سمیع اللہ ملک(پہلی قسط)
تاریخ کے اوراق جب اپنے سینے میں تہذیبوں کی کشمکش،سلطنتوں کی آرزوئیں اوراقوام کی حکمتِ عملی کے نقوش محفوظ کرتے ہیں تو ان کے حاشیوں پرایک مستقل سوال ثبت رہتا ہے :طاقت کااصل سرچشمہ کیاہے تلوار،تدبیریاتہذیبی ہم آہنگی؟وقت کے دریچوں سے جھانک کراگرحال کے افق پرنگاہ ڈالی جائے تومشرقِ وسطی اورجنوبی ایشیاکی سیاست ایک ایسے شطرنجی کھیل کی صورت اختیارکر چکی ہے جس میں ہرمہرہ اپنی جگہ بظاہرساکن مگردرحقیقت متحرک ہے۔
زمانہ حاضر کی سیاست محض مفادات کی کشمکش نہیں بلکہ ایک ہمہ گیرمعرکہ افکارہے،جہاں ریاستیں اپنی بقا،خودمختاری اوروقار کیلئے مختلف حکمتِ عملیوں کوبروئے کارلاتی ہیں۔ عصر ِحاضر میں جب مشرقِ وسطی ایک بارپھرعالمی سیاست کامحوربن چکاہے، پاکستان ایک ایسے فکری وعسکری سنگم پرکھڑاہے جہاں جغرافیہ،عقیدہ،معیشت اورسیاست باہم گتھے ہوئے ہیں۔پاکستان،جوایک جانب ایٹمی قوت کاحامل ہے اوردوسری طرف ایک نظریاتی ریاست کے طورپراپنی منفردشناخت اورجغرافیائی محلِ وقوع کے باعث اس کشمکش میں ایک بارپھرعالمی طاقتوں اورعلاقائی ریاستوں کے درمیان ایک اہم تزویراتی مقام پرکھڑاہے۔
کویت کے ساتھ ممکنہ توسیعی دفاعی معاہدہ اسی وسیع ترسیاسی وعسکری منظرنامے کاایک نیاباب اورایک نئی جہت کااضافہ ہے،ایک ایساباب جس میں اسلامی اخوت،اسٹریٹجک مفادات اورعالمی طاقتوں کی شطرنج ایک ساتھ جلوہ گرہیں۔جس کے مضمرات نہ صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود ہیں بلکہ پورے خطے کی سیاسی حرکیات کومتاثر کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔کویت کے ساتھ ممکنہ دفاعی معاہدہ اسی فکری اورعسکری تناظرمیں ایک نئی جہت کامظہرہے،جہاں اسلامی اصولِ جنگ،توازنِ قوت،اوراسٹریٹجک بصیرت ایک دوسرے میں مدغم ہوتے دکھائی دیتے ہیں۔
پاکستان اورکویت کے مابین جاری ابتدائی مذاکرات محض ایک دفاعی معاہدے کی بنیادنہیں بلکہ ایک کثیرالجہتی اشتراک کی تمہید ہیں، جہاں توانائی کی ضرورت اورعسکری تعاون ایک دوسرے کے متمم بن کرسامنے آتے ہیں۔ متعددذرائع کے مطابق پاکستان اورکویت کے درمیان ایک توسیعی دفاعی معاہدے پرابتدائی سطح کی بات چیت جاری ہے۔یہ مذاکرات محض عسکری نوعیت کے نہیں بلکہ توانائی کے تعاون اورسرمایہ کاری کے تبادلے سے جڑے ہوئے ہیں۔گویایہ ایک ایسا معاہدہ ہے جس میں بارودکی مہک کے ساتھ تیل کی خوشبوبھی شامل ہے تاہم،یہ سفارتی بیل ابھی پوری طرح بارآورنہیں ہوئی،کیونکہ امریکااورایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اس عمل کوپیچیدگیوں کے جال میں الجھاسکتی ہے۔یہ صورت حال اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں کوئی بھی قدم خلامیں نہیں اٹھایاجاتابلکہ ہرفیصلہ عالمی طاقتوں کی کشمکش کے زیرِاثر ہوتاہے ۔
