اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی جیل میں سہولتیں فراہم کرنے کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ جیل حکام انہیں جیل رولز کے مطابق تمام سہولتیں فراہم کریں۔
چیف جسٹس عامر فاروق کی زیر صدارت اس مقدمے کی سماعت میں عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی سے ملاقات، بیٹوں سے فون پر بات کرنے، اور دیگر جیل سہولتوں کے بارے میں درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کیا گیا۔ عمران خان کے وکیل فیصل چوہدری ایڈووکیٹ نے عدالت میں ان کی طرف سے دلائل پیش کیے۔تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ سپرنٹنڈنٹ جیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کا مستقل بنیادوں پر میڈیکل چیک اپ کیا جاتا ہے اور اگر ضرورت پڑے تو انہیں پرائیویٹ ڈاکٹر سے بھی چیک اپ کرانے کی اجازت ہے۔ جیل حکام کے مطابق جیل مینوئل میں بیرون ملک فون کالز کی سہولت نہیں ہے، تاہم یہ سہولت صرف عدالتی حکم پر ہی فراہم کی جا سکتی ہے۔
اس کے علاوہ، جیل حکام نے یہ بھی کہا کہ عمران خان سے وکلا اور اہل خانہ کی ملاقاتوں کا انتظام منگل اور جمعرات کو کیا جاتا ہے، اور جیل رولز کے تحت ان کو اپنی پسند کے دو اخبارات فراہم کیے جاتے ہیں۔فیصلے میں مزید کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی کے وکیل اس بات پر مطمئن ہیں کہ عمران خان کو تمام سہولتیں فراہم کی جا رہی ہیں اور اس حوالے سے مزید مداخلت کی ضرورت نہیں ہے۔اس تمام عمل کو جیل حکام اور عمران خان کے وکیل کے درمیان مکمل تعاون سے نمٹایا گیا، اور عدالت نے عمران خان کی درخواست کو نمٹا دیا، ہدایت دی کہ جیل رولز کے مطابق سہولتیں فراہم کی جائیں۔