سمیع اللہ ملک(آخری قسط)
پاک بھارت کشیدگی کے دوران انڈین طیاروں اورمغربی اسلحے کی کارکردگی پرامریکی بیانیہ دراصل دفاعی منڈی کی سیاست تھی۔ پاکستان کیلئییہ ایک موقع بھی ہے کہ وہ اپنی دفاعی صلاحیت اورعسکری تجربے کومحض طاقت نہیں بلکہ توازن کی علامت کے طور پردنیاکے سامنے رکھے ۔ٹرمپ نے خوداس فیصلے کے پس منظرپرروشنی ڈالتے ہوئے لکھاکہ مودی سے بات کرناان کیلئیاعزازکی بات تھی۔انہوں نے مودی کوایک طاقتور اور قابلِ احترام رہنماقراردیااور یہ بھی واضح کیاکہ بات چیت میں تجارت کے ساتھ ساتھ روسیوکرین جنگ کے خاتمے پربھی گفتگوہوئی۔
امریکاانڈیاقربت خودبخودچینپاکستان اسٹریٹیجک ہم آہنگی کوگہراکرتی ہے تاہم دانش مندی کاتقاضاہے کہ یہ تعلق محض ردِعمل پر نہیں بلکہ طویل المدت مفادپرقائم ہومگرعالمی سطح پر ایک بلاک کے حصہ کے تاثر سے بچا جائے وگرنہ علاقائی خودمختاری کم ہو جائے گی۔پاکستان کوچین کے ساتھ معاشی،تکنیکی اورسفارتی تعاون کوایک ہمہ جہتی حکمتِ عملی میں ڈھالنا ہو گا ۔چین پاکستان کافطری اسٹریٹیجک شراکت دارہے،مگراس تعلق کومحض عسکری سطح تک محدودنہ رکھاجائے بلکہ معاشی خودانحصاری کے منصوبوں سے جوڑاجائے۔ چین کے ساتھ تعلقات میں احتیاط اورتوازن برقراررکھاجائے اورآنے والے وقت میں خطے میں پاکستان چین کامحورہونے جا رہاہے جس کیلئے ابھی سے تیاری کی ضرورت ہے۔چین کے ساتھ ہماری شراکت داری ہماری تزویراتی حقیقت ہے،مگراس تعلق کو ردِعمل کی بنیادپرنہیں بلکہ طویل المدت قومی مفادکی بنیاد پرآگے بڑھاناہوگا۔چین کے ساتھ تعاون میں معاشی خود
انحصاری،ٹیکنالوجی اورعلاقائی رابطہ کاری کومرکزی حیثیت دیناناگزیرہے۔
اسی گفتگوکے نتیجے میں انڈیانے روسی تیل کی خریداری روکنے اورمتبادل کے طورپروینزویلاسے مزیدتیل لینے پرآمادگی ظاہرکی۔ امریکی صدرکے بقول،یہ فیصلہ یوکرین میں جاری خونریزی کوروکنے میں مدددے سکتاہے،جہاں ہرہفتے ہزاروں زندگیاں مٹ رہی ہیں۔ یوں ایک تجارتی معاہدہ اخلاقی جوازکے لبادے میں پیش کیاگیا۔جس کیلئے ضروری ہوگیا ہے کہ ہم فوری طورپران اقدامات کی طرف توجہ دیں:
اسی کے ساتھ،امریکاکے ساتھ ہمارے تعلقات کوبھی ازسرِنومتوازن بنیادوں پراستوارکرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں دفاعی بیانیے سے آگے بڑھ کر تجارت ، سرمایہ کاری اورعلاقائی استحکام کے نکات کومرکزِگفتگوبناناہوگا۔امریکاکے ساتھ روابط کی ازسرِنوتشکیل،خارجہ،دفاع اورمعیشت پرمشتمل مشترکہ قومی حکمتِ عملی،امریکاکے ساتھ بامقصدمگرخوددار سفارتی مکالمہ،دفاع کے ساتھ تجارت اورسرمایہ کاری کومرکزی حیثیت دینی ہوگی۔پاکستان کوامریکاکے ساتھ تعلقات میں انسدادِ دہشت گردی کے بیانیے سے آگے بڑھ کرمعاشی شراکت داری کی بات کرناہوگی اورسفارت کاری کوادارہ جاتی بنیادوں پراستوارکرناہو گا۔دوسری طرف چین کے ساتھ تعاون میں معاشی اور تکنیکی پہلوکوترجیح دیتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے کیلئیفعال سفارت کاری کافوری آغازکرناہوگا۔