اسلامی سیاسی فکرمیں’’تعاون علی البر‘‘کاجواصول بیان کیاگیاہے،اس کی ایک عملی جھلک یہاں دیکھی جاسکتی ہے،پاکستان اورکویت کے درمیان جاری مذاکرات کواگر اسلامی عسکری فکرکی روشنی میں دیکھا جائے تویہ اعدادِ قوت کے قرآنی اصول کی عملی تعبیر معلوم ہوتے ہیں۔ریاست کایہ حق اورفرض ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت کومضبوط بنائے،مگراس کے ساتھ حکمت اورمصلحت کا دامن بھی ہاتھ سے نہ چھوڑے۔ توانائی اورسرمایہ کاری کے بدلے دفاعی تعاون دراصل ایک ایسا توازن ہے جہاں مادی وسائل اور عسکری قوت ایک دوسرے کوسہارا دیتے ہیں تاہم عالمی طاقتوں کے دباخصوصاامریکااورایران کے مابین کشیدگیاس تعاون کوایک آزمائش میں ڈال دیتے ہیں۔جغرافیائی اعتبارسے خلیج کاخطہ توانائی کی شہ رگ ہے،اورپاکستان اس شہ رگ تک رسائی حاصل کرنے کیلئے ایک ایسے دروازے پردستک دے رہاہے جس کے پیچھے مواقع بھی ہیں اورمخاطربھی۔گویامیدانِ سیاست میں ہرقدم ایک محتاط پیش قدمی کامتقاضی ہے۔
اسلام آبادکے ایوانوں میں ایک خاموش اضطراب محسوس کیاجارہاہے۔گزشتہ برس سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والاباہمی دفاعی معاہدہ اب ایک دودھاری تلوارکی ماننددکھائی دیتاہے۔پاکستان کاسعودی عرب کے ساتھ دفاعی تعلق صرف سیاسی نہیں بلکہ ایک روحانی وتہذیبی نسبت بھی رکھتاہے مگراسلامی عسکری فکرمیں’’ولاو براکااصول ‘‘یعنی دوستی اور فاصلہ بہت نازک توازن کاتقاضاکرتا ہے۔پاک سعودی دفاعی معاہدہ ایک ایساتاریخی رشتہ ہے جس میں مذہبی ہم آہنگی،حرمین شریفین کی تقدیس اوردہائیوں پرمحیط عسکری تعاون شامل ہے مگرایران اورسعودی عرب کے درمیان کشیدگی،خصوصایمن کے تنازع اورحوثی حملوں کے تناظرمیں،پاکستان کوایک نازک دوراہے پرلاکھڑاکرتی ہے۔
ایران سے منسلک حوثی تحریک کی جانب سے سعودی عرب پرحملے کے بعدپاکستان کاردعمل کہ مملکت پرحملہ دراصل پاکستان پر حملہ تصورہوگا،ایک ایسااعلان ہے جس نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچادی ہے۔تاہم یہ اعلان ایک مضبوط وابستگی کااظہاراوروفاداری کامظہرہے یہی وابستگی اسے ایک وسیع ترتنازع میں کھینچ سکتی ہے۔یہاں اصل چیلنج یہ ہے کہ وفاداری کوحکمت کے ساتھ ہم آہنگ رکھاجائے،تاکہ جذباتی وابستگی اسٹریٹجک بصیرت پرغالب نہ آجائے۔پاکستان کے اس بیان میں وفاداری کی جھلک توہے،مگراس کے ساتھ ایک ممکنہ جنگی الجھاؤکے خطرہ کی آہٹ بھی سنائی دیتی ہے۔ یوں محسوس ہوتاہے کہ پاکستان ایک ایسی راہ پرگامزن ہے جہاں ہرقدم سوچ سمجھ کررکھناناگزیرہے۔اسلامی سیاسی اخلاقیات کاتقاضا ہے کہ امت کے اندرتوازن،عدل اورمصالحت کوفروغ دیاجائے،مگرعملی سیاست میں یہ توازن ایک باریک دھاگے پرچلنے کے مترادف ہے۔
پاکستان کی خارجہ پالیسی میں ایک اہم پہلویہ رہاہے کہ وہ ایران اورخلیجی ریاستوں کے درمیان ایک متوازن کرداراداکرنے کی کوشش کرتاآیاہے۔یہ کردارمحض سفارتی ضرورت نہیں بلکہ اسلامی دنیامیں باہمی اعتماد،مصالحت اوروحدت کے تصورسے بھی جڑاہواہے۔تاہم کویت کے ساتھ کسی وسیع تردفاعی معاہدے کی صورت میں یہ سوال اپنی جگہ اہم ہوجاتاہے کہ آیاپاکستان ایک غیرجانب دارثالث کے طورپراپناکرداربرقراررکھ سکے گایاایک مخصوص دفاعی صف بندی کاحصہ تصورکیاجائے گا۔