متحدہ عرب امارات کی حکومت نے نئے سال کے موقع پر نجی شعبے میں کام کرنے والے اماراتی شہریوں کے لیے بڑا ریلیف پیکیج متعارف کرا دیا ہے، جس کے تحت کم از کم تنخواہ میں نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔
نئے فیصلے کے مطابق یکم جنوری 2026 سے نجی شعبے میں اماراتی ملازمین کی کم از کم تنخواہ 6 ہزار درہم مقرر ہو گی۔وزارتِ انسانی وسائل و ایمریٹائزیشن کے مطابق یہ فیصلہ ورک پرمٹ کے اجرا، تجدید اور ترمیم کے تمام مراحل پر لاگو ہو گا۔ وزارت نے واضح کیا ہے کہ تنخواہوں میں اضافے سے متعلق آجرین کو اسمارٹ ایپلیکیشنز اور دیگر سرکاری سروس چینلز کے ذریعے خودکار پیغامات بھی ارسال کیے جائیں گے تاکہ عملدرآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔وزارت کا کہنا ہے کہ یکم جنوری 2026 کے بعد اگر کسی اماراتی شہری کی تنخواہ مقررہ حد سے کم پائی گئی تو ایسے ملازم کے لیے نئے، تجدید شدہ یا ترمیم شدہ ورک پرمٹ کی کوئی درخواست منظور نہیں کی جائے گی۔
اس کے علاوہ اگر 30 جون 2026 تک تنخواہوں میں مطلوبہ اضافہ نہ کیا گیا تو یکم جولائی 2026 سے متعلقہ اداروں کے خلاف تادیبی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔حکام کے مطابق اس فیصلے کا مقصد نجی شعبے میں اماراتی شہریوں کے لیے روزگار کے مواقع کو مزید پرکشش بنانا اور ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانا ہے۔ واضح رہے کہ اس سے قبل نجی شعبے میں اماراتی شہریوں کے لیے کم از کم تنخواہ 5 ہزار درہم مقرر تھی، جس میں اب نئے سال کے آغاز پر ایک ہزار درہم کا اضافہ کیا گیا ہے۔