تیل،تلواراورتدبر:خلیج کی بدلتی بساط پرپاکستان

سمیع اللہ ملک(دوسری قسط)
اسی اصول کے تحت کویت کے ساتھ دفاعی تعاون کوبھی ایک ارتقائی عمل کے طورپردیکھنازیادہ مناسب ہوگا،جس میں اعتماد سازی ،مشترکہ تربیت،تکنیکی تعاون اور دفاعی ہم آہنگی کے مراحل بتدریج آگے بڑھیں۔ایک وسیع عسکری اتحاداگرچہ دونوں ممالک کیلئے دفاعی فوائدکاباعث بن سکتاہے،لیکن غیرمحتاط توسیع عسکری وسائل پردباؤاور تزویراتی پیچیدگیوں کوبھی جنم دے سکتی ہے۔اس لیے پاکستان کیلئے دانشمندانہ راستہ یہی ہوگاکہ وہ کویت کی دفاعی ضروریات اوراپنی قومی ترجیحات کے درمیان ایک متوازن حکمتِ عملی اختیارکرے۔طاقت کااصل حسن صرف اس کے اظہارمیں نہیں بلکہ اس کے مناسب، محدوداورمؤثراستعمال میں پوشیدہ ہوتاہے۔
پاکستانی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق،اگرچہ کویت کی دفاعی خواہشات وسیع اورہمہ جہت ہیں،تاہم اسلام آباداس مرحلے پرجنگی دستوں کی مستقل تعیناتی پرغور نہیں کررہا۔یہ مؤقف محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک گہری عسکری اورسفارتی حکمتِ عملی کااظہار ہے،جس میں پاکستان نہ توتعاون کے امکانات کومحدودکرناچاہتاہے اورنہ ہی خودکوایسے عسکری التزامات میں مقیدکرناچاہتاہے جو مستقبل میں اس کی قومی ترجیحات پربوجھ بن سکیں۔یہ ایک ایسے چراغ کی مانندہے جس کی روشنی محتاط ضرورہے مگرسمت واضح رکھتی ہے۔
اسلامی عسکری فکرمیں طاقت کے استعمال کوہمیشہ حکمت، ضرورت اورمقصدیت کے اصولوں سے وابستہ رکھاگیاہے۔تدریج کا اصول اس امرکی رہنمائی کرتاہے کہ بڑے فیصلے مرحلہ وار،حالات کے ادراک اوروسیع ترمصلحت کوسامنے رکھتے ہوئے کیے جائیں۔اسی تناظرمیں پاکستان کامحتاط رویہ اس بات کی علامت ہے کہ وہ اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو نبھاتے ہوئے غیرضروری عسکری الجھاؤسے محفوظ رہنے کی کوشش کررہاہے۔
دفاعی حکمتِ عملی میں ایک بنیادی فرق دفاع اورجارحیت کے درمیان ہوتاہے۔اسلامی جنگی اصولوں کے مطابق قوت کااستعمال ظلم، توسیع پسندی یاغلبے کیلئے نہیں بلکہ امن،تحفظ اور جائز دفاع کیلئے ہوناچاہیے۔پاکستان کی جانب سے فوری طورپرجنگی افواج بھیجنے سے گریزاسی تصورکی عکاسی کرتاہے کہ عسکری قوت کامقصد محض طاقت کامظاہرہ نہیں بلکہ قومی مفاد
اورعلاقائی استحکام کا تحفظ ہے چنانچہ کویت کے ساتھ ممکنہ دفاعی تعاون میں پاکستان کیلئے اصل چیلنج یہ ہے کہ وہ اپنی عسکری صلاحیت کودانشمندانہ انداز میں بروئے کارلائے۔طاقت کاوقاراسی وقت برقراررہتا ہے جب اسے جذبات کے بجائے بصیرت،اوروسعت کے بجائے ضرورت کے مطابق استعمال کیاجائے۔ یہی حکمت ایک ریاست کومحض جنگی قوت نہیں بلکہ ایک ذمہ داراورمتوازن علاقائی کردارعطاکرتی ہے۔
