سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق میں بعض اوقات ایسے ابواب آتے ہیں جوقلم سے نہیں بلکہ حالات کے تیزدھارنیزوں سے لکھے جاتے ہیں۔جنوبی ایشیاکاموجودہ منظرنامہ بھی کچھ ایساہی ہیایک ایسی شطرنج کی بساط جس پرمہرے بھی غیرروایتی ہیں اورچالیں بھی۔زمانے کی گرداڑتی ہوئی بساط پرکچھ مہرے ایسے بھی ہوتے ہیں جوظاہراخاموش کھڑے رہتے ہیں،مگران کااثرپوری کھیل کی سمت بدل دیتا ہے ۔آج برصغیرکی سیاسی وعسکری فضامیں جوہواچل رہی ہے،وہ محض موسمی جھونکانہیں بلکہ ایک آنے والے طوفان کی پیشگی آہٹ ہے۔دلی اوراسلام آبادکے درمیان فاصلہ اب نہ دریاں میں ناپاجاسکتاہے نہ سڑکوں کے میلوں میںیہ فاصلہ مزاج،مفاداورحکمت کا ہے۔دلی اوراسلام آبادکے درمیان فاصلہ اب صرف زمینی میلوں کانہیں رہا؛یہ سوچ،مفاداورحکمتِ عملی کافاصلہ ہے۔اسی بساط کے ایک گوشے اورکونے پرواشنگٹن میں امریکاکاوہ صدربیٹھاہے جوکبھی مسکراتاہوادوست نظرآتاہے اورکبھی سوداگرکی مانندنرخ تولتا ہے۔یہ تحریر انہی بدلتے تعلقات، سفارتی اشاروں، عسکری حکمتِ عملیوں اور سیاسی رمزوں کا جائزہ ہے، جہاں ہر واقعہ محض خبر نہیں بلکہ ایک کہانی ہے، اور ہر کہانی کے پیچھے ایک پوشیدہ حکمت۔ یہ تحریر انہی بدلتی چالوں، سفارتی اشاروں، عسکری حکمتِ عملیوں اور تاریخی رمزوں کی ایک گرہ کشائی ہے،جہاں ہرواقعہ ایک داستان ہے اورہرداستان ایک حکمت کادریا۔اوریہ قلمی جولانیوںکی انتہائی احتیاط کاتقاضہ بھی ہیں۔
زمانہ شاہدہے کہ جغرافیہ محض زمین کے نقشے پرکھنچی ہوئی لکیروں کانام نہیں،بلکہ قوموں کے درمیان تعلقات کی ایک نازک کڑھائی ہے،جس کے تانے بانے سیاست،معیشت اور دفاع کے دھاگوں سے بنے جاتے ہیں۔اورتاریخ اس کی بھی گواہ ہے کہ جغرافیہ صرف مٹی اورپتھرکے ڈھیرکانام نہیں،بلکہ یہ ایک ایساآئینہ ہے جس میں قوموں کی امیدیں،خوف اورعزائم جھلکتے ہیں۔
پاکستان اورامریکاکے تعلقات کی تاریخ اتارچڑھاکی داستان ہے۔ایک وقت تھاجب اسلام آباد،واشنگٹن کاقریبی اتحادی کہلاتاتھاافغان جہادکادور،اقتصادی امداد،اورفوجی تعاون۔پھرنائن الیون کے بعددہشتگردی کے خلاف جنگ میں ایک نئی شراکت لیکن حالیہ برسوں میں یہ تعلقات سردمہری کاشکارہوئے،خصوصاٹرمپ انتظامیہ کے ابتدائی بیانات کے بعد۔اب بائیڈن دورمیں تعلقات کی نوعیت پھربدل رہی ہے،مگراس باراندازمختلف ہیبراہِ راست ضرورت سے زیادہ علاقائی مفادات اس قربت کوچلارہے ہیں۔
آج پاکستان ایک ایسے موڑپرکھڑاہے جہاں اس کا سامناایک غیرروایتی امریکی صدرسے ہیایساصدرجوروایتی سفارتی جملوں کے بجائے تجارتی سودے بازی کے لہجے میں بات کرتاہے،اورجس کے ہرجملے میں یاتوپیشکش چھپی ہوتی ہے یادھمکی کی جھلک۔یہ امریکی تاریخ کاپہلاصدرہے،جس کی زبان میں کبھی موم کی نرمی اورکبھی فولادکی سختی پائی جاتی ہے ۔ اس کی گفتگومیں سفارت کی روایتی خوشبوکی بجائے بازاری سودے بازی کی مہک آتی ہے،اورہرجملہ یاتوایک پیشکش ہے یاایک پوشیدہ دھمکی۔
یہ اصول پراناہے کہ ممالک کبھی صرف ضرورت کے سبب قریب نہیں آتے؛اصل کشش مفادات کامقناطیس پیداکرتاہے۔ظاہرہے کہ موجودہ عالمی منظرنامے میں امریکاکوبراہِ راست پاکستان کی فوجی یااقتصادی مددکی فوری ضرورت نہیں،مگرسفارت کااصول ہمیشہ یہی رہا ہے کہ قومیں کبھی حقیقی ضرورت کے سبب قریب نہیں آتیں،بلکہ مفادات کی کشش انہیں ایک دوسرے کی مجلس میں لابٹھاتی ہے۔
