بدلتی عالمی بساط اورپاکستان کاامتحان (پہلی قسط)

سمیع اللہ ملک
آج میں آپ کی توجہ ایک ایسی بین الاقوامی پیش رفت کی طرف مبذول کراناچاہتاہوں جوبظاہرایک تجارتی معاہدہ ہے،مگردرحقیقت جنوبی ایشیااورعالمی سیاست کے توازن میں ایک معنی خیزتبدیلی کی علامت ہے۔امریکااورانڈیاکے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ جس کے تحت انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کوکم کرکے18فیصدکیاگیاہے محض معاشی رعایت نہیں،بلکہ ایک واضح تزویراتی پیغام ہے۔یہ پیغام چین،روس،اورپورے خطے کیلئے ہے،اوراس کے مضمرات پاکستان تک بھی پہنچتے ہیں۔ 
امریکااورانڈیاکے درمیان حالیہ تجارتی معاہدہ ایک معاشی رعایت نہیں،بلکہ فورس ملٹی پلائرہیاورفورس ملٹی پلائرہمیشہ میدانِ جنگ سے پہلے معیشت میں تیارکیے جاتے ہیں۔یہ معاہدہ اس حقیقت کواجاگرکرتاہے کہ امریکااب انڈیاکومحض ایک منڈی نہیں،بلکہ ایک اسٹریٹیجک ستون کے طورپردیکھ رہاہیبالخصوص خطے میں پاک چین کے بڑھتے ہوئے اثرکے تناظرمیں۔ تاریخ ہمیں سکھاتی ہے کہ جب کسی ایک ریاست کوبیرونی سرپرستی کے ذریعے غیرمعمولی تقویت دی جاتی ہے،توخطے میں عدم توازن جنم لیتاہے۔برصغیر کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ جب بھی کسی ایک ریاست کوبیرونی سرپرستی کے ذریعے غیرمعمولی تقویت ملی،خطے میں عدم استحکام نے جنم لیا۔موجودہ امریکاانڈیا تجارتی معاہدہ اسی تاریخی تسلسل کی ایک نئی کڑی ہے،جسے محض اقتصادی واقعہ سمجھنا سیاسی سادگی ہوگی۔
عالمی سیاست کے افق پرایک اورمعاہدہ اس شان سے نمودارہواہے کہ گویاالفاظ کم اورمفہوم زیادہ ہیں۔امریکااورانڈیاکے مابین تازہ تجارتی معاہدہ محض دو ریاستوں کے درمیان معاشی ہم آہنگی نہیں،بلکہ عالمی طاقت کے توازن میں ایک نیازاویہ ہے۔امریکااورانڈیاکے درمیان تازہ تجارتی معاہدہ،جس کے تحت انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کو کم کرنا محض معاشی پیش رفت نہیں بلکہ عالمی اور علاقائی طاقت کے توازن میں ایک معنی خیزتبدیلی ہے۔امریکانے انڈیا سے درآمد کی جانے والی اشیاپرعائدٹیرف کوکم کرکے18فیصدکر دیاہے۔یہ اعلان بظاہرمعاشی نوعیت کاہے،مگراس کے باطن میں سیاست،حکمتِ عملی اور طاقت کے کئی دھارے بہہ رہے ہیں۔
انڈین مصنوعات پرامریکی ٹیرف کو18فیصدتک کم کرناانڈیاکی برآمدی صلاحیت،زرِمبادلہ اورصنعتی بنیادکوتقویت دے گا۔یہ تقویت بالواسطہ طورپردفاعی بجٹ،درمیانی سے طویل مدتی خطرہ،ایمپلی فائر،اورفورس سٹرکچرمیں منتقل ہوگی۔یہ ایک فوری نہیں مگریقینی تبدیلی ہے۔یہ معاہدہ،روسیوکرین جنگ،چین  امریکامسابقت،اورجنوبی ایشیاکی جغرافیائی حساسیت کے پس منظرمیں غیرمعمولی اہمیت رکھتاہے۔پاکستان،جوجغرافیہ،تاریخ اورسیاست کے سنگم پرکھڑاہے، اس تبدیلی سے غیرمتعلق نہیں رہ سکتا۔ایسے فیصلے براہِ راست نہ سہی،بالواسطہ طورپرخطے کی نبض پراثراندازہوتے ہیں۔
