یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد بھی انہیں مسائل پر بات کر رہے ہوں گے‘ پاکستان میں کاکروچ اکٹھے ہوگئے تو سب کچھ الٹ سکتا ہے‘حکومت مدت پوری کرے گی:وزیرداخلہ
نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا‘پنجاب میں ہر شہری تک رسائی ایک انتظامی ڈھانچے کیلئے ممکن نہیں:میاں عامر محمود
نئے انتظامی یونٹس کا قیام، سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں: احسن بھون‘وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ترقی کیلئے بھرپور محنت کر رہے ہیں، ٹیکس کم کئے جائیں: ایس ایم تنویر‘اکنامک سمٹ سے خطاب
اسلام آباد (آئی این پی )وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا ہے پاکستان کا موجودہ سسٹم مسائل حل نہیں کرسکتا، ہم جس نظام میں رہ رہے ہیں وہ تباہ ہوچکا ہے ، کوئی مانے یا نہ مانے سسٹم گرچکا ہے، یہ نظام چلتا رہا تو ہم 10 سال بعد ہی ان ہی مسائل پر بات کر رہے ہوں گے، سسٹم کو ری سیٹ کیے بغیر مسائل حل نہیں ہوں گے، نئے انتظامی یونٹس اور صوبے وقت کی اہم ضرورت ہے۔جمعرات کو اسلام آباد میں اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ سمٹ میں شریک تمام افراد نے نہ صرف مسائل کی نشاندہی کی بلکہ ان کے حل بھی پیش کیے، جو خوش آئند بات ہے۔وزیر داخلہ نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ صورت حال کے ذمہ دار یہاں موجود لوگ بھی ہیں اور اس حقیقت کو تسلیم کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس یا نئے صوبے مسائل کے حل کا ایک موثرذریعہ بن سکتے ہیں جب کہ اختیارات کی نچلی سطح تک منتقلی سے بھی بہت سے مسائل حل کیے جا سکتے ہیں‘ نوجوانوں کو مواقع دینے کے لیے ہمیں اپنی نیت درست کرنا ہوگی۔ اگر یہ کاکروچ اکٹھا ہوگئے تو سب کچھ الٹ سکتا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اگر نظام میں بروقت اصلاحات کی جائیں، اختیارات نچلی سطح تک منتقل کیے جائیں اور ضروری فیصلے کیے جائیں تو ملک کو درپیش مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔میاں عامر محمود نے خطاب کرتے ہوئے کہا نئے انتظامی یونٹس نہ بنانے سے گورننس مسائل بڑھ رہے ہیں، حکومت کو بزنس کمیونٹی کے قریب آنا ہوگا۔ پنجاب جیسے وسیع صوبے کے ہر علاقے تک پہنچنا، ہر مسئلے کو خود دیکھنا اور ہر شہری تک رسائی حاصل کرنا ایک ہی انتظامی ڈھانچے کے لیے ممکن نہیں، اسی احساس نے انہیں اس تجویز پر کام کرنے پر مجبور کیا۔سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے سابق صدر احسن بھون نے کہا کہ نئے انتظامی یونٹس کا قیام بنیادی مسائل کا حل ہے، سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے فیصلے کریں۔ سیاست دانوں کو اختلاف رائے سننے کی ہمت پیدا کرنی چاہیے، تمام سیاسی جماعتیں اتفاق رائے سے صوبوں کے مطالبات کو دیکھیں۔یونائیٹڈ بزنس گروپ (یو بی جی) کے پیٹرن اِن چیف ایس ایم تنویر نے کہا ہے کہ وزیراعظم اور فیلڈ مارشل ملک کی ترقی اور معاشی استحکام کے لیے بھرپور محنت کر رہے ہیں۔ پاکستان کی کاروباری برادری معیشت کی بہتری کے لئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئی ہے اور موجودہ معاشی چیلنجز سے نمٹنے کے لئے مشترکہ کوششوں کی ضرورت ہے