کو براہِ راست گھروں تک پہنچانا ہے۔
پنجاب ہاکی اسٹیڈیم میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں صوبے بھر سے 55 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز شریک ہوئیں۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے کہا کہ جب مائیں، بہنیں اور بیٹیاں میدانِ عمل میں نکلتی ہیں تو کوئی طاقت پنجاب کو ترقی سے نہیں روک سکتی۔ انہوں نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں 25 ہزار کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹرز فیلڈ میں جا کر گھروں پر صحت کی بنیادی سہولیات فراہم کریں گی، جن میں بلڈ شوگر چیک، ابتدائی تشخیصی ٹیسٹ، انجکشن اور دیگر طبی سہولیات شامل ہوں گی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ حکومت اب بیماری کے پھیلنے کا انتظار نہیں کرے گی بلکہ خود گھر گھر جا کر بیماریوں کی نشاندہی اور بچاؤ کو یقینی بنائے گی۔ اس پروگرام کے تحت ہر خاندان کا ڈیجیٹل ہیلتھ پروفائل بھی تیار کیا جائے گا تاکہ صحت سے متعلق ڈیٹا محفوظ اور مؤثر انداز میں استعمال ہو سکے۔انہوں نے مزید بتایا کہ اس منصوبے کے ذریعے 25 ہزار افراد کو روزگار فراہم کیا گیا ہے اور ہر کمیونٹی ہیلتھ انسپکٹر کو 50 ہزار روپے ماہانہ تنخواہ دی جا رہی ہے، جبکہ بہتر کارکردگی پر اضافے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ نے اس پروگرام کو محض ملازمت نہیں بلکہ ایک قومی مشن قرار دیتے ہوئے کہا کہ عوام کی خدمت کرنے والی بیٹیوں کا احترام ہم سب کی ذمہ داری ہے۔تقریب کے دوران شاندار آتش بازی، مارچ پاسٹ اور دیگر رنگا رنگ سرگرمیوں کا اہتمام کیا گیا۔ صوبائی وزیر صحت خواجہ عمران نذیر نے بھی خطاب کرتے ہوئے پروگرام کو پنجاب کے صحت کے نظام میں انقلابی قدم قرار دیا۔ وزیراعلیٰ نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پنجاب حکومت پرو ایکٹو گورننس کے تحت ہر شہری تک جدید اور معیاری صحت کی سہولیات پہنچانے کے لیے بھرپور اقدامات جاری رکھے گی۔