سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
ترکی،پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ممکنہ مشترکہ دفاعی معاہدہ خطے کی بدلتی ہوئی سیاسی اورعسکری حرکیات میں ایک اہم پیش رفت کے طورپردیکھاجارہاہے۔اگربحرین اور اردن بھی اس نوعیت کے تعاون میں شامل ہوتے ہیں تویہ محض چندریاستوں کاباہمی دفاعی انتظام نہیں رہے گابلکہ ایک وسیع ترعلاقائی شراکت داری کی صورت اختیارکرسکتاہے، جس کے اثرات عسکری میدان سے آگے بڑھ کرسیاسی، معاشی اورسفارتی سطحوں تک پھیل سکتے ہیں۔یہ ممکنہ اتحادخطے میں طاقت کے توازن کوایک نئی شکل دینے کی صلاحیت رکھتا ہے،کیونکہ موجودہ دورمیں ریاستیں اپنی سلامتی کیلئے صرف بیرونی طاقتوں کے سہارے پرانحصارکرنے کی بجائے باہمی تعاون،مشترکہ دفاعی صلاحیت اورعلاقائی شراکت داری کو اہمیت دے رہی ہیں۔تاہم بنیادی سوال یہ ہے کہ آیایہ اتحادمحض عسکری ضرورت کے تحت تشکیل پائے گایااس کے پیچھے کوئی وسیع ترفکری،تہذیبی اوراقتصادی ہم آہنگی بھی موجودہو گی۔
اسلامی سیاسی تاریخ میں اتحادہمیشہ صرف طاقت کے جمع ہونے کانام نہیں رہابلکہ مشترکہ اقدار،عدل اورباہمی ذمہ داری کے اصولوں سے وابستہ رہاہے۔اسی تناظرمیں اس ممکنہ تعاون کوایک’’ جدیدحلف الفضول‘‘کے تصورسے بھی جوڑاجاسکتاہے،یعنی ایساباہمی عہد جس کامقصد محض قوت کااظہارنہیں بلکہ امن،تحفظ اورانصاف کے قیام میں تعاون ہو۔ تاہم تاریخ کاسبق یہ ہے کہ صرف عسکری معاہدے طویل عرصے تک قائم نہیں رہتے جب تک ان کے پیچھے مشترکہ وژن،اعتماداوروسیع ترمفادات کی بنیادموجودنہ ہو۔چنانچہ اس ممکنہ دفاعی محورکی کامیابی کاانحصاراس بات پرہوگاکہ شریک ممالک اسے محض عسکری اتحادکی بجائے ایک متوازن شراکت داری کے طورپرکس طرح تشکیل دیتے ہیں۔اگراس میں دفاع کے ساتھ اقتصادی تعاون،سیاسی ہم آہنگی اورتہذیبی روابط کوبھی شامل کیاگیاتویہ خطے میں ایک مؤثراوردیرپاقوت بن سکتاہے،لیکن اگریہ صرف وقتی تزویراتی ضرورت تک محدودرہاتواس کی پائیداری ایک سوال بنی رہے گی۔
عصرِ حاضر میں قومی سلامتی کاتصور صرف عسکری قوت تک محدودنہیں رہابلکہ معاشی استحکام،توانائی کاتحفظ اوروسائل کی دستیابی بھی دفاعی حکمتِ عملی کالازمی حصہ بن چکے ہیں۔ پاکستان کیلئے دفاعی معاہدے محض سیکیورٹی تعاون کاذریعہ نہیں بلکہ معاشی استحکام اورقومی خودمختاری کے تحفظ کاوسیلہ بھی ہیں۔کویت کے ساتھ ممکنہ تعاون اسی وسیع ترتناظرمیں دیکھا جاسکتاہے، جہاں دفاعی شراکت داری کے ساتھ توانائی کے تحفظ کوبھی بنیادی اہمیت حاصل ہے۔پاکستان کودرپیش توانائی کے مسائل اس کی معیشت اورقومی سلامتی دونوں پراثر انداز ہوتے ہیں،کیونکہ تیل،ایندھن اورتوانائی کے مستقل ذرائع کسی بھی ریاست کی صنعتی ترقی، معاشی رفتاراوردفاعی صلاحیت سے براہِ راست جڑے ہوتے ہیں۔کویت جیسے توانائی سے مالا مال ملک کے ساتھ تعاون پاکستان کونہ صرف توانائی کی ضروریات پوری کرنے میں مدددے سکتاہے بلکہ طویل المدتی اقتصادی منصوبہ بندی کیلئے ھی ایک مضبوط بنیاد فراہم کرسکتاہے۔
