محصولات کیسوں کا فرانزک آڈٹ غلط مقدمات پر افسروں کو سزا ہوگی شہبازشریف
محصولات کے تمام کیسوںکو جلد سے جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کئے جائیں، ٹیکس محصولات کے کیسوں میں اچھی شہرت والے وکلاء کی خدمات لی جائیں‘ ایف بی آر کے نظام میں تیزی سے اصلاحات نافذ کر رہے ہیں
یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کردیا جائے‘حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینے کے لئے پرعزم ہے:وزیراعظم کی اجلاسوں کے دوران گفتگو
اسلام آباد(ایجنسیاں‘مانیٹرنگ ڈیسک)وزیراعظم شہباز شریف نے سپین میں تارکین وطن کی کشتی کے حادثے میں 40 پاکستانیوں کے جاں بحق ہونے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے متعلقہ حکام سے رپورٹ طلب کرلی۔وزیراعظم نے تارکین وطن کی کشی کے حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانیوں کی بلندی درجات کے لیے دعا کی اور جاں بحق ہونے والے افراد کے اہل خانہ سے اظہار تعزیت کیا۔اعلامیے کے مطابق وزیراعظم نے متعلقہ حکام سے واقعے کی رپورٹ طلب کرلی ہے اور کہا کہ انسانی اسمگلنگ جیسے مکروہ عمل میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہو گی۔وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کوئی کوتاہی برداشت نہیں کی جائے گی اور انسانی اسمگلنگ کے خلاف بھرپور اقدامات کر رہے ہیں۔وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیر صدارت ایف بی آر کے محصولات اور زیر التوا کیسز پر جائزہ اجلاس ہوا۔ شہباز شریف نے محصولات سے متعلق کیسز کا فارنزک آڈٹ کروانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کمزور یا غلط بنیادوں پر کیسز بنانے والے افسروں کو سزا دی جائے گی‘ دیانتداری اور محنت سے میرٹ پر کیسز بنانے والوں کو خصوصی انعام دیا جائے۔انہوں نے کہا محصولات کے تمام کیسز کو جلد سے جلد نمٹانے کیلئے اقدامات کیے جائیں، ٹیکس محصولات کے کیسز میں اچھی شہرت والے وکلاء کی خدمات لی جائیں۔ ایف بی آر کے نظام میں تیزی سے اصلاحات نافذ کر رہے ہیں، الحمدللہ ایف بی آر میں اصلاحات کے مثبت نتائج آنے کا سلسلہ جاری ہے۔دریں اثناء چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری امور پر جائزہ اجلاس وزیراعظم کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوا،اجلاس میں شہباز شریف نے یوتھ پروگرام کے تحت قرض کی رقم کو 5 لاکھ سے بڑھا کر 15 لاکھ کرنے کی ہدایت کردی۔انہوںنے اس بات پر زور دیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو دی جانے والی سہولیات کو بین الاقوامی تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کیلیے ترقی یافتہ ممالک کے ماڈلز کا اطلاق یقینی بنایا جائے اور چھوٹے پیمانے کے کاروبار میں خواتین انٹرپرینیورز کیلیے خصوصی پیکیج تشکیل دے کر جلد پیش کیا جائے۔وزیراعظم نے کہا کہ دنیا بھر میں ایس ایم ایز معیشت کی ترقی میں کلیدی اہمیت رکھتی ہیں۔ پاکستان کی افرادی قوت کو کاروبار کی ترغیب دینے کیلیے حکومت چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو سہولت دینے کیلیے پرعزم ہے۔وزیراعظم نے حکومتی ویژن پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت نوجوانوں اور خواتین انٹرپرینیورز کو اس قدر بااختیار بنانے کیلئے کوشاں ہے کہ وہ نہ صرف خود روزگار کمائیں بلکہ روزگار کے مزید مواقع پیدا کریں