ین الاقوامی ذرائع کے مطابق پاکستان اورکویت کے درمیان جاری مذاکرات کی تصدیق اگرچہ مختلف حلقوں سے سامنے آئی ہے،تاہم دونوں ممالک کی جانب سے باضابطہ خاموشی برقرارہے۔پاکستان کے متعلقہ اداروں اورکویتی حکام کی عدمِ تصدیق اس امرکی غمازی کرتی ہے کہ یہ معاملہ ابھی سفارتی نزاکت،غورو فکراورباہمی مشاورت کے مرحلے میں ہے۔ عالمی سیاست میں بعض اوقات خاموشی محض سکوت نہیں ہوتی بلکہ ایک ایسی زبان بن جاتی ہے جوالفاظ سے زیادہ گہرے معنی رکھتی ہے۔ریاستی سفارت کاری میں ہراعلان اپنے اندر سیاسی اثرات،علاقائی ردِعمل اورعالمی دباؤکے امکانات رکھتاہے۔اسی لیے حساس دفاعی معاملات میں جلدبازی کے بجائے محتاط طرزِ عمل اختیارکیاجاتاہے،کیونکہ ایک  غیر محتاط بیان نہ صرف مذاکراتی عمل کومتاثرکرسکتا ہے بلکہ پورے خطے کی سیاسی فضا میں ارتعاش پیداکرسکتاہے۔یہ خاموشی دراصل کمزوری نہیں بلکہ حکمتِ عملی کاوہ پردہ ہے جس کے پیچھے فیصلے اپنی مکمل پختگی حاصل کرتے ہیں۔
اسلامی سیاسی روایت میں بھی اجتماعی مفادسے متعلق امورمیں حکمت،راز داری اورتدبرکوبنیادی اہمیت حاصل رہی ہے۔عسکری حکمتِ عملی میں بھی غیراعلانیہ تیاری،معلوماتی برتری اورمناسب وقت کاانتخاب کامیاب منصوبہ بندی کاحصہ سمجھے جاتے ہیں۔اسی تناظرمیں پاکستان اورکویت کی محتاط سفارتی روش اس بات کی علامت ہے کہ دونوں ریاستیں کسی بھی بڑے فیصلے کوجذبات یاعجلت کی بجائے وسیع ترمفادات،علاقائی توازن اورمستقبل کے امکانات کوسامنے رکھتے ہوئے آگے بڑھاناچاہتی ہیں۔یوں یہ خاموش سفارت کاری دراصل ایک ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں الفاظ کم اوراشارے زیادہ ہوتے ہیں؛جہاں فیصلے پردوں کے پیچھے تشکیل پاتے ہیں اوروقت آنے پراپنی مکمل صورت میں ظاہرہوتے ہیں۔
گزشتہ ایک عرصے کے دوران خلیجی ریاستوں کے دفاعی تصورات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ماضی میں جن ممالک کادفاعی انحصاربڑی حد تک امریکاکی عسکری چھتری پرقائم تھا،وہ اب اپنی سلامتی کیلئے متنوع شراکت داریوں،علاقائی تعاون اور متبادل دفاعی راستوں کی تلاش میں مصروف دکھائی دیتے ہیں۔یہ تبدیلی محض عسکری ضرورت نہیں بلکہ بدلتے ہوئے جغرافیائی سیاسی حقائق کامظہرہے،جہاں ریاستیں اپنی خودمختاری اوردفاعی استحکام کیلئے ایک سے زیادہ شراکت داروں کے ساتھ تعلقات استوار کرناچاہتی ہیں۔
اسی تناظرمیں پاکستان اپنی عسکری صلاحیت،طویل دفاعی تجربے،تربیت یافتہ افواج،دفاعی صنعت اورجوہری صلاحیت کے باعث خلیجی ریاستوں کیلئے ایک اہم شراکت دارکے طور پرسامنے آیاہے۔پاکستان کی موجودگی کوصرف ایک فوجی تعاون کے زاویے سے نہیں دیکھاجارہابلکہ اسے ایک ایسی تکمیلی قوت کے طورپرسمجھاجارہاہے جوعلاقائی دفاعی توازن میں اضافہ کرسکتی ہے۔عسکری حکمتِ عملی کی زبان میں یہ رجحان ’’اسٹریٹجک ڈیپتھ‘‘کے اس تصورسے وابستہ ہے جس کے تحت ریاستیں اپنے دفاعی نظام کومتنوع ذرائع سے مضبوط بناتی ہیں تاکہ کسی ایک طاقت پرمکمل انحصارسے بچاجاسکے۔
