امریکا کے لارک آئی لینڈ حملے کا بدلہ، ایران نے اردن میں 2 امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے

امریکا کے لارک آئی لینڈ حملے کا بدلہ، ایران نے اردن میں 2 امریکی اڈوں پر میزائل داغ دیئے

تہران: امریکا کی جانب سے ایران کے لارک (Larak) جزیرے پر ایرانی راکٹ لانچرز کو نشانہ بنائے جانے کے بعد ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے اردن میں امریکی فوجی موجودگی رکھنے والے دو اڈوں کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

 یہ پیش رفت کئی ہفتوں کی نسبتاً خاموشی کے بعد امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست فوجی محاذ آرائی میں ایک نئی اور تشویشناک escalation قرار دی جا رہی ہے۔

امریکا کا لارک جزیرے پر حملہ
امریکی حکام کے مطابق امریکی افواج نے اتوار کو ایران کے لارک جزیرے پر موجود دو راکٹ لانچرز کو نشانہ بنایا۔ امریکی مؤقف ہے کہ پاسدارانِ انقلاب کے اہلکار ان لانچرز کو آبنائے ہرمز میں راکٹ داغنے اور سمندری بارودی سرنگیں بچھانے کے لیے تیار کر رہے تھے، جس سے بین الاقوامی بحری آمدورفت کو فوری خطرہ لاحق ہوسکتا تھا۔امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) نے کارروائی کو محدود اور درست کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد تجارتی جہازوں، شہری ملاحوں اور آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کو ممکنہ خطرے سے محفوظ رکھنا تھا۔ واشنگٹن نے اس کارروائی کو ایران کے خلاف وسیع پیمانے پر نئی بمباری کے آغاز کے طور پر پیش نہیں کیا۔

ایران کا سخت ردعمل
ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی حملے کے جواب میں ’’جارح کو سزا‘‘ کے نام سے کارروائی شروع کرنے کا اعلان کیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق ایرانی فضائی و میزائل فورس نے اردن میں موجود کنگ حسین اور الازرق فوجی اڈوں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ حملوں میں امریکی فوجی تنصیبات کے تکنیکی اور مرمتی انفراسٹرکچر کے علاوہ جنگی طیاروں کی تعیناتی سے متعلق مقامات کو نقصان پہنچا۔ ایران نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر اس کے خلاف مزید حملے کیے گئے تو وہ اس سے بھی زیادہ سخت جوابی کارروائی کرے گا۔تاہم ایرانی حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کے دعووں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی۔

اردن کا مؤقف: 8 میزائل مار گرائے گئے
دوسری جانب اردن کی فوج نے کہا ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے اردن کی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ میزائلوں کو روک لیا۔ اردنی حکام کے مطابق میزائلوں کو شہریوں اور املاک کے لیے خطرہ بننے سے پہلے ہی تباہ کردیا گیا۔ابتدائی اطلاعات کے مطابق حملوں میں کسی شخص کے زخمی یا ہلاک ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔ اس صورتحال سے یہ تاثر مضبوط ہوتا ہے کہ ایرانی حملے کے بڑے حصے کو اردن کے فضائی دفاع نے راستے ہی میں روک لیا، اگرچہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے امریکی فوجی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا۔

لارک جزیرہ اتنا اہم کیوں ہے؟
لارک جزیرہ آبنائے ہرمز کے قریب واقع ایک انتہائی اہم مقام ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم توانائی کے بحری راستوں میں شمار ہوتا ہے اور عالمی تیل کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اسی راستے سے گزرتا ہے۔اسی وجہ سے آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگیں، میزائل حملے یا بحری جہازوں کی نقل و حرکت میں رکاوٹ عالمی توانائی کی منڈیوں کے لیے فوری خطرہ بن سکتی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ لارک جزیرے پر کارروائی اسی ممکنہ خطرے کو روکنے کے لیے کی گئی۔ایران دوسری جانب آبنائے ہرمز پر اپنے مؤقف کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور امریکا کی جانب سے اس علاقے میں فوجی سرگرمیوں کو شدید مخالفت کا سامنا ہے۔

امریکا اور ایران کے درمیان دوبارہ براہِ راست محاذ آرائی
حالیہ حملوں کی خاص اہمیت اس لیے بھی ہے کہ یہ جولائی کے اواخر کے بعد ایران کے خلاف امریکا کی پہلی معلوم براہِ راست فوجی کارروائی ہے۔ اس سے قبل امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست حملوں کے بعد کئی ہفتوں تک نسبتاً کم فوجی سرگرمی دیکھی گئی تھی۔اب ایک ہی سلسلے میں پہلے امریکا نے ایران میں کارروائی کی اور اس کے بعد ایران نے اردن میں امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس صورتحال نے خطے میں ایک مرتبہ پھر وسیع جنگ کے پھیلاؤ کے خدشات پیدا کردیئے ہیں۔

عالمی تیل منڈی پر اثرات
تازہ فوجی کارروائیوں کے فوری اثرات عالمی تیل کی منڈیوں پر بھی دیکھنے میں آئے۔ رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے لارک جزیرے پر حملے اور ایران کے جوابی میزائل حملوں کے بعد تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا، کیونکہ سرمایہ کاروں کو آبنائے ہرمز کے ذریعے عالمی توانائی کی ترسیل میں مزید رکاوٹ کا خدشہ ہے۔اگر آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت مزید متاثر ہوتی ہے تو اس کے نتیجے میں خام تیل، پٹرول، شپنگ اور عالمی افراطِ زر پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

آگے کیا ہوسکتا ہے؟
موجودہ صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایران اور امریکا مزید جوابی کارروائیوں سے گریز کرتے ہیں یا تنازع دوبارہ وسیع فوجی محاذ میں تبدیل ہوجاتا ہے۔امریکا کا کہنا ہے کہ اس کی کارروائی محدود اور دفاعی نوعیت کی تھی، جبکہ ایران اسے جارحیت قرار دے کر جواب دینے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔ اگر دونوں ممالک مزید میزائل یا فضائی حملے کرتے ہیں تو اردن، خلیجی ممالک اور آبنائے ہرمز سمیت خطے کے دیگر امریکی فوجی اڈے بھی ممکنہ طور پر کشیدگی کی زد میں آسکتے ہیں۔اس لیے تازہ پیش رفت صرف امریکا اور ایران کے درمیان ایک محدود جوابی کارروائی نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ، عالمی توانائی کی منڈی اور بین الاقوامی بحری تجارت کے لیے ایک اہم خطرے کی علامت بن سکتی ہے۔