وفاقی کابینہ کا اجلاس،پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کا حجم بجلی کی قیمتیں کم کرنے کیلئے استعمال کرنے اور سی پی پی اے کو بیگاس پر چلنے والے پاور پلانٹس کیساتھ معاہدوں پر دستخط کرنے کی منظوری

کابینہ نے سولر صارفین پر اضافی ٹیکس کی منظوری روکدی حکومت کی کارکردگی نے آئی ایم ایف کو حیران کردیا شہبازشریف
 وزیراعظم کی آئی ایم ایف سٹاف لیول معاہدے پر مبارکباد‘معاہدہ پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری کا عکاس ، جلد مہنگائی میں کمی کے حوالے سے بڑا پیکیج لا رہے ہیں،  نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کی جائے
مخالفین نے ڈھنڈورا پیٹا اب منی بجٹ آئے گا، الحمدللہ! منی بجٹ نہیں آیا، اب ہر سیکٹر کو ٹیکس کے دائرہ کار میں شامل ہونا ہوگا، قرضوں کو ختم کر کے اپنے پائوں پر کھڑا ہونا ہوگا:وزیراعظم کابینہ اجلاس میں اظہار خیال

 اسلام آباد(آئی این پی ) وزیراعظم شہباز شریف نے  آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے پر کابینہ کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا ہے یہ معاہدہ پاکستان کی معاشی صورتحال کی بہتری کا عکاس ہے، جلد مہنگائی میں کمی کے حوالے سے بڑا پیکج لا رہے ہیں ۔وزیر اعظم  کی زیر صدارت بدھ کو  وفاقی کابینہ کے اجلاس  میں ملکی سیاسی و معاشی صورتحال سمیت 12 نکاتی ایجنڈے پر غور  کیاگیا ۔ذرائع کے مطابق  اجلاس کے آغاز پر کابینہ نے آرمی چیف جنرل سید عاصم منیر کی والدہ محترمہ کے انتقال پر افسوس اور ان کے ایصال ثواب کیلئے دعا بھی کی۔کابینہ اجلاس کے دوران وزیراعظم نے آئی ایم ایف اسٹاف لیول معاہدے پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ معاہدہ پاکستان کہ معاشی صورتحال کی بہتری کا عکاس ہے۔وزیراعظم نے معاشی ٹیم کو شاباش دی اور ان کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ جلد مہنگائی میں کمی کے حوالے سے بڑا پیکج لا رہے ہیں، عوام جلد مہنگائی میں کمی کے ثمرات دیکھے گی۔شہباز شریف نے کہا  مخالفین نے ڈھنڈورا پیٹا اب منی بجٹ آئے گا، اس کے بغیر ملک نہیں چلے گا، چیلنجنگ حالات کے باوجود الحمدللہ! منی بجٹ نہیں آیا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے معاہدے میں آرمی چیف کا بھی کلیدی کردار رہا، آئی ایم ایف پروگرام میں صوبوں کا وفاق کیساتھ بھرپور تعاون قابل قدر ہے، دن رات کی محنت اور ایک ٹیم ورک کے نتیجے میں کامیابی حاصل ہوئی، حکومت کی انتھک کاوشوں کے باعث اتنا جلد یہ ہدف حاصل کرنا ممکن ہوا۔ان کا کہنا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے حوالے سے اغیار کے اوچھے ہتھکنڈوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا، دہشتگردی اور مہنگائی کے باوجود آئی ایم ایف معاہدہ طے پانا حکومت کی سنجیدگی کا عکاس ہے، پوری قوم نے اس ہدف کے حصول میں بے پناہ قربانیاں دیں، کامیابی سے معاہدہ طے پانے میں عام آدمی کا بھی انتہائی اہم کردار ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ آئی ایم ایف سے سٹاف لیول معاہدہ پاکستان کی معیشت کو استحکام دینے کے حوالے سے یہ بہت بڑی کامیابی ہے، زرعی ٹیکس کے بغیر آئی ایم ایف نے آگے نہیں چلنا تھا، صوبوں نے زرعی ٹیکس میں بہت اہم حصہ ڈالا، صوبہ پنجاب نے سب سے پہلے اپنی اسمبلی نے زرعی ٹیکس منظور کرایا۔ انہوں نے کہا کہ آئی ایم ایف کے پروگرام میں 1.3 بلین ڈالر آر ایس ایف کی مد میں بھی شامل کئے گئے ہیں، آئی ایم ایف پروگرام کے تحت ہدف سے زائد محصولات کی وصولی قابل ستائش ہے‘دریں اثناء ، وفاقی کابینہ اجلاس میں نیٹ میٹرنگ پالیسی منظور نہ ہو سکی۔ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ اجلاس میں وزیر اعظم شہباز شریف اور وفاقی وزرا سولر صارفین پر نیٹ میٹرنگ پالیسی کی منظوری کی مخالفت کر دی۔وزیر اعظم شہباز شریف نے وزیر توانائی اویس لغاری کو نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظر ثانی کی ہدایت کر دی۔