اسلامی سیاسی فکرکے تناظرمیں بھی یہ تبدیلی خودانحصاری،باہمی تعاون اورمشترکہ تحفظ کے اصولوں سے ہم آہنگ نظرآتی ہے۔امتِ مسلمہ کی تاریخ میں دفاعی تعاون ہمیشہ محض عسکری طاقت کااظہارنہیں بلکہ اجتماعی سلامتی اورمشترکہ ذمہ داری کے تصورسے وابستہ رہاہے۔اسی پس منظرمیں پاکستان ایک ایسے ملک کے طورپردیکھاجارہاہے جوعسکری صلاحیت کے ساتھ ساتھ تاریخی،تہذیبی اورمذہبی روابط کے باعث خلیجی خطے میں ایک منفردمقام رکھتاہے۔
تاہم اس نئے عسکری رجحان کی کامیابی کاانحصار اس بات پرہوگاکہ علاقائی ریاستیں طاقت کے توازن کوکس طرح برقراررکھتی ہیں۔ دفاعی شراکت داری اگرحکمت،باہمی اعتماد اور واضح قومی مفادات کیاصولوں پرقائم ہوتویہ خطے میں استحکام کاذریعہ بن سکتی ہے، لیکن اگریہ محض طاقت کے مقابلے کی صورت اختیارکر لے تونئی پیچیدگیاں بھی پیداہوسکتی ہیں۔اس لیے موجودہ دورکی اصل ضرورت ایسی حکمتِ عملی ہے جس میں قوت کیساتھ تدبر،اتحادکے ساتھ توازن اورمفادات کے ساتھ ذمہ داری بھی شامل ہو۔
کویت کے سیکیورٹی اورپالیسی حلقوں میں پاکستان کوایک ایسے شراکت دارکے طورپردیکھاجارہاہے جوعسکری صلاحیت،تاریخی روابط اورسیاسی توازن کی منفردخصوصیات رکھتا ہے ۔پاکستان کی اہمیت محض اس کی فوجی قوت تک محدودنہیں بلکہ اس کے پس منظرمیں موجودمذہبی،تہذیبی اورسفارتی روابط بھی اسے ایک نمایاں مقام عطاکرتے ہیں۔سعودی عرب کے ساتھ اس کے دیرینہ تعلقات، مسلم دنیامیں اس کی حیثیت،اورامریکاکے ساتھ اس کے متوازن روابط اسے خلیجی ریاستوں کیلئے ایک نسبتاًقابلِ اعتماداورکم حساس انتخاب بناتے ہیں۔
پاکستان کی یہ حیثیت اسے ایک ایسے پل کی مانندبناتی ہے جومختلف علاقائی اورعالمی قوتوں کے درمیان رابطے کاذریعہ بن سکتاہے۔ وہ ایک طرف خلیجی ریاستوں کے دفاعی خدشات کوسمجھتاہے اوردوسری طرف عالمی طاقتوں کے ساتھ سفارتی روابط رکھنے کی صلاحیت بھی رکھتاہے۔یہی امتزاج اسے محض ایک عسکری شراکت دارنہیں بلکہ ایک ممکنہ تزویراتی توازن
کارکے طورپرپیش کرتا ہے۔اسلامی عسکری فکرکے تناظرمیں پاکستان کی اہمیت اس پہلوسے بھی دیکھی جاسکتی ہے کہ اس کے پاس نظریاتی وابستگی اوردفاعی صلاحیت دونوں موجود ہیں۔قوتِ ایمان اورقوتِ تدبیر کے ساتھ اگرعسکری طاقت کوحکمت اورذمہ داری کے تابع رکھاجائے تووہ صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ سفارتی میدان میں بھی مؤثرکردارادا کر سکتی ہے۔تاہم یہی خصوصیات پاکستان پرایک بڑی ذمہ داری بھی عائد کرتی ہیں،کیونکہ مختلف تعلقات کے درمیان توازن قائم رکھناایک نہایت نازک عمل ہے۔
چنانچہ پاکستان کیلئے اصل امتحان یہ نہیں کہ وہ کتنے اتحادقائم کرتاہے،بلکہ یہ ہے کہ وہ ان تعلقات کوکس قدردانشمندی،اعتدال اورقومی مفادکے مطابق منظم کرتاہے۔ایک کامیاب ریاست وہی ہوتی ہے جواپنی طاقت کومحض اظہارِقوت کاذریعہ نہ بنائے بلکہ امن،استحکام اور متوازن سفارت کاری کیلئے استعمال کرے۔(جاری ہے)