ایران کی امریکا کے نئے حملوں کی شدید مذمت، اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو دفاعی حق قرار دے دیا

ایران کی امریکا کے نئے حملوں کی شدید مذمت، اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو دفاعی حق قرار دے دیا

تہران: ایران نے حالیہ امریکی فوجی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے جزیرہ لارک پر کیے گئے حملے کو ایک جائز دفاع قرار دیا ہے۔

 ایرانی وزارت خارجہ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ ایران نے امریکی کارروائی کے ردعمل میں اپنے دفاع کے فطری اور قانونی حق کے تحت کارروائی کی ہے۔ایرانی حکام کے مطابق، امریکی حملہ جزیرہ لارک پر کیا گیا، جس کے جواب میں ایرانی فورسز نے خطے میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ یہ کارروائی امریکی حملوں کا جواب ہے اور اسے اپنی سرزمین اور قومی سلامتی کے تحفظ کا حق حاصل ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ وہ ایسے حملوں کے جواب میں اپنی دفاعی صلاحیت استعمال کرتا رہے گا۔دوسری جانب، امریکا نے ایران کے خلاف اپنی کارروائیوں کو دفاعی نوعیت کا قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ان اقدامات کا مقصد آبنائے ہرمز میں ایرانی مبینہ طور پر بارودی سرنگیں بچھانے کے خطرے کو روکنا اور تجارتی جہازوں کی حفاظت کرنا تھا۔ امریکی حکام کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ ان کی کارروائیاں علاقائی امن و استحکام کے لیے ضروری تھیں۔

تہران اور واشنگٹن کے درمیان حالیہ دنوں میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کی حساس صورتحال کے پیش نظر۔ یہ راستہ عالمی توانائی کی درآمدات اور تاجر جہازوں کے لیے انتہائی اہم ہے، اور دونوں فریقین کی جاری کشیدگی خطے میں مزید تناؤ کا سبب بن سکتی ہے۔ ایران کی جانب سے اردن میں امریکی اڈوں پر کارروائی کو ’’جائز دفاع‘‘ قرار دینے سے ظاہر ہوتا ہے کہ تہران خطے میں اپنی جوابی کارروائیوں کو جاری رکھنے کا ارادہ رکھتا ہے۔