اسی تناظرمیں ایران کے گردبڑھتے ہوئے جنگی خطرات میں بظاہرکمی کے اشارے دیے جارہے ہیں۔سفارتی زبان میں یہ عندیہ دیاجارہا ہے کہ معاملہ تصادم کے بجائے گفت و شنیدسے حل کیاجائے گا۔یہ تبدیلی یاتوایرانی حکومت کوبدلنے کی ناکام کوششوں کے بعدامریکی پسپائی کی علامت ہے،یاپھرمشرقِ وسطی میں عرب ممالک، بالخصوص سعودی عرب ،کی طرف سے ایرانی صدرکواپنی سرزمین استعمال نہ کرنے کی یقین دہانی کانتیجہ۔
ایران اورمشرقِ وسطی کے حوالے ایران پروقتی سفارتی نرمی،خطے میں آپریشنل اسپیس پیداکرتی ہے۔ایران کے حوالے سے امریکی سفارتی نرمی خطے میں ایک عارضی سکون کاعندیہ ہے۔پاکستان،جوایران،عرب دنیااورمغرب تینوں سے تعلقات رکھتاہے،اس مرحلے پرپل کاکرداراداکرسکتاہیبشرطیکہ اس کی سفارت کاری فعال اورمتوازن ہو۔اسٹریٹیجک اسپیس کیاس زریں موقع کومغربی سرحدپر دباکم کرنیتوانائی اورلاجسٹکس کے متبادل راستے محفوظ کرنے کیلئے استعمال کرے۔یہ اسپیس عارضی ہیاسے استعمال کرناہو گا۔
یہ معاہدہ پاکستان کیلئیایک آئینہ بھی ہے کہ عالمی سیاست میں وہی ملک سناجاتاہے جومعاشی طورپرقابلِ اعتبارہو۔محض جغرافیائی اہمیت اب کافی نہیں۔ پاکستان کواپنی تجارت، برآمدات اورسرمایہ کاری کے ماحول کوقومی سلامتی کے تناظرمیں دیکھناہوگا۔پاکستان کیلئییہ مرحلہ ردِعمل کانہیں بلکہ دوراندیش فیصلوں کاتقاضاکرتاہے۔قومی سلامتی کااصل تقاضا یہی ہے کہ طاقت کوحکمت کے تابع رکھاجائے،نہ کہ حکمت کوطاقت کے تابع۔ایران کے حوالے سے امریکی لچک پاکستان کیلئیایک موقع ہے کہ وہ علاقائی رابطہ کاری کوفروغ دے،توانائی اورتجارت کے منصوبوں میں توازن پیداکرے،خودکوایک ذمہ دار ثالث کے طورپرمنوائے۔ایران اورمشرقِ وسطی کے حوالے سے حالیہ سفارتی اشارے پاکستان کیلئیایک موقع فراہم کرتے ہیں کہ وہ ایک پل کاکردار ادا کرے نہ محاذ آرائی،نہ لاتعلقی، بلکہ ذمہ دار ثالثی۔
اس تناظرمیں ہماری ترجیحات واضح ہونی چاہئیں:کوالٹیٹیوایج،الیکٹرانک وارفیئر،آئی ایس آراورملٹی ڈومین ڈیٹرنس صرف روایتی نہیں بلکہ فضائی اورمیزائل دفاع میں اعلی اور برتری کی مثال ہوناضروری ہیں کیونکہ بیانیے کی جنگ میں خاموشی نقصان دہ ثابت ہوتی ہے اوراس کاعملی اظہارانتہائی ضروری ہے جو گاہے بگاہے اپنے تجربات کی روشنی میں دنیا کو آگاہ کرنا ایک بہترین پالیسی ہے۔
سب سے اہم نکتہ داخلی استحکام بطورتزویراتی ضرورت بن چکاہے۔کوئی بھی خارجہ یادفاعی حکمتِ عملی اس وقت تک بارآورنہیں ہو سکتی جب تک معیشت مستحکم نہ ہو،سیاسی ہم آہنگی موجودنہ ہو،ریاستی بیانیہ واضح اورمتفقہ نہ ہو۔یہ نکات قومی سلامتی کے بنیادی ستون ہیں۔ہمیں یہ حقیقت کبھی فراموش نہیں کرنی چاہیے کہ قومی سلامتی صرف سرحدوں پرنہیں بنتی یہ معیشت،سیاست اورسفارت کے باہمی توازن سے وجودمیں آتی ہے۔داخلی استحکام،سیاسی ہم آہنگی اورواضح قومی بیانیہ ہی ہماری اصل طاقت ہیں۔
