رجب بٹ پر تشدد کا معاملہ؛ مقدمہ درج ہونے پر سندھ بھر میں وکلا کی ہڑتال

رجب بٹ پر تشدد کا معاملہ؛ مقدمہ درج ہونے پر سندھ بھر میں وکلا کی ہڑتال

کراچی: رجب بٹ پر تشدد کے واقعے کے بعد سندھ بھر میں وکلا کی ہڑتال جاری ہے، جس کے باعث کراچی سٹی کورٹ میں عدالتی کارروائیوں کا جزوی بائیکاٹ کیا جا رہا ہے۔

وکلاء کا موقف اور احتجاج:

کراچی بار کے مطابق، وکلا کی ہڑتال اس وقت تک جاری رہے گی جب تک رجب بٹ اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج نہیں کیا جاتا۔سندھ بار کونسل نے بھی ہڑتال کا اعلان کیا اور رجب بٹ کے وکیل کی درخواست پر وکلاء کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی شدید مذمت کی۔ملیر بار ایسوسی ایشن نے بھی عدالتوں کے بائیکاٹ کا اعلان کیا، اور سندھ بھر میں وکلا کی جانب سے احتجاج اور عدالتی کارروائیوں کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری ہے۔
واقعے کی تفصیلات:

پیر کے روز رجب بٹ سٹی کورٹ پیش ہوئے، جہاں مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں درج مقدمے کی ضمانت کی درخواست پر سماعت کے دوران بعض وکیلوں نے ان پر تشدد کیا۔واقعے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ رجب بٹ پھٹی ہوئی قمیص میں جمع شدہ ہجوم کے درمیان سے گزر رہے ہیں۔بعد ازاں رجب بٹ کے وکیل میاں اشفاق کی درخواست پر ایڈووکیٹ ریاض علی سولنگی، ایڈووکیٹ عبدالفتاح اور 15 سے 20 دیگر وکیلوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔ ریاض علی سولنگی نے رجب بٹ کے خلاف مذہبی جذبات مجروح کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا تھا۔
تشدد اور پولیس پر اثرات:

مقدمہ درج ہونے کے بعد وکلاء نے سٹی کورٹ تھانے پر دھاوا بولا اور وہاں موجود ایس ایچ او کو تشدد کا نشانہ بنایا، ساتھ ہی پولیس اسٹیشن میں توڑ پھوڑ کی۔وکلاء نے ایم اے جناح روڈ پر 6 گھنٹے سے زائد دھرنا دیا اور عدالتی امور کے بائیکاٹ کے ساتھ پولیس کے سٹی کورٹ میں داخل ہونے پر پابندی عائد کر دی۔
کراچی بار کے ردعمل:
صدر کراچی بار عامر نواز وڑائچ کا کہنا ہے کہ پولیس نے کراچی بار کے وکلاء کی درخواست کے باوجود مقدمہ درج نہیں کیا، جس کے باعث وکلاء نے شدید احتجاج کیا اور عدالتوں میں کام روک دیا۔یہ واقعہ سندھ کی عدلیہ اور وکلاء برادری میں تنازع کی نئی کڑی کے طور پر سامنے آیا ہے اور شہر کی عدالتی سرگرمیوں پر گہرا اثر ڈال رہا ہے۔