جغرافیائی سیاست میں توانائی ہمیشہ سیطاقت کاایک اہم ذریعہ رہی ہے۔تاریخ گواہ ہے کہ جن ریاستوں نے توانائی کے وسائل کوبہتر حکمتِ عملی کے ساتھ منظم کیا،انہوں نے اپنی سیاسی اورمعاشی خودمختاری کوبھی مضبوط بنایا۔پاکستان کیلئے توانائی کے شعبے میں شراکت داری دراصل معاشی ضرورت کے ساتھ ساتھ ایک تزویراتی قدم بھی ہے،کیونکہ ایک مستحکم معیشت ہی مضبوط دفاعی نظام کو سہارادے سکتی ہے۔اسلامی فکرمیں بھی معیشت اوردفاع کوایک دوسرے سے جدانہیں سمجھاجاتا۔ریاست کی قوت کادارومدارصرف اسلحے کے ذخائر پر نہیں بلکہ اس کے معاشی وسائل،عوامی خوشحالی اورخودکفالت پربھی ہوتاہے۔اسی مفہوم میں رزق اوررزم ایک دوسرے کے معاون بن جاتے ہیں؛رزق ریاست کواستحکام دیتا ہے اوررزم اس استحکام کے تحفظ کاذریعہ بنتاہے چنانچہ کویت کے ساتھ توانائی اوردفاعی تعاون کومحض ایک دوطرفہ معاہدے کے طورپرنہیں بلکہ پاکستان کی وسیع ترقومی حکمتِ عملی کے ایک حصے کے طورپردیکھناچاہیے،جہاں معاشی بقا،توانائی کاتحفظ اوردفاعی خودمختاری ایک دوسرے سے مربوط ہوکر قومی طاقت کی بنیادتشکیل دیتے ہیں۔
کویت کی جانب سے ایندھن کے مشترکہ ذخیرہ کی تجویزپاکستان اورکویت کے درمیان اقتصادی وتزویراتی تعاون میں ایک اہم پیش رفت قراردی جاسکتی ہے۔یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان موجودہ ڈیزل سپلائی کے معاہدے کومزید وسعت دینے کے ساتھ ساتھ پاکستان کیلئے توانائی کے تحفظ کی ایک نئی راہ بھی ہموارکرسکتاہے۔ایسے وقت میں جب توانائی کی ضروریات قومی معیشت،صنعتی ترقی اور دفاعی صلاحیت سے براہِ راست وابستہ ہوچکی ہیں،ایندھن کے محفوظ ذخائرکسی بھی ریاست کیلئے محض تجارتی سہولت نہیں بلکہ قومی سلامتی کاایک اہم ستون بن جاتے ہیں۔اس نوعیت کاتعاون پاکستان کوتوانائی کے میدان میں زیادہ استحکام اورمنصوبہ بندی کی صلاحیت فراہم کرسکتاہے،خصوصااگراسے سرمایہ
کاری،انفراسٹرکچرکی ترقی اورطویل المدتی اقتصادی حکمتِ عملی کے ساتھ مربوط کیاجائے۔تاہم ہرتزویراتی شراکت داری کی طرح اس کے ساتھ بھی احتیاط کاتقاضاموجودہے، کیونکہ کسی ایک بیرونی ذریعے پرحدسے زیادہ انحصارمستقبل میں پالیسی سازی کی آزادی کومحدودکرسکتاہے۔
اسلامی عسکری اورسیاسی فکرمیں خودکفالت،تدبراوروسائل کے متوازن استعمال کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔تاریخ یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کاحصول اسی وقت پائیدارثابت ہوتا ہے جب وہ داخلی استحکام اورخودانحصاری کی بنیادپرقائم ہو۔محض بیرونی تعاون پرانحصار کسی بھی ریاست کووقتی سہاراتودے سکتاہے،مگردیرپاقوت کیلئے ضروری ہے کہ اپنی داخلی
صلاحیتوں کوبھی مضبوط بنایاجائے۔
