آئی ایم ایف نے حکومتی امیدوں پر پانی پھیر دیا‘بجلی سستی کرنے کی تجویز مسترد کیپٹو پاور پلانٹس پر گیس ٹیرف نافذ کرنیکا مطالبہ

بجلی کی قیمتوں میں کمی کیلئے  بلوں پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی تجویز دی گئی تھی‘ صنعتی اور زرعی شعبے کیلئے موسم سرما کے ریلیف پیکیج کو پورے مالی سال تک توسیع کی اجازت سے بھی انکار 
نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کم قیمت پر خریدنے کا پلان آئی ایم ایف سے شیئر‘نیٹ میٹرنگ صارفین سے بجلی کا ٹیرف 27 روپے سے کم کرکے 10 روپے کرنے کی تجویز دیدی گئی

اسلام آباد (آئی این پی‘مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اقتصادی جائزہ مذاکرات میں بجلی کے صارفین کے لیے قیمتوں میں کمی سے متعلق بجلی بلوں پر جی ایس ٹی ختم کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے صنعتی اور زرعی شعبے کے لیے موسم سرما کے ریلیف پیکیج کو پورے مالی سال تک توسیع کی اجازت سے بھی انکار کر دیا ہے۔آئی ایم ایف کے ساتھ توانائی شعبے میں گردشی قرض میں کمی کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں۔آئی ایم ایف کو بریفنگ دی گئی کہ گردشی قرضے پر قابو پانے کے لیے کمرشل بینکوں سے 1250 ارب روہے قرض لیا جائے گا اور یہ قرضہ 10.8 فیصد شرح سود پر لیا جائے گا جس پر معاہدہ طے پا گیا۔ذرائع کے مطابق رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، مشروبات اور تمباکو سیکٹر کو ریلیف دینے کی تجویز ہے۔ آئی ایم ایف کی منظوری سے ان شعبوں پر ٹیکس بوجھ کم کیا جائے گا۔آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس پر گیس ٹیرف فوری نافذ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بیک ڈیٹ ٹیرف پر بھی اعتراض کردیا۔ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کیپٹو پاور پلانٹس پر گرڈ ٹرانزیشن لیوی لگانے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ حکومت 1200 ارب کے بینک قرض سے 300 ارب روپے سیٹل کرے گی۔بجلی پر 2.80 روپے فی یونٹ سر چارج لگا کر 5 سال میں قرض کی وصولی کا منصوبہ بنا لیا گیا جبکہ آئندہ بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کی تجویز دی گئی ہے۔ ایف بی آر کو ٹرانسفارمیشن پلان جلد مکمل کرنے کی ہدایت کی گئی اور غیر قانونی تمباکو مارکیٹ کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق گورننس، ڈومیسٹک فنانسنگ اور پی آئی اے کی نجکاری پر بھی جائزہ لیا جائے گا جبکہ سپریم کورٹ احکامات پر عمل درآمد کے لیے وزارت قانون اور نیب حکام کی ملاقات متوقع ہیں۔نیب اصلاحات پر آئی ایم ایف نے حکومت سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔حکومت نے پاور پرچیزنگ کے حوالے سے اہم پلان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ  سے شیئر کردیا ہے، جس کے مطابق نیٹ میٹرنگ والوں سے بجلی 10 روپے فی یونٹ تک خریدی جائے گی۔پہلے نیٹ میٹرنگ صارفین سے پیداکی گئی بجلی 27 روپے یونٹ خریدی جارہی تھی، جس کے بعد اب آئی ایم ایف سے شیئر کیے گئے پلان میں 17 روپے کم کرکے 10 روپے فی یونٹ پر خریدنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ آئی ایم ایف نے سوال کیا ہے کہ گرڈ چھوڑ کر آف گرڈ والے صارفین کے مسئلے کو کیسے حل کیا جائے گا، جس پر حکومت فی الحال اس پر کوئی واضح جواب یا پلان شیئر نہیں کر سکی ہے۔ مذاکرات  کے دوران تنخواہ دار طبقے کے ساتھ رئیل اسٹیٹ، پراپرٹی، بیورجز اور تمباکو سیکٹر کو ریلیف دینے کی تجویز آئی ایم ایف کو پیش کی گئی ہے