جغرافیائی سیاست کااصول یہ ہے کہ ثالثی اسی وقت مؤثررہتی ہے جب ثالث پرتمام فریق اعتمادکریں۔اگرکوئی ریاست کسی ایک فریق کے ساتھ گہری عسکری وابستگی اختیارکرلے تو دوسرے فریق کے خدشات بڑھ سکتے ہیں اورسفارتی توازن متاثرہونے کاامکان پیداہو جاتاہے۔یہی وہ نازک مرحلہ ہے جہاں ریاستی حکمتِ عملی کوجذباتی وابستگی،تاریخی روابط اورقومی مفادات کے درمیان ایک باریک میزان قائم کرناپڑتاہے۔
اسلامی تاریخ میں صلحِ حدیبیہ ایک ایسی روشن مثال ہے جہاں بظاہرمحدود قدم دراصل دوررس حکمت کامظہر ثابت ہوا۔اس واقعے سے یہ سبق ملتاہے کہ طاقت کااصل کمال صرف میدان میں قوت کے اظہارمیں نہیں بلکہ حالات کواپنے حق میں ڈھالنے والی بصیرت میں بھی پوشیدہ ہے۔پاکستان اگرایران اورخلیجی ریاستوں کے درمیان اعتمادسازی کاکردارادا کرناچاہتا ہے تواسے اسی حکمت،تدبراوردوراندیشی کوپیش نظررکھناہوگا۔چنانچہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ پاکستان کسی ایک ریاست کے ساتھ دفاعی تعاون کرتاہے یانہیں،بلکہ بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ اپنی سفارتی شناخت،اسلامی روابط اورعلاقائی امن کے کردارکوکس طرح برقراررکھتاہے۔ایک متوازن حکمتِ عملی ہی پاکستان کوایسامقام دے سکتی ہے جہاں وہ نہ صرف اپنے اتحادیوں کاقابلِ اعتماد شراکت داررہے بلکہ امتِ مسلمہ کے درمیان مکالمے اورمفاہمت کامؤثر وسیلہ بھی بن سکے۔
کویت اورپاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کی بنیاداگرچہ محدودنوعیت کی رہی ہے،جس میں تربیتی پروگرام اورمشترکہ عسکری مشقیں شامل ہیں،تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات نے اس تعلق کوایک وسیع ترتزویراتی شراکت داری کی سمت متحرک کردیاہے۔کویت کی خواہش ہے کہ پاکستان کے ساتھ اس کادفاعی تعلق سعودی عرب کے ساتھ قائم دیرینہ عسکری تعاون کی مانندہمہ جہت شکل اختیارکرے، جس میں زمینی افواج،فضائی قوت،ڈرون ٹیکنالوجی،فضائی دفاعی نظام اوردیگرجدید دفاعی صلاحیتوں کااشتراک شامل ہو۔
عسکری حکمتِ عملی کے زاویے سے دیکھاجائے توپاکستان کی دفاعی صلاحیت کویت کیلئے ایک اہم ’’قوت افزاعنصر‘‘یعنی اضافی طاقت ثابت ہوسکتی ہے،کیونکہ پاکستان کے پاس وسیع عسکری تجربہ،تربیت یافتہ افواج اوردفاعی پیداوارکی صلاحیت موجودہے۔تاہم اسلام آبادکیلئے یہ فیصلہ محض عسکری تعاون کامعاملہ نہیں بلکہ وسائل،علاقائی ذمہ داریوں اورقومی سلامتی کی ترجیحات سے گہرا تعلق رکھتاہے۔سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کادفاعی رشتہ کئی دہائیوں پرمحیط تاریخی،مذہبی،ثقافتی اورسیاسی روابط کانتیجہ ہے، جسے کسی نئے تعلق پر فوری طورپرمنطبق کرناایک مختلف نوعیت کاچیلنج ہوگا۔
اسلامی عسکری فکرمیں کسی بھی بڑی حکمتِ عملی کیلئے بتدریج، توازن اوربصیرت کوبنیادی اہمیت حاصل ہے۔تاریخِ اسلام میں بھی کامیاب قیادت نے محض طاقت کے اظہارکی بجائے حالات کے مطابق مرحلہ وارپیش قدمی کوترجیح دی ہے۔(جاری ہے)