لہذاپاکستان کیلئے کویت کے ساتھ توانائی ذخیرہ اوردفاعی تعاون کاراستہ امکانات سے بھرپورضرورہے،مگراس کامیابی کاانحصاراس بات پرہوگاکہ اسلام آباد شراکت داری اورخود مختاری کے درمیان ایک متوازن راستہ اختیارکرے۔اصل دانشمندی یہی ہے کہ بیرونی تعاون کوقومی طاقت میں اضافے کاذریعہ بنایاجائے،نہ کہ کسی نئے انحصارکاسبب۔یوں توانائی کایہ منصوبہ محض ایندھن کیذخیرے کامعاملہ نہیں بلکہ قومی حکمتِ عملی کاایک ایساباب ہے جس میں معاشی استحکام،دفاعی تحفظ اورخودمختارفیصلوں کی صلاحیت ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہیں۔
پاکستان اورکویت کے ممکنہ دفاعی ومعاشی تعاون کایہ پورامنظرنامہ دراصل ایک ایسے دریاکی مانندہے جس میں سفارت کاری، عسکری حکمتِ عملی،معاشی مفادات،توانائی کی ضرورتیں اورنظریاتی وابستگیاں مختلف دھاروں کی صورت میں بہہ رہی ہیں۔ان تمام قوتوں کوایک متوازن سمت دیناہی اصل امتحان ہے۔پاکستان کیلئے بنیادی چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی قومی ترجیحات،علاقائی ذمہ داریوں اور عالمی تقاضوں کے درمیان ایساراستہ اختیارکرے جواس کے مفاد،خودمختاری اوروقارسے ہم آہنگ ہو۔
اسلامی فکرہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کااستعمال عدل،حکمت اورذمہ داری کے تابع ہوناچاہیے،جبکہ جغرافیائی سیاست یہ تقاضا کرتی ہے کہ ریاستیں بدلتے ہوئے حالات کو حقیقت پسندانہ نگاہ سے دیکھیں اوراپنے مفادات کاتحفظ کریں۔اسی طرح عسکری حکمتِ عملی کااصول یہ ہے کہ قوت صرف اسلحے کی فراوانی میں نہیں بلکہ بروقت فیصلے،درست ترجیحات اوردانشمندانہ استعمال میں پوشیدہ ہوتی ہے۔پاکستان کیلئے کامیابی کاراستہ اسی وقت ہموارہوسکتاہے جب وہ اسلامی اصولوں،جغرافیائی حقائق اورعسکری تدبیرکو ایک متوازن حکمتِ عملی میں یکجاکرے۔
اگرپاکستان اس توازن کوقائم رکھنے میں کامیاب ہوجاتاہے تووہ نہ صرف ایک مضبوط علاقائی قوت کے طور پرابھرسکتاہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک باوقار،ذمہ داراو رمؤثر کرداراداکرنے کی صلاحیت حاصل کرسکتاہے۔تاہم اگرطاقت کے حصول کی دوڑمیں حدسے تجاوزکیاگیایاغیر ضروری وابستگیوں کابوجھ بڑھ گیاتو یہی مواقع پیچیدہ چیلنجزمیں تبدیل ہوسکتے ہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کاسفر ہمیشہ دانش کے بغیرکامیابی تک نہیں پہنچتا؛بعض اوقات بے احتیاطی فتح کے راستے کو دشواریوں کے گرداب میں بدل دیتی ہے۔
پاکستان آج ایک ایسے تاریخی موڑپرکھڑاہے جہاں ہرفیصلہ آنے والے وقت کی سمت متعین کرسکتاہے۔یہ محض ایک دفاعی معاہدے یا توانائی کے منصوبے کامعاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع ترقومی وژن کاسوال ہے کہ پاکستان خودکوخطے میں کس کردارکے ساتھ دیکھنا چاہتاہے۔اسے ایک ایسے راستے کا انتخاب کرناہوگاجہاں ایمان کیساتھ علم، طاقت کے ساتھ تدبر ،اورمفادکیساتھ ذمہ داری شامل ہو۔
یوں یہ داستان ابھی مکمل نہیں ہوئی؛یہ وقت کے قلم سے لکھی جانے والی ایک مسلسل تاریخ ہے۔آنے والے فیصلے اس امرکاتعین کریں گے کہ پاکستان اس بدلتی ہوئی دنیامیں محض حالات کاپیروکاربنتاہے یاحکمت،استقامت اوربصیرت کے ساتھ اپنے لیے ایک باوقارمقام تراشتاہے۔یہی وہ میزان ہے جس پرقوموں کی پائیدارکامیابی اورتاریخی عظمت کا فیصلہ ہوتاہے۔