وفاقی کابینہ :میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں صوبائی کوٹہ میں 25 فیصد کمی کی منظوری، پٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر آف دی گرڈ لیوی کیپٹو پاور پلانٹس آرڈیننس2025بھی منظور

پی ٹی آئی مذاکرات کرے  پارلیمانی کمیٹی بنانے کو تیار ہیں شہبازشریف

  مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے صدق دل سے تیار ہوں،  چاہتا ہوں مذاکرات آگے بڑھیں، انتشار کے ہاتھوں ملک کا بہت نقصا ن ہوا ،یہ ملک مزید نقصان کا متحمل نہیں ہوسکتا ‘ہماری کمیٹی نے کہا ہے  ہم جواب لکھ کر دیں گے

پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا، یہ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں، انہوں نے 2018 میں ہائوس کمیٹی بنائی ،کمیشن نہیں بناتھا‘ ترقی و خوشحالی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا:کابینہ اجلاس میں اظہار خیال

اسلام آباد(آئی این پی‘آن لائن )وزیراعظم شہباز شریف نے  پی ٹی آئی  کو ایک بار پھر مذاکرات کی دعوت دیتے ہوئے جوڈیشل کمیشن کے بجائے پارلیمانی کمیٹی بنانے کی پیشکش کردی اور کہا ہے   مذاکرات آگے بڑھانے کیلئے صدق دل سے تیار ہوں، میں چاہتا ہوں مذاکرات آگے بڑھیں، ہماری کمیٹی نے کہا ہے کہ ہم جواب لکھ کر دیں گے۔ان خیالا ت کا اظہار وزیر اعظم نے  جمعرات کو وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب  کرتے ہوئے  کیا ۔وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کی پیش کش  کو شفاف انداز سے قبول کیا، حکومت اور اپوزیشن کی کمیٹیاں بنیں اور  پھر اسپیکر کے توسط سے مذاکرات   شروع ہوگئے ۔ رواں ماہ کی 28 تاریخ کو میٹنگ ہونی تھی اور وہ مذاکرات سے بھاگ گئے۔وزیراعظم نے کہا کہ 2018 کے الیکشن کے بعد میں احتجاجا کالی پٹیاں باندھ کر ایوان میں داخل ہوا تو عمران خان نے آگے بڑھ کر مجھے کہا کہ ہم پارلیمانی کمیٹی بنارہے ہیں جو انتخابات کی تحقیقات کرے گی، انہوں نے ہم سے کمیٹی کے لیے نام مانگے اور کمیٹی کے قیام کا اعلان کردیا، کمیٹی تو بنی مگر وہ دن ہے اور آج کا دن ہے، کمیٹی ضرور بنی ہوگی، ایک آدھ اجلاس بھی ہوا ہوگا مگر باقی سب تاریخ کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومتی کمیٹی نے ان کو کہا آپ آئیں لکھ کر جواب دیں گے، ہم نے پی ٹی آئی کو مذاکرات کیلئے سازگار ماحول فراہم کیا، یہ اپنے گریبان میں بھی جھانکیں، انہوں نے 2018 میں ہائوس کمیٹی بنائی ،کمیشن نہیں بناتھا۔وزیراعظم نے اپوزیشن کو دعوت دیتے ہوئے کہا کہ پوری طرح حقائق کو سامنے لائیں، 2018 میں ہم نے ہائوس کمیٹی قبول کی آپ بھی آئیں 2018 اور 2024 کے انتخابات پر کمیٹی بنے، 26 نومبر کے دھرنے کی بات کرتے ہیں، 2014 کے دھرنے کی بھی ہائوس کمیٹی احاطہ کرتے ہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سٹیٹ بینک نے پالیسی ریٹ میں ایک فیصد کمی کا اعلان کیا، میرے حساب سے پالیسی ریٹ میں کم از کم 2فیصد کمی ہونی چاہیے تھی، پالیسی ریٹ میں کمی سے صنعت اور کاروبار کو فائدہ ہوگا، ہم