ہر ضلع میں 28 فروری تک انسداد انسانی سمگلنگ پولیس سیل بنانے کی ہدایت
لاہور ( کرائم رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں انسداد انسانی سمگلنگ اور انسانی سوداگری کے خاتمے کے لئے بنائی گئی خصوصی پارلیمانی کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا ، صدارت کنوینر کمیٹی و رکن پنجاب اسمبلی عظمیٰ کاردار نے کی ، اجلاس میں سٹیک ہولڈرز، ایڈیشنل انسپکٹر جنرل پولیس ، ڈپٹی کمشنرز، ہائی رسک اضلاع کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسرز ، وفاقی تحقیقاتی ادارے کے نمائندوں اور دیگر نے شرکت کی۔ اجلاس میں انسانی سمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی انسانی سوداگری کے سنگین مسئلے پر غور کیا گیا۔ عظمیٰ کاردار نے کہا اندرون ملک انسانی سمگلنگ جس میں متاثرین کو جبری مشقت اور جنسی استحصال کا نشانہ بنایا جاتا ہے پاکستان کی عالمی ساکھ کو نقصان پہنچا رہی ہے۔ انہوں نے ہدایت دی کہ ہر ضلع میں 28 فروری تک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے اندر ایک خصوصی انسداد انسانی سمگلنگ سیل قائم اور اس کی رپورٹ کمیٹی سیکرٹری کو جمع کرائی جائے۔ عظمیٰ کاردار نے ڈپٹی کمشنرز کو بھی ہدایت دی وہ ضلعی سطح پر انسداد انسانی سمگلنگ کمیٹیوں کو دوبارہ فعال کریں اور ماہانہ اجلاس منعقد کرکے ان کے نتائج کمیٹی سیکرٹری کو فراہم کریں۔ کمیٹی نے گجرات، منڈی بہاؤالدین، سیالکوٹ، جہلم اور گوجرانوالہ کے ڈپٹی کمشنرز کو ہدایت کی کہ متاثرہ خاندانوں کے کوائف ایک ہفتے کے اندر مرتب کرکے جمع کرائیں۔ متاثرہ خاندانوں کے گھروں کا دورہ فروری کے پہلے ہفتے میں کیا جائے گا۔