جب تک پیپلز پارٹی ہے، سندھ اسمبلی نئے صوبے کی تقسیم کی قرارداد نہیں پاس کر سکتی:شرجیل میمن

جب تک پیپلز پارٹی ہے، سندھ اسمبلی نئے صوبے کی تقسیم کی قرارداد نہیں پاس کر سکتی:شرجیل میمن

کراچی: سینئر صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی سندھ میں ہے، صوبائی اسمبلی نئے صوبے کی تقسیم کی قرارداد پاس نہیں کر سکتی۔

شرجیل میمن جام صادق برج پر یلو لائن بی آر ٹی منصوبے کے ترقیاتی کاموں کا جائزہ لینے پہنچے، جہاں انجنیئرز، کنسلٹنٹس اور دیگر حکام نے انہیں منصوبے کی پیش رفت سے متعلق بریفنگ دی۔ اس موقع پر سیکرٹری ٹرانسپورٹ اسد ضامن اور یلو لائن بی آر ٹی کے پی ڈی ضمیر عباسی بھی موجود تھے۔میڈیا سے گفتگو میں شرجیل میمن نے کہا کہ یلو لائن بی آر ٹی کا کوریڈور اور جام صادق برج ٹائم سے پہلے مکمل ہو جائے گا، جس میں سائیکل اور پیدل چلنے والوں کے لیے بھی ٹریک بنایا گیا ہے۔ پل مکمل ہونے کے بعد پرانے پل کو گرایا جائے گا، جس سے ٹریفک کی روانی بہتر ہوگی۔انہوں نے بتایا کہ ریڈ لائن بی آر ٹی پر بھی کام جاری ہے اور اسے جلد مکمل کرنا مقصود ہے، یہ پروجیکٹ ورلڈ بینک کے تعاون سے ہو رہا ہے۔ اگلے ماہ ڈبل ڈیکر بسیں، ای وی بسیں اور پنک اسکوٹرز بھی مفت فراہم کیے جائیں گے۔

شرجیل میمن نے کہا کہ بلاول بھٹو سندھ کے مختلف شہروں میں عوام کو چھت فراہم کر رہے ہیں، خواتین کو گھروں کی ملکیت دی جا رہی ہے، اور یہ دنیا کے سب سے بڑے ہاؤسنگ منصوبوں میں سے ایک ہے۔کابینہ کی تبدیلی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ یہ وزیراعلیٰ سندھ کی صوابدید ہے اور کوئی بری بات نہیں۔ نئے صوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان میں نئے صوبے متعلقہ اسمبلیوں کی مرضی کے بغیر نہیں بن سکتے۔سیلاب کے بعد پنجاب میں مدد کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ سندھ حکومت ہمیشہ حاضر ہے اور اگر سندھ میں پانی آیا تو اس سے نمٹنے کے لیے بھی تیار ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ کراچی میں جاری اسکیمیں سندھ کے دیگر شہروں میں نہیں ہیں اور کراچی پر سب سے زیادہ بجٹ خرچ ہوتا ہے۔ شاہرہ بھٹو پروجیکٹ پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ پر ہے، اور یوٹیلٹی تبدیلی میں وقت لگنے کے باعث ریڈ لائن پروجیکٹس میں تاخیر ہو رہی ہے۔