یہ سیل اپنے متعلقہ اضلاع میں انسانی سمگلنگ کے مسائل کی نگرانی اور حل کے ذمہ دار ہوں گے
ڈپٹی کمشنرز ضلعی سطح پر انسداد انسانی سمگلنگ کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کریں :اجلاس میں ہدایات
لاہور (خصوصی رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں انسداد غیر قانونی انسانی اسمگلنگ اور انسانی سوداگری کے خاتمے کے لیے بنائی گئی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس منعقد ہوا ، اجلاس کی صدارت کنوینر کمیٹی و رکنِ پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے کی ، اجلاس میں اسٹیک ہولڈرز، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ، ڈپٹی کمشنرز، ہائی رسک اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز ، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے نمائندوں اور دیگر نے شرکت کی، اجلاس میں انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی انسانی سوداگری کے سنگین مسئلے پر غور کیا گیا ، کمیٹی کی کنوینر ایم پی اے عظمیٰ کاردار نے اس مسئلے کی شدت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سانحات میں یونان اور اسپین جانے والے درجنوں پاکستانی جانبحق ہوئے ، انہوں نے کہا کہ اندرون ملک انسانی اسمگلنگ جس میں متاثرین کو جبری مشقت اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے نوجوانوں اور خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے مختلف پروگرامز متعارف کروائے ہیں تاکہ انہیں مواقع فراہم کیے جا سکیں۔ حکومت پاکستان انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی سوداگری کو ملک کے اندر اور سرحد پار دونوں سطحوں پر ختم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت اس مسئلے کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جا رہے ہیں تاہم اس مسئلے سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے مضبوط حکمت عملی بنانے کی ضروری ہے۔اجلاس میں ایم پی اے عظمیٰ کاردار نے ہدایت دی کہ ہر ضلع میں 28 فروری 2025 تک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اندر ایک خصوصی انسداد انسانی اسمگلنگ سیل قائم کیا جائے اور اس کی رپورٹ کمیٹی سیکریٹری کو جمع کرائی جائے۔ یہ سیلز اپنے متعلقہ اضلاع میں انسانی اسمگلنگ کے مسائل کی نگرانی اور حل کے لیے ذمہ دار ہوں گے۔ عظمی کاردار نے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایت دی گئی کہ وہ ضلعی سطح پر انسداد انسانی اسمگلنگ کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کریں اور ماہانہ اجلاس منعقد کرکے ان کے نتائج کمیٹی سیکریٹری کو فراہم کریں۔ کمیٹی ہر ماہ اجلاس منعقد کرے گی تاکہ متعلقہ محکموں کی کارکردگی کو دیکھا جا سکے۔ اس موقع پر سسٹین ایبل سوشل ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر سید کوثر عباس نے کمیٹی کے قیام کو انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی انسانی سوداگری کے حوالے سے قانون سازی کی نگرانی کے لیے ایک اہم قدم قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کمیٹی کے اقدامات مقامی سطح پر جوابدہی کو یقینی بنائیں گے اور ان قوانین کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوں گے جو ان جرائم کے خاتمے کے لیے بنائے گئے ہیں