سندھ کے سینئر وزیر شرجیل انعام میمن نے 9 مئی کے واقعات میں ملوث افراد کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی غلطیوں کا خمیازہ بھگتیں گے۔
کراچی میں 18 ویں بلڈ ایشیا نمائش کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ اگر میرے گھر میں کوئی داخل ہو کر توڑ پھوڑ کرے تو مجھے دفاع کا حق حاصل ہے، اسی طرح فوجی تنصیبات میں بھی داخل ہونے والوں کو قانون کے مطابق عدالتوں میں سزا ملنی چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ملٹری کورٹس پاکستان کا اندرونی معاملہ ہیں اور اس میں بیرونی مداخلت مناسب نہیں ہے۔شرجیل میمن نے مزید کہا کہ سیاستدانوں کے سیاسی کیسز مخصوص عدالتوں میں چلنا چاہیے اور حکومت نے غیر ملکیوں کے لیے ویزہ پالیسی نرم کر دی ہے، جس سے سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع پیدا ہو رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں تجارتی سرگرمیاں اور سرمایہ کاری کی صلاحیت ہے، اور ہمیں اپنی مصنوعات کو عالمی سطح پر متعارف کرانا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ میں فسادات کی وجہ سے سرمایہ کاری متاثر ہوئی تھی لیکن دہشت گردی اور جرائم پر قابو پا لیا گیا ہے۔وزیرِ اعلیٰ سندھ نے مزید کہا کہ عارف علوی سے پوچھا جائے کہ وہ اقتدار میں کیسے آئے اور صدر بنے، اور کہا کہ ایسے لوگ چاہتے ہیں کہ ان کے مخالف جیل میں رہیں۔ شرجیل میمن نے ٹریفک کے مسائل پر بھی بات کی اور کہا کہ ہیوی ٹریفک ایک سنگین مسئلہ ہے، اور ٹرک ڈمپر کی رجسٹریشن میں زیادہ تر مسائل موجود ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ مزید 100 ای وی بسیں کراچی میں متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ عوامی نقل و حرکت میں بہتری لائی جا سکے۔