اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس اعظم خان نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کے خلاف درج مقدمات کی تفصیلات فراہم کرنے کی درخواست پر سماعت کی۔
عدالت نے اس سلسلے میں نیب، ایف آئی اے اور پولیس سے باضابطہ ریکارڈ طلب کرلیا۔سماعت کے دوران عمران خان کی بہنیں بھی کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ درخواست دو سال قبل دائر کی گئی تھی، اس وقت نیب، ایف آئی اے اور دیگر ادارے مسلسل نوٹسز جاری کر رہے تھے۔ ان کا مؤقف تھا کہ ان اداروں کو سیاسی مقاصد کے لیے عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف استعمال کیا گیا، جو کہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔وکیل کے مطابق عمران خان کے خلاف اب تک 127 مقدمات درج ہوچکے ہیں، اس لیے عدالت متعلقہ فریقین کو ہدایت کرے کہ وہ مقدمات کی مکمل تفصیل فراہم کریں۔ انہوں نے مزید استدعا کی کہ اس کیس کی سماعت کے لیے ایک لارجر بینچ تشکیل دیا جائے، جیسا کہ ماضی میں سیاسی انتقام کے بعض بڑے کیسز میں کیا گیا تھا۔
دورانِ سماعت انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایف آئی اے نے سائفر کیس درج کیا، اس کیس میں سزا ہوئی لیکن بعد ازاں اسلام آباد ہائیکورٹ نے وہ سزا کالعدم قرار دی۔اسپیشل پروسیکیوٹر نیب عبدالرافع نے عدالت سے مہلت طلب کی تاکہ مقدمات کی تازہ تفصیل فراہم کی جاسکے۔ تاہم انہوں نے لارجر بینچ بنانے کی استدعا کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایسی کوئی بنیاد موجود نہیں ہے، البتہ مقدمات کی تفصیلات عدالت میں جمع کرا دی جائیں گی۔جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ پہلے مقدمات کی تفصیلات کا جائزہ لیا جائے گا، اس کے بعد لارجر بینچ کی تشکیل کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔ بعد ازاں عدالت نے نیب، ایف آئی اے اور پولیس کو مقدمات کا مکمل ریکارڈ فراہم کرنے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