دن رات کاوشیں کررہے ہیں، ترقی و خوشحالی کا خواب ضرور شرمندہ تعبیر ہوگا۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ انسانی سمگلنگ کے دھندے میں سیکڑوں پاکستانیوں کی جانیں گئیں، کالے دھندے کے نتیجے میں پاکستان کے چہرے کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی گئی، کل انسانی سمگلنگ کے معاملے پر ایک اور میٹنگ کی تھی، انسان سمگلرز نے پاکستان کو بدنام کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی، جب تک مکمل تحقیقات نہیں ہوتیں چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ دریں اثناء وفاقی کابینہ نے پٹرولیم ڈویژن کی سفارش پر آف دی گرڈ لیوی کیپٹو پاور پلانٹس آرڈیننس اور وفاقی حکومت کے زیر انتظام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں صوبائی کوٹہ میں 25 فیصد کمی کرنے کی منظوری  دیدی ۔اجلاس کو بتایا گیا کہ ایک سابق وفاقی وزیر کی جانب سے پاکستان انٹر نیشنل ائیر لائینز کے پائلٹس کے حوالے سے دیا گیا بیان غیر ذمہ دارانہ اور مبالغہ آرائی پر مبنی تھا جس سے نہ صرف ملک اور قومی ائیر لائین کا تشخص شدید متاثر ہوا بلکہ قومی خزانے کو بھی شدید نقصان ہوا۔  کابینہ نے مذکورہ بیان کا جائزہ لینے کے حوالے سے ایک فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی تشکیل دینے کی منظوری دے دی جو کہ مذکورہ مبالغہ آرائی پر مبنی بیان کے محرکات کا پتہ چلائے گی اور اس بیان کے نتیجے میں قومی ائیر لائن اور قومی خزانے کو پہنچنے والے نقصان کا بھی تخمینہ لگائے گی۔وفاقی کابینہ نے پیٹرولیم ڈویڑن کی سفارش پر آف دی گرڈ لیوی کیپٹو پاور پلانٹس آرڈینینس  2025 کی منظوری دے دی جبکہ  وفاقی کابینہ نے وزارت موسمیاتی تبدیلی کی سفارش پر مڈل ایسٹ گرین انیشیئیٹو کے چارٹر کی توثیق کر دی-  اجلاس کو بتایا گیا کہ پاکستان مذکورہ چارٹر کے بانی اراکین میں سے ہے۔ اس انیشئیٹو کے تحت 200 ملین ہیکٹرز زمینی رقبے کی بحالی کی جائے گی اور 50 بلین درخت اگائے جائیں گے۔ اعلامیہ کے مطابق وفاقی کابینہ نے وزارت تجارت کی سفارش پر حکومت پاکستان اور یورپین یونین کے مابین ٹیرف ریٹس کوٹہ کی تقسیم کے حوالے سے معاہدے کی منظوری دے دی اس کے علاوہ وفاقی کابینہ نے معزز اسلام آباد ہائی کورٹ کی سفارش اور وزارت قانون و انصاف کی تجویز پر اکاؤنٹیبیلیٹی کورٹ  III, اسلام آباد کی ری آرگنائزیشن کرنے اور اسے اسپیشل کورٹ (سی این ایس۔III), اسلام آباد میں تبدیل کرنے کی منظوری دے دی،*وفاقی کابینہ نے وزارت بحری امور کی سفارش پر جنرل مینجر انجینئرنگ ، کراچی پورٹ ٹرسٹ رئیر ایڈمرل حبیب الرحمٰن کو زیادہ سے زیادہ دو ماہ کے لیے چیئرمین کراچی پورٹ ٹرسٹ کا اضافی چارج دینے کی منظوری دے دی، وزیراعظم نے کراچی پورٹ ٹرسٹ کے باقاعدہ چیئرمین کی تعیناتی کا عمل فی الفور مکمل کرنے کی ہدایت کی۔اعلامیہ میں مزید کہاگیا ہے کہ وفاقی کابینہ نے وزارت قومی صحت کی سفارش پر وفاقی حکومت کے زیر انتظام میڈیکل اور ڈینٹل کالجز میں صوبائی کوٹہ میں 25 فیصد کمی کرنے کی منظوری دی۔