سندھ کے سینئر وزیر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما، شرجیل میمن نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ پیپلز پارٹی بھی یہ نہیں چاہتی کہ سیاسی ورکرز کا معاملہ ملٹری کورٹ میں جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کی پارٹی کی ایک ٹیم حکومت کے ساتھ مذاکرات کر رہی ہے، جبکہ دوسری ٹیم پاکستان کو بین الاقوامی سطح پر بدنام کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔شرجیل میمن نے الزام لگایا کہ کچھ عناصر نے آئی ایم ایف کو گمراہ کیا تاکہ پاکستان پر دباؤ ڈالا جا سکے اور اپنے مفاد کے لیے مدد حاصل کی جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کا موقف واضح ہے کہ ریڈ لائن بی آر ٹی منصوبے پر دن رات کام جاری ہے، اور کسی بھی عالمی فرم سے آڈٹ کرانے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس منصوبے میں کوئی تاخیر نہیں ہے، اور وہ مسائل جنہیں حل کرنا ضروری تھا، ان پر کام کیا جا رہا ہے۔سندھ کے وزیر نے مزید کہا کہ نگراں حکومت کے دوران ایک بھی کام مکمل نہیں ہوا، اور کچھ افسران کی کوتاہیوں کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
تاہم، انہوں نے اس بات کی وضاحت کی کہ جام صادق پل 2025 کے مارچ تک کراچی کے شہریوں کے حوالے کر دیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر کہیں کوئی مسائل نہیں ہیں تو ان پروجیکٹس کو وقت سے پہلے مکمل کیا جا رہا ہے۔شرجیل میمن نے کہا کہ کراچی کے پروجیکٹس اگلے 100 سال کے لیے بنائے جا رہے ہیں، اور وہ ان لوگوں کے بارے میں کچھ نہیں کہہ سکتے جو ان منصوبوں پر پوائنٹ سکورنگ کرتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سندھ حکومت نیک نیتی سے دن رات کام کر رہی ہے۔
وزیر نے اپنے خطاب میں میزائل ٹیکنالوجی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ٹیکنالوجی شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کو فراہم کی تھی، اور کسی بھی دشمن کو پاکستان کی طاقت کے بارے میں کوئی غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کسی بھی دشمن کی میلی نظر کا جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
آخر میں، شرجیل میمن نے نیا سال آنے کی خوشی میں تمام لوگوں کو مبارکباد دی اور دعا کی کہ نیا سال سب کے لیے خوشیوں اور بابرکت ہو۔ انہوں نے ہوائی فائرنگ سے اجتناب کرنے کی بھی درخواست کی کیونکہ اس سے جانی نقصان ہو سکتا ہے۔