امیر جماعتِ اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت آئندہ تین سال کے لیے 225 روپے فی لیٹر فکس کی جائے تاکہ عوام کو مہنگائی کے دباؤ سے ریلیف مل سکے۔
کراچی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مہنگائی کے موجودہ دور میں نجی شعبے کے ملازمین کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا اور تنخواہوں میں بھی خاطر خواہ اضافہ نہیں کیا گیا۔ ان کے مطابق حکومت کو فوری طور پر پرائیویٹ سیکٹر کے ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرنا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ معاشی پالیسیوں کے باعث عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، جبکہ بجٹ میں تنخواہوں میں صرف 7 فیصد اضافہ کیا گیا ہے، جو ان کے مطابق بڑھتی ہوئی مہنگائی (تقریباً 8 فیصد) کے مقابلے میں ناکافی ہے۔حافظ نعیم الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ حکومت کا بڑا حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے اور اعلیٰ عدالتی احکامات کے باوجود سودی نظام کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔انہوں نے بجٹ کو “غیر مؤثر” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی نئی یا عوام دوست پالیسی شامل نہیں کی گئی، جبکہ بجلی کے مہنگے نظام اور انڈیپنڈنٹ پاور پروڈیوسرز (IPPs) کے حوالے سے بھی کوئی واضح حکمت عملی سامنے نہیں آئی۔
انہوں نے پیپلز پارٹی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں طویل عرصے سے حکمرانی کے باوجود سندھ میں تعلیم، صحت اور روزگار کی صورتحال بہتر نہیں ہو سکی۔ ان کے مطابق دیہی سندھ میں بنیادی سہولیات کی شدید کمی ہے جبکہ شہروں میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام بھی ناکافی ہے۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ بعض علاقوں میں سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے غلط استعمال کے ذریعے انتخابی اور سیاسی عمل متاثر کیا جا رہا ہے۔مزید برآں انہوں نے پیٹرولیم لیوی پر بھی اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام پر اضافی بوجھ ہے اور اسے فوری طور پر ختم کیا جانا چاہیے۔ ان کے مطابق عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کی شرائط کے تحت معاشی فیصلے عوامی مفاد کے بجائے دباؤ میں کیے جا رہے ہیں، جس سے معیشت مزید مشکلات کا شکار ہو رہی ہے۔