مودی کایہ کہناکہ جب دنیاکی دوبڑی معیشتیں اورسب سے بڑی جمہوریتیں مل کرکام کرتی ہیں تواس سے باہمی فائدے کے بے شمار مواقع پیداہوتے ہیںدرحقیقت عالمی سیاست میں انڈیاکی اس خواہش کی عکاسی ہے کہ وہ خودکوامریکاکے برابرکاشراکت دارثابت کرے،نہ کہ محض ایک علاقائی طاقت۔انڈیااس معاہدے کواپنی عالمی ساکھ کے طورپرپیش کرے گا۔پاکستان کیلئے ضروری ہے کہ وہ دفاعی یاجذباتی ردِعمل کی بجائے ایک سنجیدہ، مدلل اورمہذب بیانیہ تشکیل دے ۔ایسابیانیہ جواسے خطے میں استحکام کی علامت بنے۔جس کیلئے ضروری ہے کہ نیشنل اسٹریٹیجک کونسل کافعال کردار،خارجہ ومعاشی پالیسی کاباہمی انضمام،دفاعی تیاری کے ساتھ سفارتی لچک عالمی بیانیے میں پاکستان کواستحکام کی ریاست کے طورپر پیش کرناہے۔
تاہم اس پوری پیش رفت کواگرگہرائی سے دیکھاجائے تویہ محض دوستی کی کہانی نہیں بلکہ ایک نوراکشتی بھی ہے۔ابتدا ہی میں اس اقدام کوایک سیاسی چال قرار دیاگیاتھا،جودرست ثابت ہوتی نظرآرہی ہے۔امریکاایک طرف پاکبھارت کشیدگی میں انڈین طیاروں کی تباہی کاذکردہراکرخطے میں بیانیہ بناتارہا،اور دوسری طرف فرانسیسی رافیل طیاروں کی مایوس
کن کارکردگی کواجاگرکرکے امریکی اسلحے کی منڈی گرم کرتارہا۔یادرہے کہ کوئی بھی تزویراتی فائدہ اس وقت تک پائیدارنہیں ہوتاجب تک داخلی سیاسی اورمعاشی استحکام میسرنہ ہو۔پاکستان کیلئے سب سے بڑاسبق یہی ہے کہ خارجہ کامیابیاں اندرونی کمزوریوں کی تلافی نہیں کرسکتیں۔داخلی استحکام بطورقومی طاقت کااظہارہوتاہے۔
اس بدلتی بساط میں روس ایک بارپھرشش وپنج میں ہے۔یوکرین کے معاملے پریاتواسے مزیدخاموشی اختیارکرناہوگی،یاپھرانڈیاکے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات پرنظرِثانی کرناپڑے گی۔تاریخ گواہ ہے کہ روس اورانڈیاکے تعلقات جذبات سے زیادہ مفادات پرقائم رہے ہیں۔یہ معاہدہ نہ صرف امریکااورانڈیاکے درمیان تجارت کاباب ہے بلکہ عالمی سیاست میں طاقت کے توازن کی ایک نئی تحریرہے۔اگریہ کہا جائے توعین درست ہوگاکہ سیاست کے فیصلے وہ نہیں ہوتے جوکہے جائیں،بلکہ وہ ہوتے ہیں جوسمجھے جائیں۔یہ فیصلہ بھی اسی قبیل سے ہیظاہرمیں تجارت،باطن میں حکمتِ عملی؛الفاظ میں دوستی،حقیقت میں مفاد۔
یہ مرحلہ ردِعمل کانہیں،پیشگی ہم آہنگی/ پیشگی معیاربندی کامرحلہ ہے۔اگرہم نے اس معاہدے کوصرف خبرسمجھا،توہم دیرسے جاگیں گے۔اوراگرہم نے اسے اسٹریٹیجک سگنل سمجھا ،توہم اگلا قدم خودطے کریں گے۔یہی فرق ہے ری ایکٹوفورس اوراسٹریٹیجک اسٹیٹ میں۔میںیہ وقت جذباتی نعروں کانہیں،یہ وقت شکایت کانہیں،حکمت وتدبرکاہے۔یہ لمحہ شور کانہیں،یہ لمحہ توازن اورتاریخ سے سیکھنے کاہے،شعورکاہے۔اگرپاکستان نے تاریخ کے اس موڑپرخود کو سمجھ لیا،تویہی بدلتی دنیااس کیلئے موقع بن سکتی ہے۔اس مرحلے پردرست زاویے سے دنیاکودیکھاتوبدلتی بساط پروہ محض مہرہ نہیں رہے گابلکہ ایک باوقار کھلاڑی کے طورپرپہچاناجائے گااگرہم نے بدلتی دنیاکوسمجھ کرفیصلے کیے،توپاکستان اس نئی عالمی بساط پرمحض ایک تماشائی نہیں رہے گا،بلکہ ایک باوقاراور مؤثرکردارادا کرے گا۔اوراگرنہ سمجھا،تویہی معاہدے محض دوسروں کی ترقی کی داستان رہ جائیں گے۔اللہ ہمیں درست فیصلوں کی توفیق عطا فرمائے ۔ اللھم آمین