امریکاکواس وقت پاکستان سے براہِ راست فوجی مددنہیں چاہیے،مگرتین بڑے عوامل اس تعلق کوزندہ رکھے ہوئے ہیں۔واشنگٹن جانتاہے کہ افغانستان میں استحکام کادروازہ اسلام آبادسے ہوکرگزرتاہے۔بیلٹ اینڈروڈمنصوبہ اورسی پیک خطے میں امریکی اثرکوچیلنج کرتے ہیں۔دہلی اورواشنگٹن کی تجارتی کشیدگی امریکی پالیسی سازوں کوپاکستان کے قریب آنے پرمجبورکرتی ہے۔واشنگٹن اس بات سے بھی واقف ہے کہ افغانستان،پاکستان،ایران اورخطے کے دیگرممالک کاسیاسی اورتجارتی مستقبل چین کے ساتھ مضبوط ترہوتاجا رہا ہے۔پاکستان کی قیمت پربھارت کے ساتھ امریکی تعلقات نے خاصانقصان پہنچایاہے،پاکستان اورخطے کے دیگرممالک اس بات سے واقف ہیں کہ امریکااپنے فوائدکی تکمیل پر انہی دوستوں کی قربانی دینے سے گریزنہیں کرتا۔پاکستان اورافغانستان کے بعدبھارت نے بھی امریکی دوستی کامزہ چکھ لیاہے۔آج سے15برس قبل اپنے کالموں میں برملااس کا تذکرہ کیاتھاکہ پاکستان توامریکاکی دوستی کے نتائج بھگت چکالیکن انڈیاخودکوسنبھال نہیں پائے گاکیونکہ جغرافیائی لحاظ سے ہندوستان میں جاری علیحدگی کی تحریکیں ایک مرتبہ پھر پورے زوروشورسے اپنے حقوق کیلئے میدانِ عمل میں اتریں گی اورانڈیاکی فوج اوردیگر عسکری ادارے پہلے ہی اندرسے کھوکھلے ہوچکے ہیں۔انڈین فوج میں بڑھتے ہوئے خود کشیوں کے اعدادوشمارسے بھی پتہ چل رہاہے کہ اب انڈین فوج میں بھرتی ہونے کا شوق بھی ختم ہوچکاہے۔
اس لئے یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے کہ امریکاکوپاکستان کی"ضرورت"نہ ہونے کے باوجودتعلقات کی وجہ صرف یہی ہے کہ افغانستان سے امریکی افواج کاانخلا،خطے میں چین کابڑھتاہواسایہ،اوربھارت کے ساتھ واشنگٹن کی تجارتی چپقلش یہ سب مل کر امریکاکواسلام آبادکی دہلیزپرلے آئے ہیں بلکہ یوں کہاجائے کہ یہ سب مل کرواشنگٹن کواسلام آبادکے دروازے پردستک دینے پر مجبورکررہے ہیں۔یہ قربت بظاہرناپ تول کی ہے،مگردراصل یہ ایک شطرنجی چال ہے،جہاں ایک غلط قدم پوری بازی الٹ سکتاہے۔
امریکی سرزمین پرپاکستانی آرمی چیف کالب ولہجہ محض کلمات نہ تھے بلکہ گویاایک نئے صفحے کاعنوان تھا۔امریکی سرزمین پر پاکستانی آرمی چیف کی تقریرگویاخاموش تالاب میں پتھر پھینکنے کے مترادف ثابت ہوئی۔پاکستانی آرمی چیف کاامریکی تھنک ٹینک میں خطاب محض ایک روایتی تقریرنہیں تھی؛اس میں ایسے نکات شامل تھے جوواشنگٹن میں اعتمادکی فضا پیدا کرنے میں کامیاب رہے،اسلام آبادنے اسے تعلقات میں نئے باب کے آغازکی بشارت اورخوش آئندشروعات جانا،مگردہلی نے نہ صرف اسے شک اور تشویش کی نظرسے دیکھابلکہ دہلی کے دل میں یہ بات تیرکی مانندپیوست ہوگئی کہ مودی جوخودکوخطے کاسپرپاورسمجھ کرامریکا کواپنی اہمیت کیش کروانے کے پروگرام جلدی میں طے کررہاتھا، امریکا کو چین کے خلاف محاصرہ میں خودکوعین ضروری سمجھ کر کواڈکی رکنیت حاصل کرکے خودکودنیاکی تیسری قوت جان رہاتھا،ایک معمولی جھٹکے نے تکبرکے غبارے سے ہوانکال دی اور مودی کا چاپلوسی میں مائی فرینڈکہہ کر ٹرمپ کو مخاطب کرنا بھی کسی کام نہ آیا اوراسی نے دنیابھرکے میڈیاکے سامنے انڈین معیشت کوبھی مردہ قرار دے کر ’’شائننگ انڈیا‘‘کو گہری اور اندھی کھائی میں پھینک دیا ہے۔
مودی نے انتہائی مکاری کے ساتھ ایک مرتبہ پھرروس اورچین کی بلائیں لینے کاکام شروع کردیاہے لیکن روس اورچین دونوں اچھی طرح سمجھ چکے ہیں۔روس کو پہلے ہی ہی شکائت رہی ہے کہ ’’سوویت یونین سے روس کے سفرتک‘‘میں سب سے پہلے انڈیا آنکھیں پھیرکر امریکی صدرکے سامنے سجدہ ریزہوگیاجبکہ کشمیر اور بنگلہ دیش کے معاملے پرسوویت یونین ہی اس کی مدد کو پہنچ کراس کومشکل سے بچانے کاکام کرچکاتھالیکن اب چندبرسوں سے وہ خودکوامریکا اورچین کے بعد دنیاکی تیسری قوت سمجھ بیٹھا تھا۔پاکستان کے ساتھ چند دنوں کی جنگ میں بری طرح ہزیمت اورحالیہ امریکی اقدامات نے خطے میں طاقت کے ترازو پرمودی کے سینے پرایک ایسا نیا وزن لاد دیاہے کہ جس نے پرانے توازن اوربرابری کے ساتھ مودی کے تکبرکوہلاکررکھ دیاہے۔(جاری ہے)