کراچی ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ بہن بھائی کا مقدمہ خارج کرانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

کراچی ڈیفنس تشدد کیس: متاثرہ بہن بھائی کا مقدمہ خارج کرانے کیلئے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع

کراچی: ڈیفنس کے علاقے میں پارکنگ کے تنازع پر دو خاندانوں کے درمیان ہونے والے جھگڑے کے معاملے نے نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔

 مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والی خاتون نور العین اور ان کے بھائی نے اپنے خلاف درج ایف آئی آر کو کالعدم قرار دینے کے لیے سندھ ہائیکورٹ سے رجوع کرلیا ہے۔نور العین اور ان کے بھائی نے اپنے وکیل کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔ درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ درخشاں تھانے میں مریم رضا کی مدعیت میں درج ایف آئی آر جھوٹی، غیر قانونی اور حقائق کے منافی ہے۔درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ اصل میں ان کے ساتھ جارحیت کی گئی، تاہم بااثر افراد کے دباؤ اور ایما پر الٹا ان ہی کے خلاف مقدمہ درج کردیا گیا۔ ان کا مؤقف ہے کہ پولیس نے واقعے کے تمام پہلوؤں کو مدنظر رکھے بغیر کارروائی کی، اس لیے ان کے خلاف درج مقدمے کو ختم کیا جائے۔درخواست میں مقدمے کی مدعی مریم رضا کے علاوہ ایس ایچ او درخشاں، تفتیشی افسر، ایس ایس پی انویسٹیگیشن اور حکومت سندھ کو بھی فریق بنایا گیا ہے۔

ڈیفنس میں پارکنگ تنازع پر جھگڑا
واضح رہے کہ چند روز قبل کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پارکنگ کے معاملے پر دو خاندانوں کے درمیان شدید جھگڑا ہوا تھا۔ واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد معاملہ خاصی توجہ کا مرکز بن گیا۔وائرل فوٹیج میں ایک خاتون کو دوسری خاتون کے ساتھ مبینہ طور پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔ ویڈیو میں ایک بااثر خاتون کے ساتھ پولیس اہلکاروں کی موجودگی بھی دکھائی دیتی ہے، جس پر پولیس کے کردار اور مبینہ جانبداری سے متعلق سوالات اٹھائے گئے۔فوٹیج کے مطابق بااثر خاتون کے ساتھ موجود افراد نے دوسری خاتون کے گھر کے دروازے کو توڑنے کی بھی کوشش کی۔ اس دوران گھر کے باہر نصب سی سی ٹی وی کیمرے کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔واقعے کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد پولیس اہلکاروں کی مبینہ موجودگی اور ان کے کردار پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ معاملے نے اس وقت مزید اہمیت اختیار کی جب پولیس اہلکاروں کے مبینہ مس کنڈکٹ سے متعلق سوالات سامنے آئے۔

کراچی پولیس چیف کا نوٹس
واقعے کی وائرل ویڈیو کا نوٹس لیتے ہوئے کراچی پولیس چیف نے ویڈیو میں نظر آنے والے پولیس اہلکاروں کے مبینہ مس کنڈکٹ کی تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ متعلقہ حکام کو ہدایت کی گئی ہے کہ واقعے کے حقائق پر مبنی رپورٹ پیش کی جائے اور یہ واضح کیا جائے کہ موقع پر موجود پولیس اہلکاروں کا کردار کیا تھا اور انہوں نے اپنی ذمہ داریاں کس انداز میں انجام دیں۔اب معاملہ سندھ ہائیکورٹ تک پہنچنے کے بعد قانونی طور پر بھی اہم مرحلے میں داخل ہوگیا ہے۔ نور العین اور ان کے بھائی نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان کے خلاف درج ایف آئی آر کو غیر قانونی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔تاہم مقدمے کے دوسرے فریق کے الزامات، پولیس کی تفتیش اور عدالت کی جانب سے درخواست پر آئندہ کارروائی کے بعد ہی معاملے کی قانونی صورتحال مزید واضح ہوگی۔ وائرل ویڈیو میں دکھائی دینے والے واقعات اور فریقین کے مؤقف کی حتمی قانونی حیثیت کا تعین متعلقہ تفتیش اور عدالتی کارروائی سے ہوگا۔