ٹرمپ اورمودی نے اس فیصلے کااعلان سوشل میڈیاکے ذریعے کیایہ بھی ہمارے عہدکی ایک علامت ہے کہ اب تاریخ کے فیصلے ایوانوں سے نکل کر ڈیجیٹل دیواروں پرلکھے جارہے ہیں۔ٹرمپ نیٹروتھ سوشلپرواضح کیاکہ امریکااورانڈیاکے درمیان تجارتی معاہدہ طے پاگیاہے۔امریکاانڈیاکوبتدریج ایک اقتصادی،تزویراتی اورعسکری شراکت دارکے طورپر مضبوط کررہاہے،جس کابنیادی مقصد چین کے اثرکومحدودکرناہے۔اس تناظرمیں انڈیاکی معاشی تقویت،خطے میں طاقت کے عدم توازن کوجنم دے سکتی ہے،جس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی سلامتی پرمرتب ہوں گے۔ٹیرف میں کمی انڈین برآمدات کیلئے نئی راہیں کھولے گی،جس سے انڈیاکی معاشی قوت میں اضافہ متوقع ہے۔تاریخ کاسبق یہ ہے کہ برصغیرمیں معاشی برتری اکثرعسکری اور سفارتی خوداعتمادی میں بدل جاتی ہے۔پاکستان کواس پہلوسے ہوشیاررہناہوگاکہ معاشی عدم توازن کہیں اسٹریٹیجک عدم توازن میں تبدیل نہ ہو۔
امریکا اس وقت تین محاذوں پربیک وقت سرگرم ہے۔چین کاپھیلتاہوااثر،روس کویوکرین جنگ کے ذریعے محدودکرنا،انڈیاکوایک قابلِ اعتمادعلاقائی ستون بنانا،انڈیاکودی جانے والی تجارتی رعایتیں اسی بڑے فریم ورک کاحصہ ہیں۔یہ اقدام چین کے خلاف کنٹینمنٹ آرکیٹیکچرکاحصہ ہے۔انڈیاکومعاشی طورپر مضبوط کرکے امریکاخطے میں ایک ایساشراکت دارچاہتاہے جوخودلڑے،خودخرچ کرے اور امریکی اسٹریٹیجک اہداف کوسہارادے۔اس تناظرمیں پاکستان بنیادی اتحادی نہیں بلکہ حالات کے ساتھی کے درجے میں رکھاجارہا ہے ۔ انڈیاکی ممکنہ معاشی مضبوطی کابراہِ راست اثراس کی عسکری خوداعتمادی اورسفارتی جارحیت پرپڑسکتاہے۔پاکستان کیلئے یہ لمحہ جذباتی ردِعمل کانہیں،بلکہ ٹھنڈے دل اورکھلی آنکھ سے جائزہ لینے کاہے۔یادرہے کہ امریکاانڈیا معاہدہ ایک یاددہانی ہے کہ دنیاتیزی سے بدل رہی ہے۔پاکستان کیلئے راستہ وہی ہے جوتوازن،وقاراوربصیرت سے نکلتا ہونہ اندھی وابستگی ،نہ غیرضروری محاذ آرائی۔
اس معاہدے کے ساتھ ہی انڈیاپرروسی تیل کی خریداری کے باعث اضافی ٹیرف عائدکیاگیاہے۔یہ اقدام ہمیں یاددلاتاہے کہ عالمی سیاست میں دوستی مستقل نہیں ہوتی صرف مفادمستقل ہوتاہے۔پاکستان کیلئیاس میں واضح سبق ہے کہ توانائی،تجارت اورخارجہ پالیسی کو الگ الگ خانوں میں نہیں رکھاجاسکتا۔یہ معاہدہ اس امرکی یاددہانی ہے کہ امریکا، انڈیا کومحض ایک تجارتی شراکت دارنہیں بلکہ چین کے مقابل ایک تزویراتی ستون کے طورپردیکھتاہے۔اس تناظر میں پاکستان کیلئیچیلنج یہ ہے کہ وہ خودکو کسی بلاک کی محض توسیع کی بجائے ایک خودمختاراور قابلِ اعتمادریاست کے طورپرپیش کرے۔
اس اعلان کی بازگشت اس لیے بھی غیرمعمولی ہے کہ گزشتہ برس کے دوران امریکااورانڈیاکے تعلقات کئی نشیب وفرازسے گزرے۔ کبھی قربت کی بات ہوئی ،کبھی فاصلے کی دھمکی۔ایسے میں امریکی سفیرسرجیوگورکایہ کہناکہصدرٹرمپ وزیراعظم مودی کوواقعی ایک اچھادوست سمجھتے ہیںمحض سفارتی جملہ نہیں بلکہ ایک سیاسی پیغام ہے۔اس معاہدے کے تحت انڈیانہ صرف امریکاکے ساتھ اپنی ٹیرف اورنان ٹیرف رکاوٹوں کوکم کرے گابلکہبائے امیریکن پالیسی کے تحت امریکی مصنوعات کی بڑے پیمانے پر خریداری کابھی پابندہوگا ۔ توانائی، ٹیکنالوجی،زراعت،کوئلہ اوردیگرشعبوں میں500ارب ڈالرسے زائد کی خریداری کاعندیہ دراصل امریکی معیشت کیلئے ایک تازہ خون ہے۔
