رواں سال: 28,495 فائر ایمرجنسیز پر ریسکیو سروسز فراہم

 فائر فائٹنگ کے ذریعے 69ارب سے زائد کے ممکنہ نقصانات کو محفوظ بنایا
لاہور 5079، فیصل آباد 2079، راولپنڈی میں واقعات رپورٹ ہوئے
لاہور (خصوصی رپورٹ)سیکرٹری ایمرجنسی سروسز، ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا ہے کہ فائر ریسکیو سروس نے سال 2025 کے دوران پنجاب بھر میں28,495 آتشزدگی کے واقعات پہ ریسپانس کرتے ہوئے پروفیشنل فائر فائٹنگ کے ذریعے69ارب روپے کے متوقع نقصانات کو محفوظ بنایا۔ انہوں نے بتایا کہ 2025 میں آتشزدگی کے واقعات 2024 کی نسبت 3.34 فیصد زیادہ ہوئے جبکہ 2024 میں آتشزدگی کے واقعات میں 2023 کی نسبت 35 فیصد اضافہ ہوا تھا۔ ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ عمارتوں کے مالکان کوچاہیے کہ وہ پنجاب کمیونٹی سیفٹی بلڈنگ ریگولیشنز 2022 کے تحت جاری کردہ ہدایات کے مطابق عمارتوں میں سیفٹی اقدامات کو یقینی بنائیں، تاکہ بلند و بالا عمارتوں میں رہنے والے افراد احساس تحفظ محسوس کریں۔وہ گزشتہ روزایمرجنسی سروسز ہیڈکوارٹرز میں آتشزدگی کے واقعات پہ ریسپانس کے حوالے سے منعقدہ سالانہ آپریشنل کارکردگی اجلاس کی صدارت کر رہے تھے جس میں ایمرجنسی سروسز ڈیپارٹمنٹ کے سینئر افسران اور ونگز کے سربراہان نے شرکت کی جبکہ پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی افسران ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہوئے۔ پنجاب بھر کے ضلعی ایمرجنسی افسران نے سال 2025 کے اہم فائر و ریسکیو آپریشن، حادثات و ایمرجنسیز،کیس اسٹڈیز،درپیش چیلنجز، قابل ذکر اقدامات سمیت اپنی آپریشنل کارکردگی کے بارے میں آگاہ کیا۔اجلاس کے دوران ہیڈ آف آپریشنز نے فائر ایمرجنسیز کی سالانہ رپورٹ پیش کی، جس کے مطابق سال 2025 میں پنجاب بھر میں آتشزدگی کے 28,495واقعات میں1081 افراد زخمی اور 99 افراد جاں بحق ہوئے۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال2024کے مقابلے میں آتشزدگی کے واقعات میں 3.34 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق10,018 واقعات شارٹ سرکٹ، 5755 غفلت اور لاپرواہی، 1355گیس لیکیج،1315 موم بتی جلانے، 38 ایل پی جی سلنڈر دھماکوں، 340کچن فائر، 476 جنگلات میں آتشزدگی کے واقعات، 1472نامعلوم وجوہات جبکہ7726 آتشزدگی کے واقعات دیگر مختلف وجوہات کے باعث پیش آئے۔اعداد و شمار کے مطابق زیادہ تر آتشزدگی کے واقعات بڑے اضلاع میں پیش آئے جن میں لاہور میں 5079، فیصل آباد میں 2079، راولپنڈی میں 1689اور ملتان میں 1305 آتشزدگی کے واقعات رپورٹ ہوئے جبکہ سب سے کم آتشزدگی کے واقعات 255مری اور266 لیہ میں رپورٹ ہوئے۔فائر ایمرجنسیز کے تفصیلی جائزے کے بعد سیکرٹری ایمرجنسی سروسز، ڈاکٹر رضوان نصیر نے کہا کہ گھریلو فائر ایمرجنسیز، جو غفلت کے باعث پیش آتی ہیں، گیس ہیٹرز، کچن اسٹووز، موم بتیوں اور گھریلو آلات کے استعمال کے دوران سیفٹی اور احتیاط سے کم کی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے صنعتی اداروں کے مالکان پر زور دیا کہ پنجاب کمیونٹی سیفٹی بلڈنگ ریگولیشنز 2022 کے تحت جاری کردہ ہدایات کے مطابق عمارتوں میں حفاظتی اقدامات اور فائر ہائیڈرنٹ کے انسٹال کو یقینی بنائیں، تاکہ کسی ایمرجنسی کی صورت میں رہائشی افراد و عمارات محفوظ رہیں اور کسی کو بھی اپنی جان خطرے میں نہ ڈالنی پڑے۔ اس موقع پر انہوں نے فائر فائٹرز کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جو اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر دوسروں کے جان و مال کو محفوظ بناتے ہیں۔