انڈیاکی برآمدی معیشت میں اضافے سے دفاعی اخراجات بڑھنے کاامکان،امریکاانڈیا قربت کے باعث پاکستان پرسفارتی دبامیں اضافہ ،خطے میں عسکری بیانیے کی نئی تشکیل، جس میں پاکستان کومحتاط کرداراداکرناہوگا۔انڈیا اس معاہدے کوعالمی سطح پراپنی قبولیت، اہمیت اورداخلی سطح پرمعاشی کامیابی کے طورپر پیش کرے گا۔اس کے نتیجے میں عسکری خود اعتمادی میں اضافہ،خطے میں زیادہ جارحانہ پالیسی اورپاکستان کے خلاف بیانیے میں سختی کاامکان موجودہے۔علاوہ ازیں انڈیاپرروسی تیل کے باعث اضافی ٹیرف یہ واضح پیغام ہے کہ اسٹریٹیجک خودمختاری کی حدوہیں ختم ہوجاتی ہے جہاں امریکی مفادشروع ہوتاہے۔
پاکستان کیلئے سبق واضح ہے کہ توانائی،سپلائی چین اوردفاعی وابستگیوں میں فالتوپن اورتنوع ناگزیرہے۔اسی دوران ایک اورفیصلہ سامنے آیاجواس معاہدے کے مزاج کوسمجھنے میں کلیدی حیثیت رکھتاہے۔امریکانے روس سے انڈیاکی تیل کی خریداری پر25فیصد اضافی ٹیرف عائد کردیا،جس کے بعدیہ مجموعی طورپر 50فیصدتک جاپہنچا یہ اقدام بظاہرمعاشی دباہے،مگردرحقیقت یوکرین جنگ کے تناظرمیں روس کوتنہا کرنے کی کوشش کاایک نیا باب ہے۔
انڈیاپرروسی تیل کے باعث عائداضافی ٹیرف دراصل واشنگٹن کایہ پیغام تھاکہ اب دوستی بھی شرائط کے ساتھ ہوگی۔ پاکستان کیلئیاس میں یہ سبق مضمرہے کہ خارجہ پالیسی میں توانائی،تجارت اورسیاست کوایک دوسرے سے الگ کرکے نہیں دیکھاجاسکتا۔ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ پاکبھارت کشیدگی کے دوران بعض مغربی بیانیے دفاعی منڈی کی سیاست سے جڑے رہے۔یہ صورتحال پاکستان کیلئے ایک موقع بھی ہے کہ وہ خودکومحض عسکری طاقت کے طورپر نہیں،بلکہ علاقائی استحکام کے ذمہ دارفریق کے طورپرپیش کرے۔ماضی قریب میں انڈین فضائی ناکامیوں کامغربی بیانیہ محض عسکری تجزیہ نہیں تھایہ اسلحہ سازی کی عالمی منڈی میں امریکی اسلحہ کی برتری کاپیغام بھی تھاجس سیفرانسیسی پلیٹ فارمزکی ساکھ کمزور ہوئی،امریکی سسٹمزکومتبادل کے طورپرپیش کیاگیاجبکہ پاکستانی عسکری فتح میں امریکی اسلحہ کاکوئی حصہ نہیں تھابلکہ پاک چین کی نئی عسکری دانش کاکمال تھا۔
جبکہ دوسری طرف انڈیاآئندہ دفاعی حصول میں زیادہ امریکی انحصارکی طرف جائے گا،جس سے انٹرآپریبلٹی بڑھے گی،انٹیلی جنس شئیرنگ بڑھے گی اور پاکستان کے خلاف نیٹ ورک میں مددملے گی۔اب یہ واضح ہوگیاہے کہ پاکستان کا اصل چیلنج صرف انڈیاہی نہیں بلکہ بدلتی عالمی ترجیحات میں اپنی افادیت کو برقراررکھناہے۔صرف سلامتی کے دلائل اب کافی نہیں؛معاشی،سفارتی اورتکنیکی وزن ناگزیرہوچکاہے۔ان حالات میں جہاں پاکستان کیلئیچین کے ساتھ اسٹریٹیجک ہم آہنگی کومزیدگہرائی دینے کاموقع ضروری ہوگیاہے وہاں غیرجانبداراور متوازن سفارت کاری کے ذریعے امریکااوریورپ میں اعتمادسازی، علاقائی استحکام کے داعی کے طورپرپاکستان کے کردارکواجاگر کرنے کاامکان بھی میسرآ گیا ہے۔